پاکستانی جرنیلوں کا ضمیر بیدار کرنے کی کوشش (1)

پاکستانی جرنیلوں کا ضمیر بیدار کرنے کی کوشش (1)

روزنامہ ”پاکستان“ کا 26مارچ 2013ء(منگل) کا شمارہ میرے سامنے ہے۔ اس کے ادارتی صفحات میں اشرف قریشی صاحب کا کالم ”نیو یارک سے ایک خط“ کے لوگو (Logo) کے ساتھ شائع ہوتا ہے۔ قریشی صاحب بڑی باقاعدگی سے لکھتے ہیں اور مَیں بڑی باقاعدگی سے ان کا قاری ہوں۔ وجہ اس ”باقاعدگی“ کی یہ ہے کہ ان کے موضوعات میں جدت بھی ہوتی ہے اور تنوع بھی اور ان کا اسلوب ِ نگارش قاری کو ساتھ لے کے چلتا ہے۔ اگرچہ وہ ایک عرصے سے لکھ رہے ہیں، لیکن ان کے کالموں کے آخر میں ان کا تعارف ان الفاظ میں درج ہوتا ہے۔ (اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اِس وقت نیو یارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹریبون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں) .... امریکہ میں تو اور بھی کئی پاکستانی نژاد صحافی رہتے ہیں اور صحافت ہی کے پیشے سے منسلک ہیں، لیکن اشرف قریشی صاحب کو مَیں اس گروہ میں ایک سربر آوردہ اور کہنہ مشق صحافی گردانتا ہوں اور ان کی نگارش میں معلومات اور نئے پن کے جو عناصر ہوتے ہیں، وہ مجھے اُن کی تحریر کی طرف باقاعدگی سے کھینچتے رہتے ہیں۔

جس کالم کا مَیں نے اوپر ذکر کیا ہے وہ دو اقساط میں شائع ہوا ہے اور اس کا عنوان ہے:”وکی لیکس: معلومات لیک کرنے والے امریکی فوجی کا چشم کشا بیان....“ .... اس عنوان میں شائد ”امریکی فوجی“ کے الفاظ نے مجھے ہمہ تن محو ہو کر اس کے مطالعے پر اکسایا۔ پہلے دو پیرا گراف پڑھنے کے بعد جب دوسرے پیرا گراف کے آخری فقرے پر پہنچا تو وہ یہ تھا:” اس آڈیو کے ٹرانسپکرٹ کو اس توقع کے ساتھ پیش کر رہا ہوں کہ ہمارے وہ فوجی جرنیل بھی کوئی سبق سیکھ سکیں جن کے ضمیر جاگ اُٹھتے ہیں، لیکن بہت تاخیر کے ساتھ۔“

کالم کے اس فقرے پر پہنچ کر تو مَیں ”مزید“ ہمہ تن محو ہو گیا کہ دیکھیں اشرف قریشی صاحب کس امریکی جرنیل کا ذکر کرتے ہیں کہ جو پاکستانی جرنیلوں کے ضمیر بیدار کرنے کا سبب بنتا ہے، خواہ تاخیر کے ساتھ ہی سہی.... میرے انہماک کی دوسری وجہ یہ ہوئی کہ مَیں جس امریکی فوجی کو بریڈلے میننگ (Bradley Manning) کے نام سے میڈیا کے توسط سے جانتا تھا، وہ تو محض ایک پرائیویٹ (سپاہی) تھا جو عراق کی حالیہ جنگ میں ایک انفنٹری بریگیڈ میں پوسٹ تھا۔ اس کی رسائی امریکی محکمہ ¿ دفاع کے اس خفیہ ترین مواد تک تھی جس میں عراق اور افغانستان کی حالیہ جنگوں میں بے گناہ سویلین بچوں، عورتوں اور بوڑھے مسلمانوں پر مظالم توڑنے کا ریکارڈ بھی محفوظ تھا۔ وہ اپنے پیٹی بھائیوں یعنی امریکن ٹروپس کی سنگدلی اور معصوم عرب بچوں پر امریکی فوجیوں کی ظالمانہ فائرنگ کی تفاصیل پڑھتا اور انہیں ویڈیو پر دیکھتا رہا اور پھر اس کا ضمیر جاگ اُٹھا .... اور یہ سب کچھ اس نے وکی لیکس کو دے دیا جس نے یہ دا ستان، انٹرنیٹ پر اَپ لوڈ کر کے امریکی فوج کے اس اخلاق باختہ پہلو کو ساری دُنیا میں نشر کر دیا۔

جب مَیں نے اس آرٹیکل کی دوسری قسط ختم کی تو سخت حیران ہوا کہ اشرف قریشی صاحب نے اپنے ”انٹرو“ میں جو پاکستانی جرنیلوں کے ضمیر کی خوابیدگی کا شکوہ کیا تھا اور امید کی تھی کہ بریڈلے میننگ کی کہانی پڑھ کر شائد اُن کے ضمیر جاگ جائیں گے تو اس کا ذکر کہاں ہے.... میری طرح جس قاری نے بھی ”امریکی فوجی“ اور ” پاکستانی جرنیلوں“ کے حوالے ان کالموں میں پڑھ کر مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ہو گی، اس کو شدید مایوسی یا تعجب ہوا ہو گا کہ اشرف قریشی صاحب نے جس مقصد (Aim) کے تحت یہ تحریر زیب ِ قلم کی تھی، وہ مقصد کہاں ”فوت“ ہو گیا؟

میری ایک اور ابزرویشن اشرف قریشی صاحب کے کالم پر یہ بھی ہے کہ جو سٹوری انہوں نے اس میں بیان کی ہے، وہ کتنے پاکستانیوںکو معلوم ہو گی؟.... کتنے قارئین ہوں گے جو بریڈلے میننگ، ڈیوڈ فنکل، گُڈ سولجرز، سِگ ایکٹ، ڈبلیو ایل او وغیرہ جیسی تنظیموں اور شخصیات کو جانتے ہوں گے؟ پاکستانی پریس میں اس سٹوری کی تفاصیل کہاں شائع ہوئیں؟ اور ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے اس واقعہ کو کیا اہمیت دی اور کیا رپورٹنگ کی ؟.... مجھے100فیصد یقین ہے کہ بہت ہی کم پاکستانیوں کو مندرجہ بالا قصے اور ان کرداروں کا علم ہو گا۔.... اس لئے مَیں نے مناسب جانا کہ قریشی صاحب کے کالم کا سلیس اُردو میں ”ترجمہ اور تشریح“ نذرِ قارئین کر دوں۔

پہلے کہانی کے مرکزی کردار بریڈلے میننگ (Bradley Manning) کا ذکر کرتے ہیں جس کے ٹرانس سکرپٹ کا اُردو ترجمہ کالم نگار نے ان دو اقساط میں دیا ہے۔....

میننگ کی عمر26سال ہے۔19برس کی عمر میں امریکن آرمی جوائن کی ۔ اس کا رینک پرائیویٹ فرسٹ کلاس(PFC) ہے جو پاکستان آرمی میں نائیک کے برابر ہوتا ہے۔ یونٹ کا نام2بریگیڈ (10ماﺅنٹین ڈویژن) ہے۔ آج کل گرفتار ہے۔ اس پر فوج کے خفیہ رازوں کو افشاءکرنے کا الزام ہے جس کی سزا 20 سال تک ہو سکتی ہے۔ جون2013ءمیںاس کا کورٹ مارشل شروع ہونے والا ہے۔.... لیکن یہ اجمال، تفصیل چاہتا ہے۔

قارئین کو جب تک میننگ کے بچپن سے لے کر فوج میں شمولیت تک کا پس منظر معلوم نہ ہو گا تب تک وہ کہانی کے اس مرکزی کردار کے جرم کی نوعیت سے بے خبر رہیں گے.... امریکی فوج کا کوئی پرائیویٹ جس کی نوکری صرف تین برس ہو، وہ اتنے بڑے جرم کا ارتکاب نہیں کر سکتا جس کا ذکر آپ آگے چل کر پڑھیں گے.... (اسے مئی 2010ءمیں عراق کی جنگ کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ تب اس کی سروس صرف تین برس ہی تھی)۔

اس کے جرم کی سنگینی کا اندازہ لگایئے کہ اس نے امریکی آرمی کی ڈیٹا بیسز(Data Bases) سے اڑھائی لاکھ سفارتی خطوط اور پانچ لاکھ انتہائی خفیہ فوجی رپورٹوں کے ریکارڈ کو وکی لیکس کے حوالے کیا۔ ان رپورٹوں میں ”عراقی وار ڈائری“ اور ”افغان وار ڈائری“ کے نام بھی شامل ہیں۔ ایسی حساس اور خفیہ معلومات امریکی تاریخ میں کسی نے بھی آج تک اتنی بڑی تعداد میں افشا نہیں کیں۔.... وکی لیکس والے ان رپورٹوں اور سفارتی خط و کتابت کو آٹھ ماہ (اپریل تا نومبر2010ئ) تک میڈیا پر بے نقاب کرتے رہے ۔ میننگ کی گرفتاری کے بعد پہلے تو اسے قید ِ تنہائی میں رکھا گیا،بعد میں اسے عام جیل میں بند کر دیا گیا۔ اس پر آرمی نے جو فرد جرم عائد کی ، وہ22الزامات پر مشتمل تھی، جن میں سے اس نے 10کا اقرار کر لیا۔ اگر وہ باقی 12الزامات کا اقرار نہ بھی کرے تو ان تسلیم شدہ دس جرائم کی سزا 20سال قید مشقت تک ہو سکتی ہے۔....

میننگ پکڑا کس طرح گیا، یہ ایک چشم کشا داستان ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کا ایک دوست ایڈرین لامو (Adrian Lamo) جو ایک ماہر فن کمپیوٹر ہیکر (Hacker) کے طور پر مشہور تھا، سلطانی گواہ بن گیا اور اس نے وزارت ِ دفاع میں جا کر میننگ کے بارے میں سب کچھ اگل دیا کہ اس نے کس طرح خفیہ ترین عسکری اور سفارتی راز، ڈیٹا بیس سے ڈاﺅن لوڈ کر کے وکی لیکس کے حوالے کئے۔ ان دستاویزات میں وہ آڈیو اور و یڈیو فلمیں بھی تھیں جن میں 12جولائی2007ءکو امریکی سولجرز کے ہاتھوں بغداد کے نواح میں ایک اپاچی ہیلی کاپٹر سے فائرنگ کر کے زمین پر لیٹے ہوئے بے گناہ عراقی شہریوں کو ہلاک کرتے دکھایا گیا تھا۔ہلاک شدگان میں بچے بھی شامل تھے۔ اس ویڈیو میں گولیاں چلانے والے امریکی ٹروپس کو دیوانہ وار قہقہے لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور بعض مناظر اتنے دلدوز ہیں کہ ناظر ان کو دیکھ کر لرزنے لگتا ہے.... مگر امریکیوں کے قہقہے گونجنے بند نہیں ہوتے۔

ایک اور ویڈیو اور آڈیو گرانائی ائر سٹرائک کی بھی ہے۔ گرانائی(Granai) افغانستان کے ایک بڑے گاﺅں کا نام ہے جو جنوب مغربی افغانستان میں صوبہ فراہ میں واقع ہے۔ اس پر4مئی2009ءکو امریکہ کے بی ون بمباروں نے بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں 147 لوگ مارے گئے تھے اور بہت سے زخمی ہو گئے تھے۔ مرنے والوں میں 97افغان بچے اور باقی عورتیں یا بوڑھے لوگ شامل تھے۔ نوجوان اور لڑکے بالے کھیتوں میں کام کرنے گئے ہوئے تھے اور ابھی گھروں کو واپس نہیں لوٹے تھے۔ اس فضائی حملے کی ویڈیو بھی بی ون میں نصب کیمروں کی مدد سے تیار کی گئی تھی جو امریکی فوج کے خفیہ ریکارڈ میں محفوظ کر لی گئی۔ میننگ نے اس کو بھی وہاں سے نکال کر وکی لیکس کے حوالے کر دیا۔ جب اس ظلم اورسفاکی کی مُنہ بولتی تصویریں میڈیا میں شائع اور نشر ہوئیں تو خود امریکہ میں بھی اپنے ” محبِ وطن سپوتوں“ کی کرتوتوں کا پردہ چاک ہونے لگا۔ پینٹاگون والے حیران تھے کہ ان انتہائی خفیہ معلومات کو کس طرح چرایا گیا اور پھر کس طرح وکی لیکس نے انہیں ساری دنیا میں پھیلا دیا۔ افغانستان، عراق اور اسلامی ممالک کو تو چھوڑیں، خود امریکہ میں لاکھوں لوگ سوال کرنے لگے کہ یہ سب کچھ کیا ہے؟.... کیا ہماری فوج وہاں کسی دشمن سے برسرِ جنگ ہے یا بے گناہ معصوم بچوں اور عورتوں کو قتل کرنے گئی ہوئی ہے؟.... کیا امریکی آرمی کی سینئر کمانڈ کے سینے میں دل نہیں ہے؟.... یہ سارا ریکارڈ کس گھر کے بھیدی نے نیٹ پر چڑھایا ہے؟.... کیا اب اس کے بعد وزارت ِ دفاع کا انتہائی حساس اور انتہائی خفیہ (کلاسیفائڈ) ریکارڈ محفوظ سمجھا جا سکتا ہے؟.... کیا سمندر پار لڑنے والے امریکیوں کا مورال اتنا گر چکا ہے کہ وہ جھلاّ کر نہتی سویلین آبادیوں کو قتل کرنے پر اُتر آئے ہیں؟ .... یہ اور اس قسم کے کئی سوالات بہت سے امریکیوں کو پریشان کرنے لگے اور جب لامو (Lamo) نے بریڈلے میننگ کا نام اور کام فاش کیا تو لوگ اور بھی حیران ہوئے کہ کیا21 برس کا ایک چھوکرا جس کی سروس دو تین برس ہو، وہ اتنے اہم ملٹری رازوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے؟.... فوج کے انٹیلی جنس ادارے کہاں سو رہے تھے؟.... میننگ کی پشت پر کون کون سے دشمن عناصر تھے جن کی مدد سے یہ ریکارڈ حاصل کیا گیا؟ وغیرہ وغیرہ

2010ءمیں میننگ کی گرفتاری کے بعد جب تحقیقات کی گئیں تو راز کھلا کہ واقعی یہ سب کچھ اکیلے اس21سالہ چھوکرے نے خود کیا تھا.... لیکن کیسے کیا، اس کی کوالی فی کیشن کیا تھی، اس نے کس طرح امریکی فوج کی ڈیٹا بیسز(Data Bases) تک رسائی حاصل کی ۔.... یہ ایک اور چشم کشا داستان ہے۔

(جاری ہے)  ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...