ایران اور مغرب.... دوریاں، نزدیکیاں

ایران اور مغرب.... دوریاں، نزدیکیاں
ایران اور مغرب.... دوریاں، نزدیکیاں

  

پاکستان کے لئے مغرب اور ایران کے درمیان کشیدگی تشویش کا باعث ہے، کیونکہ یہ ہمارے خطے اور مشرق وسطیٰ کو متاثر کرتی ہے۔ ایران اور مغرب کے درمیان قازقستان میں26فروری کو جو مذاکرات ہوئے، ایران نے انہیں مثبت قرار دیا۔ مغرب نے اسے ”مفید“ کہا ہے، جس کے بعد دونوں فریق 18مارچ کو استنبول میں پھر مل بیٹھے اور اب قازقستان کے دارالخلافہ الماتے میں5-6اپریل کو ایک دور ہو گا۔ مذاکرات کا پہلا دور الماتے1تھا اور یہ دور الماتے2 کہلائے گا۔ اگرچہ الماتے1کو دونوں اطراف سے ”مثبت“ کہا گیا، لیکن زمینی حقائق کے مطابق ابھی بہت سی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔ بہرحال ایران کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی(P5+1) اس کی تجاویز سے کافی حد تک اتفاق کرتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ایران کے خلاف عائد شدہ پابندیاں آہستہ آہستہ پہلے نرم اور پھر ختم کر دی جائیں گی۔ دونوں اطراف سے ایسے اقدامات کئے جائیں گے، جن سے مذاکرات میں مثبت پیش قدمی ہو گی۔

ایران ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کے ساتھ علاقائی اور عالمی معاملات میں بھی اپنا کردار تسلیم کرانے کی کوشش کرے گا، جن میں بحرین اور شام بالخصوص شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عراق اور افغانستان بھی اس میں شامل ہیں۔ ایران کا مو¿قف ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو صرف سیاسی رنگ دے کر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ ان ممالک میں سیاسی استحکام لانا بہت ضروری ہے، جس سے اعتماد کی فضا بحال کرنے میں مدد ملے گی، اس کو ترجیحی بنیادوں پر رکھا جانا ضروری ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ان شاءاللہ آپ بہت جلد عائد شدہ پابندیوں کو پہلے نرم اور پھر ختم ہوتا دیکھیں گے.... لیکن دوسری طرف یورپین یونین کے مائیکل مان اور کیتھرائن ایشٹن کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایران پر عائد شدہ پابندیوں کو نرم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ کوئی بھی اپنے سارے پتے نہ ایک دم کھیلتا ہے ، نہ دکھاتا ہے۔ امریکی ترجمان نے کہا ہے کہ ایران فوری طور پر یورینیم، جس سے ایٹم بم تیار ہو سکتا ہے، پہلے قدم کے طور پر20فیصد کمی کرے اور یہ سارا انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن کی نگرانی میں طے پائے گا۔

ترجمان کے مطابق ” ایران کچھ لو کچھ دو“ کی شرائط رکھتا ہے، لیکن یہ این پی ٹی کے مطابق نہیں ہے، اس پر فی الحال ایران آمادہ نہیں ہے۔ خوش قسمتی سے جن شرائط پر غور کرنے کے لئے مذاکرات کا ایجنڈا تیار کیا گیا، کوئی بھی وجہ ایسی نہیں جو مذاکرات میں تعطل پیدا کرنے کا سبب بن جائے، جس سے فریقین کی سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس مسئلے کو مذاکرات سے ہی حل کرنا چاہتے ہیں اور اسرائیل کی طرف سے طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہ کرنے کی تجویز اور دباﺅ پر زیادہ توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ ایران کی طرف سے اپنے مو¿قف میں نرمی ظاہر کرنے کے باوجود اگر یہ مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہوتے ، تو اس کی وجہ صرف مغربی طاقتوں کی ہٹ دھرمی ہو گی۔ ابھی تک وہ ایک چال کے طور پر یہ مان رہے ہیں کہ نئی پابندیاں عائد نہیں کی جائیں گی، لیکن عائد شدہ پابندیوں کو نرم یا ختم کرنے کے لئے مغربی طاقتوں کا آپس میں باہمی مشورہ ہو گا اور تیل اور بینکوں پر پابندی بدستور برقرار رہے گی۔ سونے، میٹروکیمیکل اور چھوٹی موٹی تجارت کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

P5+1 کی طرف سے پہلے قدم کے طور پر ایران کو باقاعدہ اجازت دی جائے گی یا رعایت سمجھ لیں کہ 20فیصد یورینیم وہ کینسر کے مریضوں کے علاج کے لئے استعمال کر سکتا ہے.... (جو کہ ایران پہلے سے ہی کر رہا ہے).... لیکن اس کے لئے بھی سلامتی کونسل کی قرارداد میں تبدیلی کرنا ہو گی، لیکن حقیقی طور پر یہ رعایت کوئی معنی یا وزن نہیں رکھتی۔ اس وقت تک تو ایسے ہی معلوم ہوتا ہے کہ الماتے1شطرنج کی پہلی چال تھی، جو فریقین نے کھیل شروع کرنے کے لئے چلی ہے، ابھی پورا کھیل باقی ہے اور شطرنج میں ہر چال سے پہلے گھنٹوں اور دنوں کا وقفہ سوچ بچار کے لئے ہوتا ہے کہ دوسری طرف سے کس چال کے جواب میں کیا چال چلی جا سکتی ہے۔ الماتے2 میں فریقین کو ایک پیکیج تجویز کرنا ہو گا، جس میں مندرجہ ذیل اقدامات تجویز کئے جا سکتے ہیں:

ایران کی طرف سے جو وعدہ کیا جائے، اسے مجلس قانون ساز سے منظور کرایا جائے، جو این پی ٹی کے تقاضوں کے مطابق ہو۔ ایران کے روحانی لیڈر کی طرف سے فتویٰ جاری کیا جائے کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار کرنا درست نہیں ہے۔ ایٹمی توانائی کا پُرامن استعمال ہو گا اور دوسری تنصیبات مسلسل حرکت میں نہیں رکھی جائیں گی۔

2۔ ایٹمی توانائی کا پروگرام شفاف رکھا جائے گا اور آئی اے ای اے کے نمائندے پیشگی اطلاع کے بغیر جائزہ لے سکیں گے۔

1۔ اس کے جواب میں عالمی برادری کی طرف سے (جو صرف مغربی ممالک پر مشتمل ہے) قدم بہ قدم ایران پر عائد شدہ پابندیاں پہلے نرم اور پھر ختم کر دی جائیں گی۔

ایران کے پُرامن ایٹمی پروگرام اور حقوق کا احترام کیا جائے گا۔

3۔ این پی ٹی کے آرٹیکل4کے مطابق ایٹمی توانائی کے پُرامن پروگرام میں ہر قسم کا تعاون بھی مہیا کیا جائے گا۔ اس بڑے پیکیج پر بے شک چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھا کر ہی سہی، الماتے2 کے بعد آنے والے مذاکرات میں مزید پیش رفت کرنے کے لئے ابھی سے ہوم ورک کی ضرورت ہے۔

ایران ایک قدم پیچھے ہٹے اور نیک نیتی کا ثبوت دیتے ہوئے یورپین یونین اورP5+1عائد شدہ پابندیوں میں سے ایران کی تیل کیExport اور بینکوں کے ساتھ لین دین کی پابندیاں معطل کر دیں۔

”کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے“ کے مصداقLight at the end of tunnel نظر تو آئی، بے شک مدھم اور دھندلی سہی۔ یہ قریباً ایک دہائی کی مختلف حلقوں کی طرف سے سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ موجودہ صورت حال کو سفارتی زبان میںMore For More کہتے ہیں، جتنی رعائتیں ایران کی طرف سے ہوں گی، اُس کے مطابق اتنی رعائتیں اسے ملیں گی۔ حقیقت میں تو یہ سارا گند امریکہ کا ہی ڈالا ہوا ہے۔ خلیج میں امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے کی آنیاں جانیاں، سعودی عرب اور امارات میں جدید اسلحہ کا ڈھیر لگا دینا، جس نے اس خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ دیا تھا، اس کے بعد پاکستان ہی کی طرح ایران کے لئے ایٹمی طاقت بن جانا ہی واحد آپشن تھی، خاص طور پر ماضی میں امریکہ نے ہی شاہ ایران کو اس علاقے کا تھانیدار بنا دیا تھا۔ شاہ تو چلا گیا، لیکن ایران تو وہیں ہے۔ اتنی طاقت اور اتنا اثر رسوخ انجوائے کرنے کے بعد ایسی قوم کے لئے، جو اپنی ایک تہذیب، ایک تاریخ اور شاندار ماضی رکھتی ہے، یہ صورت حال قابل قبول ہو ہی نہیں سکتی تھی، جس صورت حال میں انہیں ڈال دیا گیا تھا۔ اُس کا نتیجہ یہی سوچ، یہی حکمت عملی ہو سکتی تھی اور ہوئی۔

آج عالمی طاقتیں (مغربی ممالک) ایران کو اس ہتھیار سے بھی محروم کرنا چاہتی ہیں، جو اُن کی سلامتی کے لئے ضروری ہے، ضمانت ہے۔ یہ بھی مطلب نہیں ہے کہ امریکہ فوری طور پر خلیج سے نکل جائے اور اپنے اتحادیوں سے قطع تعلق کر لے جیسا، اُس نے روس کے جانے کے بعد اس خطہ میں کیا تھا، لیکن اسے ایران کے خدشات سے بھی باخبر ہونا چاہئے اور وہ ہے۔ یہ سارا ڈرامہ امریکہ نے صرف اسرائیل کی سلامتی کو ممکنہ خطرے کے پیش نظر رچایا ہوا ہے۔ افسوس تو عرب ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور امارات پر ہوتا ہے، جو صرف امریکہ کے کہنے پر اربوں ڈالر اسلحہ کی خریداری پر صرف کر رہے ہیں کہ ہمیں ایران سے ڈر لگتا ہے، حالانکہ عقل کے اندھے بھی احساس کر سکتے ہیں کہ اگر ایران ایٹمی طاقت بن بھی جائے تو یہ کبھی کسی بھی عرب ہمسائے کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتی، لیکن یہ عرب ممالک امریکہ کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور امریکہ کے کان سے سنتے ہیں اور جتنی اجازت ہو اتنا سوچتے ہیں۔ امریکہ کو وہاں جموریت نظر آتی ہے۔

اُبھرتا ہوا چین شائد اس خطے میں امریکہ کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کر دے اور وہاں ایسے اقدامات کئے جائیں، جن سے سمندری راہ گزر کا واضح تعین ہو۔ سرحدی تنازعات کے حل کے لئے واضح اصول وضع کر لئے جائیں، فوجی مشقوں کے لئے پڑوسیوں کو پہلے سے ہی مطلع کیا جانا ضروری ہو تا کہ کوئی حادثہ کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ نہ بن جائے اور ”کچھ“ خاص قسم کا اسلحہ اس خطے میں لانے اور رکھنے پر پابندی ہو۔ ایران کے ساتھ ایٹمی پروگرام کے مسئلے پر سب سے کامیاب سفارت کاری یورپ کے تین اہم ممالک فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے کی تھی، جسےE.U.3 کا نام دیا گیا تھا۔2003ءسے 2005ءتک ایران نے اپنے پروگرام کو معطل رکھ کر تنصیبات کی انسپکشن کی اجازت دی اور محسوس ہونے لگا کہ کوئی ٹھوس مثبت نتیجہ نکل آئے گا۔ اس کی وجہ اُن کا، یعنیE.U.3 کا حقیقت پسندانہ احساس تھا کہ ایران درست طور پر اپنی سلامتی کو لاحق خطرات کی وجہ سے ایٹمی پروگرام شروع کرنے پر مجبور ہوا ہے، پڑوس میں جدید ترین اسلحہ کے انبار ہوں، تو؟ اسی وجہ سے انہوں نے صرف ایران کے ایٹمی پروگرام پر توجہ مرکوز نہیں ر کھی، بلکہ اس خطے کی مجموعی صورت حال کو مدنظر رکھا (اسرائیل یورپ پر اتنا اثر انداز نہیں، جتنا امریکہ پر ہے).... اس ٹیم کی کوششیں اس وقت ناکام ہوئیں، جب وہ ایران کو کوئی ٹھوس یقین دہانی کرانے میں کامیاب نہ ہو پائی اور ایران میں قدامت پسندوں کی کامیابی نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا، جن کا خیال تھا کہ ایران کامیابی سے پابندیوں کا سامنا کر لے گا۔

یہ صورت حال آج بالکل مختلف ہے۔ ایران تنہائی کا شکار ہے۔ پابندیوں نے ایران کی معیشت پر بُرے اثرات ڈالے ہیں۔ روس اور چین بھی عالمی دباﺅ کے حمایتی بن گئے ہیں، قدامت پسند بھی اب حقیقت پسند ہو گئے ہیں۔ آج کے حالات میں دونوں طرف سے تبدیلی محسوس ہو رہی ہے۔ بڑی طاقتیں محسوس کر رہی ہیں کہ پابندیوں سے ہٹ کر ایران کے معاشی، خصوصی طور پر سلامتی کے بارے میں خدشات کا احترام بھی ہونا چاہئے۔E.U.3 کے سوچنے کا انداز اور حکمت عملی ہی کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے۔ حالیہ مذاکرات میں انہی کے تجربہ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف کر لیا گیا ہے کہ صرف روائتی اسلحہ پر انحصار ایران کے لئے کافی نہیں ہے، صرف معاشی پابندیوں کے ساتھ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ ایران کے خدشات بھی دُور کئے جانے ضروری ہیں۔ دونوں جانب سے حقیقت پسندانہ رویہ اس امید کی بنیاد ہے کہ الماتے1 سے شروع ہونے والے مذاکرات بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوں گے اور مغرب، ایران کی دوریاں ،نزدیکیوں میں تبدیل ہونا شروع ہو جائیں گی۔   ٭

مزید : کالم