’یہ کام میں نے اس لئے کیا کیونکہ پاکستان میں۔۔۔‘ برطانیہ میں نرس کے ساتھ انتہائی شرمناک حرکت کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر نے جج کو ایسی وجہ بتادی کہ جان کر ہر پاکستانی غصے سے آگ بگولا ہوجائے

برطانیہ

مانچسٹر(نیوز ڈیسک) کسی پاکستانی نژاد شہری کا بیرون ملک کسی جرم میں ملوث ہونا کوئی انوکھی بات نہیں ہے لیکن برطانیہ میں ایک پاکستانی نژاد ڈاکٹر نے ایک شرمناک جرم کے بعد اپنی جان بچانے کے لئے اپنے وطن پاکستان کے بارے میں ایسی گھٹیا بات کہہ دی ہے کہ جان کر آپ کا خون کھول اٹھے گا۔
مانچسٹر شہر کے ٹریفرڈ جنرل ہسپتال میں کام کرنے والے 44 سالہ ڈاکٹر عمران قریشی نے ایک زیر تربیت نرس کو جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔ جب اسے عدالت میں پیش کیا گیا تو کہنے لگا کہ ”پاکستانی کلچر میں اس بات کو برا نہیں سمجھا جاتا اور میں سمجھا کہ برطانیہ میں بھی ایسا ہی ہو گا۔“ ذرا تصور تو کیجئے کہ یہ بدبخت شخص شرم و حیا سے کس قدر عاری ہے۔ مغربی ممالک پاکستان کو روایتی اور قدامت پسند معاشرہ کہتے ہیں، اور یہ شیطان صفت وہاں جا کر کہہ رہا ہے کہ پاکستانی کلچر میں خواتین کی عزت پر ہاتھ ڈالنا برا نہیں سمجھا جاتا۔

ریپ کا شکار ہونے والی بھارتی لڑکیوں کے ساتھ ڈاکٹروں نے ایسا شرمناک ترین کام شروع کردیا کہ سن کر ہی انسان کانپ اٹھے
دی میٹرو کے مطابق ڈاکٹر عمران قریشی کی شہوت پرستی کا نشانہ بننے والی 21 سالہ نرس بھی مسلمان ہے۔ متاثرہ نرس نے عدالت کو بتایا ”میں ڈاکٹر قریشی کے کمرے میں ایک مریض کی فائل لینے گئی تھی۔ وہ مجھ سے کہنے لگے ’مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، میں تو تمہارے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہتا ہوں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنی شادی سے خوش نہیں ہیں اور میرے ساتھ تعلق استوار کرنا چاہتے ہیں۔ پھر وہ اپنی سیٹ سے اٹھے اور میرے جسم کو بیہودہ انداز میں چھونا شروع کردیا۔ میں نے انہیں روکنے اور پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی لیکن وہ مشتعل ہوگئے اور زبردستی میرے جسم کو چھونا جاری کھا۔“
بعدازاں نرس کی شکایت پر ڈاکٹر عمران قریشی کو ملازمت سے معطل کردیا گیا اور اس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ عدالت میں اس شخص نے انتہا درجے کی بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مﺅقف اختیار کیا کہ اس نے نرس کی عزت پر حملہ اس لئے کیا کیونکہ اس کی پرورش پاکستانی کلچر میں ہوئی ہے، جہاں ایسی باتوں کو برا نہیں سمجھا جاتا۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ اسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ برطانیہ میں اس بات کو جرم سمجھا جاتا ہے۔
عدالت نے بدبخت ڈاکٹر کو مجرم قرار دیتے ہوئے ایک سال کمیونٹی سروس کی سزا سنائی ہے، جبکہ قانونی اخراجات کی مد میں اسے بھاری جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسے پانچ سال تک جنسی مجرموں کے رجسٹر پر دستخط کرنے کا حکم بھی دیاگیا ہے۔