صرف ایک ٹویٹ ری ٹویٹ کرنے پر مسلمان خاتون پر دہشتگردی کا مقدمہ قائم کردیا گیا، اس میں ایسا کیا تھا؟ سوشل میڈیا پر کچھ بھی شیئر کرنے سے پہلے یہ انتہائی تشویشناک خبر ضرور پڑھ لیں

برطانیہ

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا پر بلا سوچے سمجھے دوسروں کی پوسٹ کو لائیک یا شیئر کر دینا کس قدر سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ اس برطانوی مسلمان خاتون پر پڑنے والی افتاد سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔یاہو ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق ویسٹ یارک شائر کے علاقے بیٹلے کی رہائشی 57سالہ ’میری کایا‘ نامی اس خاتون نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر کسی دوسرے شخص کی ایسی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کر دیا تھا جس میں شدت پسند تنظیم داعش کے سربراہ ابوبکرالبغدادی کی آڈیو تقریر کا لنک شامل تھا۔ کچھ عرصہ قبل میری کایا کے شوہر کو انسداد دہشت گردی پولیس نے گرفتار کیا تھا جس کے بعد میری کے ٹوئٹر اکاﺅنٹ کی بھی نگرانی کی جا رہی تھی۔

وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے بھتیجے کی طبیعت خراب، ہسپتال منتقل کردیا گیا

رپورٹ کے مطابق میری کایا کو لیڈز کراﺅن کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں اس نے بتایا کہ ”میرا اکاﺅنٹ کوئی اور استعمال کر رہا تھا، لنک کی حامل ٹویٹ کو ری ٹویٹ بھی اسی نے کیا تھا۔“ تاہم عدالت نے اس کے جواز کو مسترد کرتے ہوئے اسے 21ماہ معطل قید کی سزا سنا دی ہے۔ اس کی سزا 2سال تک معطل رہے گی جس کے بعد اسے جیل بھیج دیا جائے گا۔جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ”عدالت میں ایسے کوئی ثبوت فراہم نہیں کے گئے جن سے ثابت ہو سکے کہ میری کایا شدت پسندانہ خیالات کی حامل ہے یا اس سے عوام کو کوئی خطرہ ہو سکتا ہے، لہٰذا اسے خطرناک مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اس نے شدت پسندانہ مواد کی حامل ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا تھا جس پر اسے 21ماہ قید کی سزا دی جاتی ہے۔ سزا کے بعد اسے مزید دو سال تک زیرنگرانی بھی رکھا جائے گا۔“