پی ٹی آئی کی ٹکٹیں اور مسلم لیگ(ن) کے ”حمایتی“ کالم نگار

پی ٹی آئی کی ٹکٹیں اور مسلم لیگ(ن) کے ”حمایتی“ کالم نگار
پی ٹی آئی کی ٹکٹیں اور مسلم لیگ(ن) کے ”حمایتی“ کالم نگار

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

طویل عرصے بعد دو چیزیں بڑی واضح نظر آرہی ہیں۔مضبوطی جمہوریت میں میڈیا کا مثبت کردار ، سیاسی بلوغت کے پھیلاﺅ میں پولیٹیکل پارٹیز کی سنجیدہ اپروچ۔ میڈیا نے نگران حکومتوں کی تشکیل کے دوران درپیش مراحل سے قوم کو لحظہ بہ لحظہ آگاہ رکھا۔ منتخب حکومت کی تاریخ رخصتی، نگران سیٹ اپ چناﺅ کا طریقہ کار اور متفق نہ ہونے کی صورت میںپارلیمانی کمیٹی، کمیشن کے اختیارات کی تشریح ۔ الغرض کروڑوں پاکستانیوں کو پہلی مرتبہ احساس ہوا عبوری عرصہ اقتدار کے آئینی تقاضے کس قدر سنجیدگی کے متقاضی ہوتے ہیں۔ بظاہر گزرا مہینہ کھینچا تانی سے بھرپور نظر آتا ہے ،لیکن اسی ٹینشن نے قوم کو سیاسی بصیرت کے اس پہلو سے بھی روشناس کروایا جسے گاہے بگاہے آنے والی آمریتوں نے چھپائے رکھا۔ اب قصبوں ، دیہاتوں اور شہروں میں بستے کروڑوں لوگ یہ جان چکے ہیں آمریت نہ صرف جمہوریت کو کچلنے کا نام ہے، بلکہ آمر اس تمام عمل کو بھی بلڈوز کر دیتا ہے جو پر امن انتقال اقتدار کا ضامن ٹھہرتا ہے۔ مستقبل میں کسی بھی آمر کو، من مانی کرنے سے قبل ہزار مرتبہ سوچنا پڑے گا، قوم کے تمام باشعور طبقات منتقلی اقتدار کے ایک ایک پہلو کو ازبر کر چکے ہیں۔ اب یہ تقریباً ناممکنات میں شامل ہو چکا ہے کہ آنے والی حکومت کو عرصہ اقتدار مکمل کرنے سے قبل غیر آئینی طریقے سے ہٹایا جائے۔ خدا کا شکر ہے پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی گرومنگ میں بھی دن بدن بہتری پیدا ہو رہی ہے۔ ۔ ان جماعتوں کے سیاسی شعور نے اس تمام غیر ملکی پروپیگنڈے کی بھی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جو چلا چلا کر باور کروارہا تھا ”پاکستان ناقابل حکمرانی ہو چکا ہے“۔

مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کا انفراسٹرکچر نئی تشکیل شدہ سیاسی جماعتوں کے لئے رول ماڈل کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ اس رول ماڈل سے فائدہ اٹھانے والوں میں پاکستان تحریک انصاف سب سے آگے نظر آرہی ہے۔ پارٹی قائد عمران خان اور ان کے کئی دیرینہ رفقاءکار مسلسل سیکھنے کے عمل سے گذر رہے ہیں۔ اگر عمران خان باقاعدہ سیاسی کلچر کا حصہ رہے ہوتے تو فقید المثال کامیابی کے ہما کو کبھی اڑنے نہ دیتے۔ جس طرح خلقت ان کی طرف متوجہ ہوئی۔ جیتنے والے امیدوار بڑی تعداد میںلپکے۔ نوجوانوں میں راتوں رات عمران فوبیا نمودار ہوا ، وہ انتہائی مثبت سیاسی اشارے تھے۔ بدقسمتی سے فقط سیاسی اپروچ کی کمی کے باعث ان اشاروں کو سمجھنے میں کوتاہی کی گئی۔ عام انتخابات کے لئے پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے کو دیکھئے۔ پاکستان تحریک انصاف نے بھی دوسری جماعتوں کی طرح ٹکٹوںکیلئے اخبارات میں اشتہارات دیے۔ بڑی تعداد میں عام لوگوں نے درخواستیں بھیجیں۔ ذہنی طور پر خود کو انٹرویو کے لئے تیار کیا، لیکن انٹرویو تو دور کی بات کسی نے ان سے فون پر بھی رابطہ کرنا گوارہ نہیں کیا۔

 چلیں اسے نظر انداز کرکے آگے باقاعدہ پارٹی ورکروں کی طرف سے ٹکٹ اپلائی کرنے کے معاملے کو دیکھتے ہیں۔ یہاں انٹرا پارٹی الیکشن میں جیتنے اور ہارنے والوں کی چپقلش نظر آتی ہے۔ پہلے نمبر پر تو ضلعی ہیڈ کواٹروں سے من مانی کی شکایات منظر عام پر آرہی ہیں۔ پھر ریجن میں پسند نا پسند اور ضلعی لسٹوں کے مقابل ریجن لسٹوں کا سلسلہ چل رہا ہے۔ آگے صوبائی قیادتوں میں پرانے نئے کی بحث ہو رہی ہے اور آخر میں پارلیمانی بورڈ بھی دھڑوں میں بٹ چکا ہے۔ بظاہر ہر پارٹی کو لگ بھگ انہی حالات سے گزرنا پڑ رہا ہے، لیکن چونکہ تحریک انصاف تبدیلی کا دعویٰ کرتی تھی، لہذا عوام کو توقعات تھیں وہ اس مرحلے کو زیادہ آسانی سے طے کر لے گی۔ یہاں سیاسی شعور کی کمی بڑی واضح نظر آرہی ہے۔ اگرچہ مسلم لیگ (ن) میں بھی ٹکٹوں کی تقسیم پر معاملات اٹھے، لیکن سیاسی تجرنے کی بناءپر میاں نوازشریف نے ،ریجنوں ، کمیٹیوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے سارا معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

ٹکٹوں کی تقسیم پاکستان تحریک انصاف کے مستقبل کو واضح کر دے گی۔ انتہائی معذرت کے ساتھ تحریک انصاف میں بدستور کارکن کم اور لیڈر زیادہ نظر آرہے ہیں۔ نجانے ورکر ابھی سے ہی یہ کیونکر باور کر بیٹھے ہیں کہ اگلا دور حکومت ہر حال میں انہی کا ہوگا؟ ابھی بڑی پیچیدگیاں نظر آرہی ہیں۔ حکمرانی کا حق تقریبا 1024 نشستوں پر مضبوط امیدوار فراہم کرنے والی جماعت کو ہی حاصل ہوگا۔ تحریک انصاف پاکستان بھر میں جیتنے والے امیدواروں سے قدرے دوری پر ہے۔ حتی کہ سنٹرل پنجاب ، جہاں بظاہر تحریک انصاف پورے زوروں پر کھڑی نظر آتی ہے، وہاں کئی حلقے بدستور مضبوط امیداروں کی راہ تک رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے پنجاب میں ٹکٹوں کی تقسیم کا معاملہ موخر کیا گیا تھا تاکہ (ن) لیگ ، پی پی پی سے انکاری امیدواروں کو ایڈجسٹ کیا جا سکے۔

اب یہیں ایک ایسا خوفناک مرحلہ نمودار ہوتا ہے۔ جس کا اگر بروقت تدارک نہ کیا گیا تو شاید تحریک انصاف کی بنیادیں ہل کر رہ جائیں۔ سوال یہ ہے کیا اپنے پرانے امیدواروں کے ہوتے ہوئے دوسری پارٹیوں کے مسترد شدہ امیدواروں کی طرف للچائی نظروں سے دیکھنا سودمند ہوگا؟ سندھ، بلوچستان میں تحریک انصاف کو کچھ نہیں ملے گا۔ خیبر پختونخواکی رائے عامہ انتخابات سے ایک ہفتہ قبل رجحان کی نشاندہی کرے گی۔ آ جا کے بچتا ہے 148 سیٹوں پر مشتمل پنجاب ۔ وہ پنجاب، جہاں جنوبی حصے کا ووٹر بدستور وڈیروں، جاگیرداروں اور گدی نشینوں کے قبضے میں ہے۔ جہاں ساہیوال سے اٹک تک مسلم لیگ(ن) فیصلہ کن برتری کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے اور جہاں اتحاد کے سائے میں رقصاں پی پی پی ، (ق) لیگ بچے کھچے دیہاتوں پر جھپٹنے کو تیار بیٹھی ہیں۔ ۔۔اب اس پنجاب میں تحریک انصاف کہاں نظر آرہی ہے؟ قصور میں ، جہاں بظاہر کایاں خورشید محمود قصوری اپنے پارٹی مقابل انٹیلیکچوئل سردار آصف کو چاروں شانے چت کر چکے ہیں؟.... لیکن حتمی فتح خورشید قصوری کے مقدر میں بھی نہیں ہوگی۔ یہاں بالآخر شیر ہی شکار کرے گا۔ شیر کے قدموں کی آہٹ سے قصور کے پرانے کارکنوں میں نوحہ گری ابھی سے شروع بھی ہوگئی۔ عمران خان کے ممدوحوں اور ناصحوں نے سیدھے سادے سیاسی ضابطوں کو پسند نا پسند کی جنگ میں بدل کر رکھ دیا۔

 کوئی شبہ نہیں پاکستان کے تقریبا ًہر چوتھے پانچویں گھرانے میں کوئی نہ کوئی تحریک انصاف کا حمایتی ضرور موجود تھا۔ ”تھا“ اس لئے کہ پاکستان تحریک انصاف کی غلطیوں نے ان حمائیتیوں کو دوبارہ اپنی پرانی پارٹیوں میں جانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس مرتبہ عمران خان نہ تو مخالفین پر کردار کشی کا الزام عائد کر سکتے ہیں، اور نہ ہی انہیں یہ شکوہ کرنا ہوگا کہ انتخابات کے آخری دنوں میں پاکستانی میڈیا نے حقائق کو ترجیح دینا شروع کر دی۔ شاید میڈیا کی بے لوث ہمدردی نے تحریک انصاف کو غلط فہمیوں کی وادیوں میں دھکیل دیا تھا۔ اب حالت یہ ہے کہ ہمارے جیسے نوجوان لکھاری اگر جائز تنقید کریں تو ان پر بھی بذریعہ فیس بک گھٹیا الزامات عائد کر دیے جاتے ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے یہ مسلم لیگ(ن) کے پے رول پر کام کر رہا ہے ، کبھی پیپلز پارٹی سے تانے بانے جوڑے جاتے ہیں اور کبھی ”بٹ“ برادری کی بنا پر میاں نوازشریف کا رشتہ دار کہا جاتا ہے۔ یہ سوچے بغیرکہ لندن سے میڈیا کا تعلیم یافتہ، بین الاقوامی سطح پر انگلش میں پرنٹ ہونے والا ناول نگار ،لفافوںجیسی بکواس کا مرہون منت نہیں ہوتا۔

تحریک انصاف کا اپنے حمایتی کالم نگاروں کے بارے میں کیا خیال ہے؟۔ وہ کالم نگار کرتے یوں ہیں کہ عذاب کی ساری وعیدیں میاں نوازشریف کے لئے ،جبکہ انعامات کی ساری بارشیں عمران خان کے لئے۔کبھی وہ اپنی تحریروں میں ماڈ سکاڈ عمران خان کو زرہ بکتروں ، گھوڑوں اور تلواروں کے دور میں لے جاتے ہیں اور کبھی حیران پریشان عمران خان کو افلاطون کی مانند مدبر اعظم کی کرسی پر بٹھا دیتے ہیں۔ جب کبھی عمران خان کی بے مثال ناکامی کا تذکرہ ہوگا تو تاریخ یہ ذکر کرنا کبھی نہیں بھولے گی کہ چند لکھاریوں نے عمران کی سوچ پر اس قدر غلبہ حاصل کر لیا تھا کہ اس بیچارے کو صبح سکندر اعظم، دوپہر کو چنگیز خان اور رات کو درویش بنا دیا جاتا ۔ تحریک انصاف کے قائدین کے لئے غور کرنے کامقام ہے، جب لکھنے والوں پر ایسے رکیک حملے کئے جائیں گے تو کس قدر شدید ردعمل پیدا ہوگا؟۔ فیس بک پر تو تحریک انصاف ملک کی مالک بن گئی لیکن عملا ایسا کچھ بھی نہیں۔ کارٹون بنانے اور مذاق اڑانے میں وقت ہی کتنا لگتا ہے؟۔ البتہ اقتدار کی طرف جاتا ہر ایک کلومیٹر، میلوں پر محیط ہوتا ہے۔کوئی تحریک انصاف کا دشمن نہیں۔ پھر یہ کیوں پھیلایا جا رہا ہے الیکٹرانک میڈیا، تین اخبارات، ایک درجن کالم نگارمسلم لیگ (ن) کے ہاتھوں بک گئے۔ نہیں اس طرح نہیں۔ زمینی حقائق کو یکطرفہ اور ایڈوانس پروپیگنڈے کے ذریعے نہیں بدلا جا سکتا۔ سادی حقیقت یہ ٹھہرتی ہے کہ پختہ سیاسی سوچ کی شدید کمی کے باعث تحریک انصاف خود ہی غلط فیصلے کر رہی ہے۔ غصہ کبھی میاں نوازشریف پر نکالا جاتا ہے ، کبھی پی پی پی تختہ مشق بنتی ہے اور کبھی ہم جیسے کالم نگاروں کو آنکھیں دکھائی جاتی ہیں۔ پھر کالم نگار کیوں نہ لکھے کہ میاں نواز شریف انتخابی مقبولیت کے آسمان پرپہنچ چکے ہیں۔کر لو جو کرنا ہے؟       ٭

مزید : کالم