نجم سیٹھی: صحافت کی چڑیا سے اقتدار کی غلام گردشوں تک!

نجم سیٹھی: صحافت کی چڑیا سے اقتدار کی غلام گردشوں تک!
نجم سیٹھی: صحافت کی چڑیا سے اقتدار کی غلام گردشوں تک!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جناب مجیب الرحمن شامی نے نگرانوں کو نگرانی کا پیغام دے کر گویا ان تک قوم کی آواز پہنچا دی ہے۔ قوم یہ تو نہیں جانتی کہ نگرانوں کا تقرر اور ورودِ مسعود کس طرح ہوا ہے، البتہ یہ توقع ضرور رکھتی ہے کہ صاف و شفاف انتخابات کے لئے ان پر جو ذمہ داری ڈالی گئی ہے، اس سے وہ پوری دیانتداری اور بھرپور صلاحیتوں کے ساتھ عہدہ برآ ہوں گے۔ نگرانوں میں سب سے دلچسپ انتخاب نجم سیٹھی کا ہے۔ پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کا معاملہ سب سے آخر میں نمٹایا گیا اور قرعہ فال ان کے نام نکلا۔ سوشل میڈیا پر ان کے مختلف کارٹون پیش کئے جا رہے ہیں، جن میں ان کے سر پر انکل سام کی ٹوپی اور ہاتھ میں امریکی چھڑی بھی دکھائی جاتی ہے۔ خود نجم سیٹھی اس بات سے انکار کر چکے ہیں کہ ان کے انتخاب میں کسی بھی طرح امریکہ کا کوئی ہاتھ ہے۔ نجم سیٹھی اپنے کالموں اور ٹی وی پروگراموں میںہمیشہ اپنی ایک مخبر چڑیا کا ذکر کرتے رہے۔ یہ چڑیا ہمیشہ اقتدار کی غلام گردشوں میں جنم لینے والی کہانیوں کی خبر لائی، اب جبکہ نجم سیٹھی خود ان غلام گردشوں میں شامل ہوگئے ہیں تو ان کی یہ چڑیا کون سا نیا ”روزگار“ ڈھونڈتی ہے، اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا۔

نجم سیٹھی صاحب نے اگرچہ اپنے انتخاب میں امریکی مداخلت یا دلچسپی کے امکان کو رد کر دیا ہے، مگر حقیقت یہی ہے کہ ان کے چیف منسٹر بننے پر امریکی بہت خوش ہوئے ہوں گے۔ اُن کی امریکہ نوازی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں وہ واحد کالم نگار تھے، جنہوں نے کھل کر اُس کے خلاف کارروائی کی مخالفت کی ۔ اُسے جاسوس کی بجائے سفارت کار ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا، حالانکہ بعد ازاں یہ حقیقت سامنے آگئی کہ ریمنڈ ڈیوس کے پاس سفارتی تشخص نہیں تھا، بلکہ وہ سی آئی اے کا ایجنٹ اور اس کے لئے پاکستان میں کام کر رہا تھا۔ جناب مجیب الرحمن شامی نے تو شاید ازراہِ تفنن یہ نکتہ اٹھایا کہ جب نگران وزیراعلیٰ کا حلف اٹھاتے ہوئے نجم سیٹھی نظریہءپاکستان کی روح، یعنی اسلامی نظریے کی پاسداری کا فقرہ پڑھ رہے تھے، تو گورنر ہاو¿س کے پنڈال میں موجود روشن خیالوں کے چہرے دیدنی تھے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس چار دن کی وزارت اعلیٰ نے سیٹھی صاحب کی شخصیت میں وہ تبدیلیاں بھر دی ہیں جو شاید زندگی بھر ان سے دور ہی رہتیں۔

صحافت کی چڑیا بہت آزاد اور خود مختار ہوتی ہے، لیکن اقتدار کی چڑیا ایک ایسے پنجرے میں بند ہوتی ہے جو باہر سے بہت کشادہ، مگر اندر سے بہت تنگ اور ناہموار ہوتا ہے۔ نجم سیٹھی کو نگران وزیراعلیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد یہ بات تو اب ہمیشہ کے لئے یاد ہو چکی ہوگی کہ پاکستان میں اقتدار کے لئے نظریہءپاکستان میں چھپی اس کی روح، یعنی اسلامی نظریے پر ایمان لانا پڑتا ہے۔ کوئی ترقی پسندی ، روشن خیالی اور آزادیءاظہار اس حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتی۔ نجم سیٹھی کی چڑیا صحافت سے اقتدار میں کیا آئی، سارا منظر ہی تبدیل ہوگیا۔ جب تک چڑیا صحافت کے دائرے میں تھی، نجم سیٹھی خود کو لبرل اور روشن خیال ثابت کرنے کی تگ و دو کرتے رہے۔ بھارت سے دوستی کا ڈول ہو یا امریکہ سے دوستی کا ڈھول، وہ کسی سے پیچھے نہیں رہے، مگر نگران وزیراعلیٰ بنتے ہی انہیں یوٹرن لینا پڑ گیا۔ وہ شاید پہلے بھی کبھی چادر چڑھانے داتا دربار گئے ہوں، مگر اُس کی انہوں نے کبھی تشہیر کی اور نہ تبلیغ، تاہم نگران وزیراعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد وہ داتا دربار گئے، چادر چڑھائی اور دعا مانگی۔ یوں تو داتا کی نگری میں آنے والا کوئی بھی حکمران اس روایت سے باہر نہیں گیا، لیکن نجم سیٹھی یہ نہ بھی کرتے تو کسی کو حیرت نہ ہوتی، البتہ اب حیرت ضرور ہوئی ہے کہ وہ کس تیزی کے ساتھ خود کو مذہبی ”انتہا پسندی “کے قریب لے آئے ہیں۔

جناب نجم سیٹھی کی ذہانت اور موقع شناسی پر تو دو رائے ہو ہی نہیں سکتیں۔ وہ ایک انتہائی باخبر اور حالات کی نبض پر ہاتھ رکھ کر بات کرنے والے تجزیہ کار ہیں۔ ان سے زیادہ اس بات کو کون جانتا ہے کہ پنجاب میں مذہبی قوتیں بہت بڑی حقیقت ہیں اور اگر انہیں ذرا سا بھی شائبہ ہو کہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ پر ایک ایسا شخص براجمان ہے جو لبرل ازم پر یقین رکھتا ہے تو نگران شاید چار دن بھی نہ چل سکے۔ سو انہوں نے خود کو ایک معتدل مزاج اور متوازن حکمران ثابت کرنے کے لئے پہلی فرصت میں منصورہ کا دورہ کیا۔ عام حالات میں شاید ہی وہ وہاں جاتے۔ جماعت اسلامی کے رہنماو¿ں سے مل کر انہوں نے ایک ایسا چھکا لگایا، جس نے ان کی پوزیشن کو مضبوط کر دیا، حتیٰ کہ امیر جماعت اسلامی منور حسن بھی ان کی تعریف کرنے پر مجبور ہوگئے۔ نجم سیٹھی کی چڑیا اگر انہیں یہ قدم اٹھانے کا مشورہ نہ دیتی تو جلد ہی یہ طوفان اٹھنا تھا کہ صدر آصف علی زرداری نے ایک آزاد خیال، امریکہ نواز اور پاکستان کے اسلامی تشخص پر یقین نہ رکھنے والے شخص کو نگران وزیراعلیٰ بنا کر صوبے میں اسلام دشمن طاقتوں کو انتخابات میں جتوانے کی راہ ہموار کی ہے۔ اپنی شخصیت پر لگی لبرل ازم کی گہری چھاپ کو نجم سیٹھی نے بڑی خوبصورتی سے ایک ماڈریٹ اسلامی شخصیت کے تاثر میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ بات ان کی ذہانت کا پتہ دیتی ہے۔

اچھی یا بُری حکمرانی تو بعد کی بات ہے، تاہم سیاسی طور پر اپنی شخصیت کو قابلِ قبول بنانے کے لئے انہوں نے جس تیزی سے اقدامات اٹھائے، اس سے انہیں معاملات پر گرفت رکھنے میں بڑی مدد ملے گی۔ شریف برادران، چودھری برادران، جماعت اسلامی کی قیادت اور عمران خان سے اُن کی ملاقاتیں گہرے اثرات کی حامل ہیں۔ ایک صاحب نے یہ دلچسپ در فنطنی چھوڑی کہ نجم سیٹھی نے سب سے ملاقاتیں کیں، سوائے پیپلز پارٹی کے، جس سے یہ لگتا ہے کہ ان کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے، جبکہ میرا استدلال اس سے مختلف ہے۔ نجم سیٹھی نے اب تک صرف سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے ملاقات کی ۔ پیپلز پارٹی کا سربراہ آج کل کون ہے، کسی کو کچھ پتہ نہیں، کیونکہ لاہور ہائیکورٹ میں صدر کے دو عہدوں کے خلاف کیس میں ان کے وکیل وسیم سجاد کہہ چکے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری نے پارٹی کے شریک چیئرپرسن کا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔ بہرحال جب نجم سیٹھی صدر مملکت سے ملنے جائیں گے تو پیپلز پارٹی سے تجدیدِ عہد بھی ہو جائے گی۔

مجھے نجم سیٹھی کی نگران وزیراعلیٰ کا حلف اٹھاتے ہی کی جانے والی یہ بات بہت مناسب لگی کہ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے احکامات پر من و عن عمل ہوگا۔ پچھلے پانچ برسوں کے دوران عدالتی احکامات پر حکمرانوں کے رویے کو دیکھتے ہوئے جب کسی نگران وزیراعلیٰ کی طرف سے یہ سر تسلیمخم نظر آتا ہے تو یک گو نہ اطمینان ہوتا ہے کہ اب بے لگام اختیارات کی وہ صورت نظر نہیں آئے گی جو فساد پھیلاتی رہی ہے۔ بلاشبہ نجم سیٹھی اور دیگر نگران حکمرانوں کی بنیادی ذمہ داری تو یہی ہے کہ وہ شفاف و غیر جانبدارانہ انتخابات کو یقینی بنائیں، تاہم اگر اس دوران وہ عوام کو اچھی حکمرانی کا ذائقہ بھی چکھا دیں تو یہ ان کی عنایت ہوگی۔ خاص طور پر نجم سیٹھی صاحب اگر اپنی باخبر چڑیا سے کام لے کر یہ پتہ کرائیں کہ خلقِ خدا صوبے میں امن وامان، سرکاری محکموں کی بدانتظامی اور پولیس کے ہاتھوں کس عذاب سے گزر رہی ہے تو ان کے لئے آسانی ہوگی کہ وہ اپنی مختصر مدت میں عوام کو تھوڑا بہت ریلیف دے سکیں۔ نجم سیٹھی وعدے کے مطابق صوبے کا نیا آئی جی لگوانے میں کامیاب رہے ہیں، اب انہیں ٹاسک بھی دیں کہ عوام کو پولیس کے مظالم اور چیرہ دستیوں سے نجات دلائیں۔ نجم سیٹھی نے صوبے کی انتظامی مشینری کو بدلنے کا عندیہ دیا ہے، لیکن ان سے زیادہ اس حقیقت کو کون جانتا ہے کہ چہرے بدلنے سے مشینری نہیں بدلتی، جب تک پورے عزم کے ساتھ تبدیلی کی بنیاد نہ رکھی جائے۔ سیاسی جماعتیں تو تبدیلی کی بات کر رہی ہیں۔ نجم سیٹھی کو اپنے عملی اقدامات سے تبدیلی کی بنیاد رکھ کر یہ ثابت کر دینا چاہئے کہ صحافی صرف تبدیلی کے خواب ہی نہیں دیکھتے، اس کو تعبیر بھی بخش سکتے ہیں۔   ٭

مزید : کالم