خودکش بمبار کی شناخت اور پھر اسے پکڑ کر غیر مسلح کرنے کا طریقہ

ضربِ عضب

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں دہشتگردی کی حالیہ لہر میں جہاں سیکیورٹی فورسز سمیت کئی سویلین شہریوں نے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کیا اور دہشتگردی کی کوششیں ناکام بھی بنائیں وہیں یہ خطرہ ابھی مکمل طورپر ٹلا نہیں جبکہ کالعدم تنظیموں کی طرف سے پڑوسی ملک سے خودکش حملہ آور بھی پاکستان بھیجے جانے کے دعوے کیے جارہے ہیں ، ایسے میں شہریوں کے ذہن میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ خودکش بمبار کی شناخت کیسے کی جاسکتی ہے یا اگر کوئی پکڑا جائے تو اس کے ساتھ کیا کرناچاہیے تاکہ وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکے ، ایسے میں کچھ مفید معلومات ہیں جو آپ کو بھی معلوم ہونی چاہیں تاہم یہ حتمی نہیں ہیں کیونکہ دہشتگرد بھی نت نیا طریقہ اپناتے ہیں ، بہتر ہوگا کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا شخص کی اطلاع فوری طورپر سیکیورٹی فورسز کو دے کر محب وطن شہری ہونے کا ثبوت دیں ۔
خودکش بمبار کی شناخت
خودکش بمبار کی عمر عمومی طورپر 12سال سے زائد اور 30سال سے کم ہوتی ہے یعنی اوائل عمری میں ہی بھٹک جاتے ہیں،حملہ آور کا باریش ہوناضروری نہیں ، وہ کسی بھی حلیہ میں ہوسکتاہے ، کلین شیو بھی ہوسکتا ہے ، دہشتگرد نے موسم سے ہٹ کر لباس پہنا ہوگا ، پریشان اور بے چین ہوگا اور ہونٹوں پر بھی جنبش ہوسکتی ہے ۔
ڈیٹونیٹر یا ایکٹیویشن سسٹم کی شناخت
بارودی مواد کو اڑانے کے لیے کئی طرح کی تکنیکس کا سہار الیاجاتاہے ، اس کیلئے ڈیٹونیٹر یا کوئی دوسرا ایکٹیویشن سسٹم بھی ہوسکتا ہے ، پش بٹن کی صورت میں بمبار نے ایک مٹھی بند یاایک ہاتھ جیب پر رکھاہوگا۔پلیٹیں یا ننگے تاروں کی صورت میں شرٹ یا قمیض کی آستانیں ضروت سے زیادہ لٹکی ہوں گی ۔پارے کی صورت میں بازوکھول کر چل رہاہوگالیکن مٹھی کسی بھی صورت میں ہوسکتی ہے ۔
بمبار کو پکڑنے اور غیرمسلح کرنے کا طریقہ
دہشتگرد کی شناخت ہوجانے کی صورت میں سامنے اور پیچھے سے اس طرح قابو کریں کہ وہ بالکل کسی بھی قسم کی حرکت کرنے سے بھی معذور ہوجائے ، کنٹرول کرتے ہی شورمچادیں تاکہ وہاں سے ہجوم غائب ہوجائے اور پھر جتنی جلدی ہوسکےباروی مواد کو جسم سے الگ کریں،بیٹری اور تاروں کو کھینچ کر دھماکہ خیز مواد سے الگ کردیں۔یہ بھی یاد رکھیں کہ بمبار کو سرمیں گولی مار کر بھی اس کے مقصدسے روکا نہیں جاسکتا،کیونکہ انسانی دماغ چار سکینڈ کام کرسکتاہے اور یہ وقت بم کو پھاڑنے کے لیے کم نہیں۔ اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ اپنے آپ پر یقین نہ ہونے کی صورت میں کسی مشکوک شخص یا چیز کو نہ پکڑیں ،آپ کا یہ عمل خود آپ کے علاوہ دوسروں کیلئے بھی نقصان دہ ہوسکتاہے۔
نوٹ: یہ تجاویز حتمی نہیں ہیں اور حتی الامکان ان پر عمل کرنے سے بھی گریز کریں کیونکہ مہارت نہ ہونے کی وجہ سے نقصان کا اندیشہ ہوسکتا ہے ، بہترین عمل یہ ہے کہ دہشتگرد یا مشکوک اشیاءپر نظررکھیں اور جلد ازجلد متعلقہ اداروں کو اس کی اطلاع دیں تاکہ دہشتگردوں کی امن کو سپوتاژ کرنے کی کوشش ناکام بنائی جاسکے ۔