دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول ،جو زندگی بدل سکتا ہے ۔۔۔ پانچویں قسط

عرش کے سائے میں

ہم ہوا کے نرم و تیز جھونکوں کی مانند آگے بڑھ رہے تھے۔ اس چلنے میں کوئی مشقت نہ تھی بلکہ لطف آرہا تھا۔ نجانے ہم نے کتنا فاصلہ طے کیا تھا کہ صالح کہنے لگا:
’’عرشِ الٰہی کے سائے میں مامون علاقہ شروع ہونے والا ہے۔ وہ دیکھو! آگے فرشتوں کا ایک ہجوم نظر آرہا ہے۔ ان کے پیچھے ایک بلند دروازہ ہے۔ یہی اندر داخلے کا دروازہ ہے۔‘‘
میں نے صالح کے کہنے پر سامنے غور سے دیکھا تو واقعی فرشتے اور ان کے پیچھے ایک دروازہ نظر آیا۔ مگر یہ عجیب دروازہ تھا جو کسی دیوار کے بغیر قائم تھا۔ یا شاید دیوار غیر مرئی تھی کیونکہ دروازے کے ساتھ پیچھے کی سمت کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ گویا ایک نظر نہ آنے والا پردہ تھا جس نے دروازے کے پیچھے کے ہر منظر کو ڈھانپ رکھا تھا۔
تاہم اس کی بات سنتے ہی میرے قدم تیز ہوگئے اور فاصلہ تیزی سے گھٹنے لگا۔ دروازہ ابھی دور ہی تھا، مگر فرشتے واضح طور پر نظر آنے لگے تھے۔ یہ انتہائی سخت گیر اور بلند قامت فرشتے تھے جن کے ہاتھ میں آگ کے کوڑے دیکھ کر میں گھبرا گیا۔ میں نے صالح کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر اسے روکتے ہوئے کہا:
’’تم غالباً غلط سمت جارہے ہو۔ یہ تو عذاب کے فرشتے لگتے ہیں۔‘‘

دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول ،جو زندگی بدل سکتا ہے ۔۔۔ چوتھی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
’’چلتے رہو۔‘‘، اس نے رُکے بغیر جواب دیا۔
ناچار مجھے بھی اس کے پیچھے جانا پڑا۔ تاہم میں نے اتنا اہتمام کرلیا کہ اس سے دو قدم پیچھے رہ کر چلنے لگا تاکہ اگر پلٹ کر بھاگنے کی نوبت آئے تو میں اِس سے آگے ہی ہوں۔ صالح کو میرے احساسات کا اندازہ ہوچکا تھا۔ اس نے وضاحت کرنی ضروری سمجھی:
’’یہ بے شک عذاب ہی کے فرشتے ہیں۔۔۔‘‘
میں نے اس کی بات درمیان سے اچک کر کہا:
’’اور یہاں اس لیے کھڑے ہیں کہ آگے جانے سے قبل میری پٹائی کرکے میرے گناہ جھاڑیں۔‘‘
وہ میری بات سن کر بے اختیار ہنسنے لگا اور بولا:
’’دیکھو اگر پٹائی ہونی ہے تو تمھارا بھاگنا مفید ثابت نہیں ہوگا۔ کوئی شخص ان فرشتوں کی رفتار اور طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ویسے تمھاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ تمھارے لیے یہاں نہیں کھڑے ہیں۔ بلکہ یہ اس لیے کھڑے ہیں کہ خدا کا کوئی مجرم اگر اس سمت آنے کی کوشش کرے، تو اُسے اتنا ماریں کہ وہ دوبارہ اس طرف آنے کی ہمت نہ کرے۔‘‘
ہمارے قریب پہنچنے سے قبل ہی انہوں نے دو حصوں میں بٹ کر ہمارے لیے ایک راستہ بنادیا۔ ازراہِ عنایت انہوں نے یہ اہتمام بھی کردیا کہ کوڑوں کو اپنے پیچھے کرلیا۔ میرا خیال تھا کہ وہ ہمیں دیکھ کر مسکرائیں گے اور اظہارِ مسرت کریں گے، مگر کوشش کے باوجود میں ان کے چہروں پر کوئی مسکراہٹ تلاش نہ کرسکا۔ صالح کہنے لگا:
’’ان کی موجودگی کا ایک مقصد تمھیں اللہ کی اس نعمت کا احساس دلانا ہے کہ کس قسم کے فرشتوں سے تمھیں بچالیا گیا۔‘‘
بے اختیار میری زبان سے کلمۂ شکر و حمد ادا ہوگیا۔
ان کے بیچ سے گزر کر ہم دروازے کے قریب پہنچے تو وہ خود بخود کھل گیا۔ اس کے کھلتے ہی میری نظروں کے سامنے ایک پرفضا مقام آگیا۔ یہاں سے وہ علاقہ شروع ہورہا تھا جہاں عرشِ الٰہی کی رحمتیں سایہ فگن تھیں۔ روح تک اتر جانے والی ٹھنڈی ہوائیں اور مسحورکن خوشبو مجھے چھونے لگی تھیں۔ ہم دروازے سے اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ دور تک فرشتے قطار در قطارکھڑے تھے۔ ان کے چہرے بے حد دلکش تھے اور اس سے کہیں زیادہ خوبصورت مسکراہٹ ان کے چہروں پر موجود تھی۔ یہ ہاتھ باندھے مؤدب انداز میں کھڑے تھے۔ ہم جیسے ہی ان کے بیچ سے گزرے، دعا و سلام اور خوش آمدید کے الفاظ سے ہمارا خیر مقدم شروع ہوگیا۔ ان کے رویے اور الفاظ کی تاثیر میری روح کی گہرائیو ں میں اتر رہی تھی اور ان کے وجود سے اٹھنے والی خوشبوئیں میرے احساسات کو سرشار کررہی تھیں۔
یہاں داخل ہوتے ہی مجھے یہ محسوس ہوا کہ میرے اندر کوئی غیر معمولی تبدیلی آئی ہے۔ لیکن اس وقت میری ساری توجہ فرشتوں اور یہاں کے دلکش ماحول کی طرف تھی اس لیے میں زیادہ توجہ نہیں دے سکا کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے۔ میں اس کیفیت کو بس یہاں کے ماحول کا ایک اثر سمجھا۔
چلتے چلتے مجھے کچھ خیال آیا تو میں نے صالح کے کان میں سرگوشی کی:
’’یار یہ تو ٹھیک ہے کہ یہ لوگ مجھے کوئی نجات یافتہ شخص مان کر میرا استقبال کررہے ہیں، لیکن یہاں میری ذاتی واقفیت تو کوئی نہیں ہے۔ کیا یہاں تمھارا کوئی واقف ہے؟‘‘
میری بات سن کر صالح ہنستے ہوئے بولا:
’’عبد اللہ! آج ہر شخص اپنی پیشانی سے پہچانا جائے گا کہ وہ کون ہے۔ تمھیں علم نہیں مگر تمھارا پورا پورا تعارف تمھاری پیشانی پر درج ہے۔ تم دیکھتے جاؤ آگے کیا ہوتا ہے۔‘‘
قطار کے اختتام پر کھڑا ایک وجیہ فرشتہ، جو اپنے انداز سے ان سب کا سردار معلوم ہوتا تھا، میرے پاس آیا اور میرا نام لے کر اس نے مجھے سلام کیا۔ میں نے سلام کا جواب دیا۔ پھر وہ بہت نرمی اور محبت سے بولا:
’’ہمیشہ باقی رہنے والی کامیابی مبارک ہو!‘‘
میں نے جواب میں شکریہ ادا کیا ہی تھا کہ وہ دوبارہ بولا:
’’کیا آپ آئینہ دیکھنا پسند کریں گے؟‘‘
میری سمجھ میں نہیں آیا کہ اس نے یہ بات مذاق میں کہی تھی یا سنجیدگی سے۔ کیوں کہ اس وقت آئینہ دیکھنے کی کوئی معقول وجہ مجھے سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ تاہم اس نے میرے جواب کا انتظار نہیں کیا۔ ایک فرشتے کو اشارہ کیا اور اگلے ہی لمحے میرے سامنے ایک قدِ آدم آئینہ تھا۔ میں نے اس آئینے کو دیکھا اور مجھے یقین ہوگیا کہ اس نے میرے ساتھ مذاق کیا تھا۔ کیونکہ یہ آئینہ نہیں بلکہ ایک انتہائی خوبصورت اور زندگی سے بھرپور پینٹنگ تھی جس میں ایک خوبصورت نوجوان بلکہ شہزادہ شاہانہ لباس زیب تن کیے کھڑا تھا۔ یہ تصویر کسی بھی اعتبار سے تصویر نہیں لگ رہی تھی بلکہ یوں محسوس ہورہا تھا کہ جیسے آئینے کے سامنے کوئی انسان زندہ کھڑا ہوا ہے۔
میں نے اس فرشتے کی طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا:
’’آپ اچھا مذاق کرتے ہیں، مگر پینٹنگ اس سے زیادہ اچھی کرتے ہیں۔ مصور تو آپ ہی معلوم ہوتے ہیں، لیکن اس میں ماڈل کون ہے؟‘‘
فرشتے نے انتہائی سنجیدگی سے میری بات کا جواب دیا:
’’پینٹر تو ’المصور‘ یعنی مالک ذوالجلال ہے۔ البتہ ماڈل آپ ہیں۔‘‘
اس کے بعد اس نے صالح کو اشارہ کیا۔ وہ میرے قریب آیا اور میرا سر گھماکر دوبارہ پینٹنگ کی طرف کردیا۔ اس دفعہ پینٹنگ میں اس نوجوان کے ساتھ صالح بھی نظر آرہا تھا۔ میں حیرت سے کبھی صالح کو دیکھتا اور کبھی اس آئینے میں کھڑے دوسرے شخص کو جس کے بارے میں ان دونوں کی متفقہ رائے یہ تھی کہ یہ میں ہی تھا۔
’’مگر یہ میں تو نہیں!‘‘، میں نے بلند آواز سے کہا۔
جواب میں صالح نے یہ مصرعہ پڑھ دیا:
اے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو
’’لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟ میں تو ایک بوڑھا شخص تھا اور جوانی میں بھی کم از کم ایسا نہیں تھا!‘‘
اس دفعہ میری بات کا جواب فرشتے نے دیا:
’’آپ ناممکنات کی دنیا سے ممکنات کی دنیا میں آگئے ہیں۔ آپ انسانوں کی دنیا سے خدا کی دنیا میں آگئے ہیں۔ آج ہر شخص ویسا نہیں دکھائی دے گا جیسا وہ دنیا میں دوسرے انسانوں کو نظر آتا تھا۔ بلکہ آج ہر شخص ویسا نظر آئے گا جیسا وہ اپنے مالک کو نظر آتا تھا۔ اور مالک کی نظر میں انسانوں کی صورت گری ان کے گوشت پوست پر نہیں بلکہ ان کے ایمان و اخلاق اور اعمال کی بنیاد پر ہوتی تھی۔ آپ اسے دنیا میں جیسے لگتے تھے، ویسا ہی آج اس نے آپ کو بنادیا ہے۔ ویسے یہ عارضی انتظام ہے۔ آپ کی فیصلہ کن شخصیت اس وقت سامنے آئے گی، جب جنت میں آپ کے درجات کا فیصلہ حتمی طور پر ہوگا۔ سرِ دست تو آپ آگے جائیں۔ بہت سے دوسرے لوگ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔‘‘(جاری ہے)

دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول ،جو زندگی بدل سکتا ہے ۔۔۔ چھٹی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(ابویحییٰ کی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔ کئی ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوچکے ہیں۔ابو یحییٰ نے علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن کے ساتھ آنرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہیں جبکہ ان کا ایم فل سوشل سائنسز میں ہے۔ ابویحییٰ نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ قرآن مجید پر ایک تحقیقی کام کررہے ہیں جس کا مقصد قرآن مجید کے آفاقی پیغام، استدلال، مطالبات کو منظم و مرتب انداز میں پیش کرنا ہے۔ ان سے براہ راست رابطے کے لیے ان کے ای میل abuyahya267@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)