’’میرے لعل تجھے تو میں نے دولہا بناناتھا اور تو حوروں کا دولہا بن گیا ‘‘ آپریشن ردالفساد میں شہید ہونے والے لیفٹیننٹ خاور کی والدہ کا اپنے بیٹے کے نام لکھا وہ خط جو نہ جانے کتنی ماؤں کا درد بیان کرتا ہے

دنیا میں ماں اور بیٹے کا رشتہ بڑا انمول ہوتا ہے ۔یہ ماں ہی ہے جو اپنے بیٹے کی تکلیف پر تڑپ اٹھتی ہے ۔جن ماؤں کے بیٹے انکی زندگی میں اللہ کے پاس چلے جاتے ہیں وہ صبرکا منوں بھاری بوجھ اپنے کلیجہ پر رکھ کر برداشت کرلیتی ہیں مگر ان کے آنسو خشک نہیں ہوتے۔پاک فوج کے شہیدوں کی مائیں عام ماؤں سے مخلتف ہوتی ہیں ۔وہ پہلے دن جب انہیں پاک فوج میں بھیجتی ہیں تو اسی وقت انہیں اس حقیقت کا ادراک ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو کس مقصد کے لئے پاک فوج کے سپرد کررہی ہے۔گزشتہ ایک دہائی سے پاک فوج کے ہزاروں جوانوں اور افسروں نے جہاں شہادتیں پاکر مادر وطن کو امن کا تحفہ دیا ہے وہاں انکی اپنی مائیں انہیں بہت یاد کرتی ہیں۔رد الفساد آپریشن میں شہید ہونے والے لیفٹیننٹ راجہ خاور کی والدہ نے اپنے بیٹے کی شہادت کے بعد اپنے بیٹے کی یاد میں ایک ایسادلگدازخط لکھا ہے جس میں ایک ماں کے درد کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔اس ماں کا لکھا ایک ایک لفظ ہر شہید کی ماں کی زبان بولتا نظر آتا ہے۔آزادکشمیرکے علاقہ کوئی رٹہ دھڑہ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ راجہ خاور اس سال مارچ میں بنوں میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔شہادت سے پہلے انہوں نے چار دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا تھا۔

ان کی والدہ کا یہ خط پاک فوج کے شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے والے فیس بک پیجز پرموجود ہے اس کوپڑھنے والوں نے شہید کی ماں کے درد کو محسوس کرتے ہوئے دل و جان سے انہیں حوصلہ دیا اور کہا ہے کہ ماں دلیر ہوتی ہے تو بیٹے دلیر ہوتے ہیں۔راجہ خاور شہید کی ماں نے لہو بھرے قلم سے ہچکیاں لیتے ہوئے اپنا جودرد بیان کیا ہے ،اسے آپ بھی یہ پڑھئے ۔
’’میرے شہید لعل ، تمہیں ہم سے بچھڑے آج پانچواں روز ہے مگر مجھے آج بھی یقین نہیں آتا کہ تم اب ہم میں نہیں رہے۔ میرے لعل تمہاری چاروں بہنیں بہت روتی ہیں۔ وہ تو تمہاری شادی کی تیاری کر رہی تھیں میں ان کو کیسے سمجھاؤں کہ ان کے بھائی کو توحوروں نے اپنا دولہا بنا لیا۔ اس نے تو اپنی شہادت کی دلہن کا ہاتھ تھاما اور جنت میں جا بیٹھا۔
میرے لعل وطن کی مٹی بھی ماں جیسی ہوتی ہے اس کی حرمت اپنی جان سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔اور حرمت کی حفاظت تبھی ہوتی ہے جب شہیدوں کے خون کی سرخی سے اس حرمت کی حفاظت کی جنگ لڑی جائے۔ مجھے فخر ہے کہ میں تمہارے جیسے بیٹے کی ماں ہوں۔
میرے شہید لعل مجھے یاد ہے ایک بار تم کھیلتے ہوئے گلی میں گر گئے تھے اور تمہارا گھٹنا چھل گیا تھا اور تم کتنا رو رہے تھے ۔تمہیں روتے دیکھ کر میں نے بھی رونا شروع کر دیا تھا۔ میری جان جب ان دہشت گردوں نے تم پر گولیاں برسائی ہوں گی تو تمہیں کتنا درد ہوا ہو گا ناں۔ مجھے پکارا تو ہو گا تم نے اس پل۔ کاش میں اس پل آکر تمہیں اپنی آغوش میں لے لیتی۔تمہارے ہر درد کو اپنے آنچل میں چن لیتی۔
سوچتی ہوں کہ میری جیسی کتنی مائیں اپنے بیٹوں کی شہادت کے بعد سینے پر شہید بیٹے کی شہادت کا اعزاز لگاکر میری طرح اپنے بیٹوں کے لئے کتنا تڑپتی ہوں گی۔آخر کب تک کبھی آپریشن ضرب الغضب اور کبھی آپریشن ردالفساد کے نام پر اپنے جوانوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔
تم کہا کرتے تھے کہ تم بزدلوں کی طرح نہ جی سکتے ہو اور نہ مر سکتے ہو تم نے واقعی صحیح کہا تھا۔تمھاری بہادری کی تو آج پوری قوم تعریف کر رہی ہے۔ تمہار ے سینے پر لگے گولیوں کے نشان میری آنکھوں کے سامنے سے نہیں ہٹتے۔میں کیا کروں میں ایک ماں ہوں نہ ، مجھے تمھارے سینے پر لگے زخموں کے نشان اور ان میں ہونے والا درد سونے نہیں دیتا۔
بہت دکھتا ہے میرا یہ کلیجہ ، میری تو خواہش تھی کہ مجھے لحد میں تم اتارتے۔ اب اگر میں مر جاؤں گی تو مجھے قبر میں کون اتارے گا۔ تمھارے باپ کے گزرنے کے بعد مجھے یہ یقین تھا کہ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو تم تو ہو مگر اب تو مجھے مرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔
میرے شہید لعل میں تمھارے لئے اداس نہیں ہوں مگر کیا کروں یہ دل یہ ہر پل تمھیں ہی پکارے جا رہا ہے ۔تمہیں دیکھنا چاہتا ہے تمھیں چھونا چاہتا ہے۔میں رونا نہیں چاہتی مگر میرے آنسو میرے بس میں نہیں ہیں۔ بس آخر میں صرف اتنا کہوں گی کہ ہر آتی جاتی سانس کے ساتھ بہت یاد آتے ہو ، دعا کرنا کہ اللہ مجھے بھی جنت میں تمھارے ساتھ رکھے۔ آمین