گگومنڈی: امام مسجد کی کمسن سالی سے بااثر عادی مجرموں کی زیادتی، فائرنگ

وہاڑی

وہاڑی (ویب ڈیسک) نواحی گاﺅں 273 ای بی کے امام مسجد حافظ تقی کے گھر رات قریب گیارہ بجے علاقہ میں دہشت کی علامت اوباش رانا ساجد اپنے ساتھیوں رانا الیاس، رانا عباس، کاشف عرف نکا ہانس اور دو نامعلوم اشخاص کے ہمراہ دیواریں پھلانگ کر داخل ہوگیا تھا اور گھر والوں کے سامنے ہی حافظ تقی کی 12 سالہ ذہنی مریضہ حفیظہ بی بی کو صبح پانچ بجے تک اپنی ہوس کا نشانہ بناتا رہا تھا ۔متاثرہ بچی حفیظہ بی بی کی والدہ رضیہ بی بی اور بہنوئی جامعہ مسجد فیضان مصطفی کے امام حافظ تقی حیدر نے بتایا کہ ملزمان رانا ساجد، رانا الیاس، رانا عباس اور کاشف عرف نکا ہانس انتہائی خوفناک اور ظالم بااثر ہیں جن کے خوف سے علاقہ کے تمام لوگ خوفزدہ ہیں اور مظلوم خاندان کا ساتھ دینے کو تیار نہ ہیں۔

روزنامہ خبریں کے مطابق دو روز قبل نواحی گاﺅں 273 ای بی کے امام مسجد حافظ تقی کے گھر رات قریب گیارہ بجے علاقہ میں دہشت کی علامت اوباش رانا ساجد اپنے ساتھیوں رانا الیاس، رانا عباس، کاشف عرف نکا ہانس اور دو نامعلوم اشخاص کے ہمراہ دیواریں پھلانگ کر داخل ہوگیا تھا اور گھر والوں کے سامنے ہی حافظ تقی کی 12 سالہ ذہنی مریضہ حفیظہ بی بی کو صبح پانچ بجے تک اپنی ہوس کا نشانہ بناتا رہا تھا جبکہ اس کے ساتھی اہل خانہ پر اسلحہ تان کر کھڑے رہے اور شدید ہوائی فائرنگ کرتے رہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اتنے بڑے گاﺅں کے دونوں نمبردار بھی مبینہ طور پر ملزمان کے خالف کسی قسم کی گواہی دینے خوف سے غائب تھے۔ ایک نمبردار محمد اشرف جٹ کے ڈیرے پر ان کے بیٹے محمد اکرم نے وقوعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ملزم رانا ساجد قتل اور ڈکیتی کے مقدمات میں ملوث رہا ہے، چند ماہ قبل رہا ہوکر آیا ہے البتہ اس کے دیگر دونوں بھائی شریف لوگ ہیں۔ نمبردار کے بیٹے نے کہا ہم نے یہاں رہنا ہے ہم کسی قسم کی کوئی گواہی نہ دیں گے۔

تفتیشی و انچارج چوکی رانا سعید اختر سے ملزمان کی گرفتاری کے ابرے میں دریافت کیا جنہوں نے بتایا کہ ایک ملزم کاشف عرف نکا ہانس کو گرفتار کرکے ڈیوٹی مجسٹریٹ افضل بھٹی کی عدالت سے پانچ یوم کا ریمانڈ جسمانی حاصل کرلیا ہے جبکہ مرکزی ملزم رانا ساجد وغیرہ نے عدالت ایڈیشنل سیشن جج بوریوالہ نوید خالق سلوترا کی عدالت سے ضمانت قبل گرفتاری 26 ستمبر تک کروالی ہے اور انہیں سنگین نتائج کی دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

سوسائٹی فار ہیومن رائٹس کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری چوہدری افتخار نے متاثرہ بچی کے کپڑوں کے لئے معالی معاونت بھی کی، سوسائٹی فار ہیومن رائٹس کے صدر میاں فہیم اقبال قاضی، ضلعی جنرل سیکرٹری راﺅ غفار علی خان، جنرل سیکرٹری خاتون میڈم نوشین ملک، تحصیل صدر میاں فقیر اللہ ایڈووکیٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور متاثرہ خاندان کی مالی امداد بھی کی جائے۔