پاکستانی پرچم اور قائد اعظم کی تصویریں فریم کراکے تقسیم کرنے والا وہ کرنل شہید جس کا نام سنتے ہی دہشت گردوں پر کپکپی طاری ہوجاتی تھی

ضربِ عضب

صبا زیب
ملک و قوم کی خاطر زندگی کی پروا نہ کرنا ہمارے ملک کی فوج کے ہر سپاہی کا مقصد حیات ہے کہ وطن کی خاطر جانیں قربان کرنے والے اپنی آنے والی نسلوں کی بقا کے ضامن ہوتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی وطن پر قربان کر کے اپنے پیچھے رہنے والوں کے لئے باتوں اور یادوں کا ایک جہاں چھوڑ جاتے ہیں۔ جن کو بھولنا ان لوگوں کے لئے ناممکن ہوتا ہے۔ان کی زندگیوں کا محور صرف ان کی یادیں بن جاتی ہیں۔ وہ ان یادوں سے اپنا دامن بچانا چاہیں بھی تو نہیں بچا سکتے۔ قدم قدم پر ان کی باتیں یادوں کا روپ دھار کر آنکھوں میں آنسو لے آتی ہیں۔ ایسے ہی ایک شخص کرنل محمود اعجاز شہید تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک ایک پل اس ملک و قوم کی خدمت میں گزارا۔
کرنل محمود اعجاز شہید اپنی زندگی میں ہمیشہ وہ دوسروں کے کام آتے اور موت کے بعد اپنے پیچھے رہ جانے والوں کے لئے کبھی بھی خشک نہ ہونے والا یادوں کا ایک سمندر چھوڑ گئے۔ ایک طرف ان کے دادا ملک نور محمد خان ہیں جو اپنے اس پوتے میں اپنے مرحوم بیٹے کا غم بھولنے کی کوشش کرتے تھے اور دوسری طرف ان کی بیوی اور دو بچے ہیں جو زندگی کے ہر قدم پر ان کی کمی کو محسوس کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود باتیں کرتے ہوئے ان لوگوں کے سر فخر سے بلند ہو جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں کی چمک اور لہجے کی کھنک اس بات کی غماز ہے کہ انہیں کرنل اعجاز محمود کی اپنے پیارے ملک کی خدمت پر ناز ہے۔ وطن کا یہ مایہ ناز سپوت اپنی زندگی میں پاکستان کے دشمنوں کے سامنے سینہ سپر رہا۔ آج وہ اپنی جان وطن پر قربان کر کے سرخرو ہے۔
کرنل محمود اعجاز نے 1988 میں راولپنڈی ایف جی سرسید سکول مال روڈ سے امتیازی نمبروں سے میٹر ک کیا۔ انہیں ہاکی‘ کرکٹ اور باسکٹ بال کے علاوہ سوئمنگ کا بھی بہت شوق تھا۔ بلکہ باسکٹ بال کے تو وہ بہت اچھے کھلاڑی مانے جاتے تھے۔ اکتوبر1992 میں انہیں کمیشن ملا۔ ان کی پیرنٹ یونٹ ایس پی67 ائرڈیفنس تھی جہاں ان کے والد مرحوم کرنل محمداعجاز بھی تعینات رہے۔ اپنی عسکری زندگی میں دیگر مقامات پر تعیناتی کے علاوہ وہ 23 اکتوبر2014ءسے13 اگست2015ءتک آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ میں بھی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اسی دوران 12 جون 2015ءکو پروموشن بورڈ نے بطورِ کرنل منظوری دی اور کچھ ہی دنوں بعد ان کی پوسٹنگ بطورِ کمانڈنٹ ایف سی شوال رائفلز (شمالی وزیرستان) کر دی گئی۔
16 اگست 2015کو راولپنڈی سے براستہ پشاور رزمک پہنچے۔ ان کے چھوٹے بھائی لیفٹیننٹ کرنل جواد اعجاز بھی جنوبی وزیرستان میں ایک فیلڈ یونٹ کی کمان کر رہے ہیں اور رزمک سے تھوڑے فاصلے پر سال بھر سے مقیم ہیں۔کرنل محمود رزمک پہنچ کر بہت خوش تھے کیونکہ یہاں انہیں اپنے ملک کے لئے صحیح معنوں میں کام کرنے کا موقع مل رہا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اس علاقے میں دہشت گردوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک ہے۔ اس لئے وہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی تیاری میں ہر پہلو پر نظر رکھتے تھے تاکہ دشمن ان کی گرفت سے نکل نہ سکے۔ انہوں نے ہر پوسٹ کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنانے کی ہرممکن کوشش کی‘ ایسے ایسے راستے بنائے جن سے سپاہ کی حرکت خاص طور پر رات کے وقت بھی آسان اور محفوظ ہوگئی۔ جوانوں کی ٹریننگ پر خاص توجہ دی اور خود ہر مورچے پر گئے۔ان کی کمان اتنی مو¿ثر تھی کہ دہشت گرد ان کی ذمہ داری کے علاقے سے دور رہنے میں ہی عافیت جانتے تھے۔ وہ آپریشنز کے دوران ہمیشہ فرنٹ لائن پر رہتے۔ وہ چاہتے تھے کہ دشمن پر چلنے والی پہلی گولی ان کی ہو۔ وہ ملک سے جلد از جلد دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے تھے تاکہ پورے ملک میں امن وامان کی فضا قائم ہو۔

پاک فوج کے شہیدوں کی بیوائیں واویلا نہیں کرتیں بلکہ ۔۔۔
اس بات سے بے خبر کہ یہ دن ان کی زندگی کے آخری دن ہیں وہ اپنے کام اور اپنے مشن میں لگے رہے۔ ان کی اہلیہ ثروت محمود کا کہنا ہے کہ ہم تو ان کے ساتھ رزمک عید منانے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ ہماری یہ عید محمود کے ساتھ نہیں بلکہ ان کی یادوں کے ساتھ گزرے گی۔ میں اپنی بیٹی کے ساتھ عید کی شاپنگ کے لئے بازار میں تھی جب مجھے محمود کے چچا کی کال آئی کہ آپ اپنا کام ختم کر کے جلدی گھر پہنچیں۔ میں نے فوراً کرنل خالد کے گھر کال کی اور ان کی مسز سے پوچھا کہ سب خیریت ہے نا ںمحمود ٹھیک ہیں تو انہوں نے بھی مجھے گھر آنے کا کہا۔ اس وقت مجھے احساس ہو گیا کہ کچھ انہونی ہو گئی ہے۔ میں نے بظاہر خود کو بہت مضبوط کیا اور بیٹی سے کہا کہ جو بھی ہو ہم نے رونا نہیں۔ اپنے آپ کو ہر قسم کے حالات کے لئے تیار کرنا ہے۔ لیکن جب گھر پہنچ کر میں نے اپنے بیٹے کی حالت دیکھی تو پھر ضبط ختم ہو گیا۔ ہم جانتے ہیں کہ شہید مرتا نہیں وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ لیکن یہ احساس کہ محمود اب ہمارے ساتھ نہیں ہوں گے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کے رکھ دیتا ہے۔ محمود زندگی سے بھرپور تھے۔ وہ زندگی کا ہر دن اس طرح انجوائے کرکے گزارتے تھے جیسے یہ دن ان کی زندگی کا آخری دن ہو۔ رمضان المبارک میں ان کی نمازیں اور دعائیں بہت لمبی ہو تی تھیں۔ وہ ہمیشہ اپنی شہادت کی دعا کرتے تھے۔ اپنے ہر جاننے والے سے ملنے میں ہمیشہ پہل کرتے تھے۔ اپنی والدہ کی بے حد عزت کرتے اور ایک بیٹے کی حیثیت سے ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے۔ جب بھی ان سے ملنے جاتے ان کی پسند کی کوئی نہ کوئی چیز ضرور لے کر جاتے۔ رشتہ داروں کے گھر جب بھی جانا ہوتا ان کے لئے ہمیشہ کوئی منفرد تحفہ لے کر جاتے۔ اتنے نرم مزاج اور نرم دل تھے کہ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو جاتی تو ہمیشہ پیار سے سمجھاتے۔ ہر ایک کے سامنے مجھے عزت دیتے خاص طور پر اپنے سینئرز کے سامنے ہمیشہ میری تعریف کرتے۔ میں ہمیشہ ایک بات کہتی ہوں کہ میں نے زندگی میں شاید کوئی بہت بڑی نیکی کی ہو گی۔ جس کے انعام کے طور پر مجھے محمود جیسا اچھا شریک سفر ملا۔ ہمیشہ بچوں سے کہتے تھے کہ ماما کا خیال رکھنا۔ وہ خود بھی میرا بہت خیال رکھتے تھے۔ میری ہر ضرورت میرے کہنے سے پہلے پوری کر دیتے۔ شادی کے بعد میں نے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کیا ،یہاں بھی جگہ جگہ انہوں نے میری رہنمائی کی۔ اب ان کے نہ ہونے سے ہر جگہ ان کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ انہیں کراچی شہر بہت پسند تھا۔ وہ کہتے تھے کہ کراچی میں زندگی بھاگتی ہے۔ وہاں کی ہر مشہور جگہ پر مجھے اور بچوں کو لے کر گئے۔ اب ان کے نہ ہونے سے زندگی کی گہماگہمی ختم ہو گئی ہے۔ ہم تینوں مل کر کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی طرح زندگی گزارنے کا طریقہ آ جائے۔ ہماری زندگیوں میں زندگی لے کر آنے والے وہی تھے۔
ثروت کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان کے جھنڈے سے بہت لگاو¿ تھا اور قائد کی شخصیت اتنی پسند تھی کہ ان کی بہت سی تصاویر فریم کروا کر اپنے آفس اور گھر میں رکھ لیتے اور دوستوں اور ملنے والوں کو تحفتاً دیتے۔
کرنل محموداعجاز شہید کی بیٹی ابیہہ محمود مستقبل میں اپنے ابو کی طرح آرمی جوائن کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ابیہہ محمود کہتی ہے کہ ابو ہمیشہ ہماری پڑھائی پر توجہ دیتے اور تاکید کرتے کہ اچھے گریڈز لینے ہیں وہ چاہتے تھے کہ ہم ہمیشہ مقابلے میں شامل رہیں۔
ان کا بیٹا شہیر محمود کمپیوٹر سائنس میں او لیولز کر رہا ہے اور اپنی پڑھائی میں اپنے والد کی کمی کو بہت محسوس کرتا ہے۔ شہیر کہتا ہے کہ ابو مجھے سکول کے پروجیکٹس میں بہت مدد کرتے تھے۔ ساری معلومات خود اکٹھی کرکے دیتے تھے اور میں بہت اعتماد کے ساتھ کلاس میں پریزنٹ کرتا تھا لیکن اب جو معلومات میں لیتا ہوں ان کے بارے میں ہمیشہ کنفیوژ ہی رہتا ہوں کہ آیا جو میں لکھ رہا ہوں یا بول رہا ہوں وہ ٹھیک بھی ہے یا نہیں۔
کرنل محمود اعجاز کے دادا نے بتایا کہ وہ صوم و صلوٰة کی نہایت اہتمام کے ساتھ پابندی کرتے تھے۔ اذان سنتے ہی وہ سب کام چھوڑ دیتے اور نماز کی تیاری شروع کر دیتے۔ ہمیشہ اپنے گھر والوں کو بھی نماز پڑھنے کی تلقین کرتے۔ تلاوت کلام پاک اور تفسیر سے گہرا لگاو¿ رکھتے تھے۔ جہاں بھی تعینات رہے وہاں اپنے ماتحتوں، افسروں اور جوانوں کے ہردلعزیز رہے۔ ان کا وسیع حلقہ احباب اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ ایک شفیق افسر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مہربان دوست بھی تھے۔ کرنل محمود اپنی زندگی تو اپنے وطن کی خاطرقربان کر کے جاوداں ہو گئے۔ لیکن اپنے بچوں کی ذمہ داری اپنی شریک حیات کے سپرد کر گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اہلیہ کو صبر اور ہمت دے کہ وہ اپنے دونوں بچوں کی تعلیم و تربیت اپنے شہید شوہر کی خواہش کے مطابق کر سکیں۔آمین