نجم سیٹھی.... ڈبل پاور چیف منسٹر

نجم سیٹھی.... ڈبل پاور چیف منسٹر
نجم سیٹھی.... ڈبل پاور چیف منسٹر

  

صحافت کے پیشے سے تعلق رکھنے والے پنجاب کے پہلے چیف منسٹر مرحوم حنیف رامے تھے جو پیپلزپارٹی میں شامل ہو کر ایم پی اے بنے، پھر سپیکر منتخب ہوئے اور اس اسمبلی کے قائد ایوان منتخب ہو کر پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن گئے۔ پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے تو انہیں پارٹی کے ترجمان اخبار مساوات کا بھی ایڈیٹر بنایا گیا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ بن کر صوبے کی کیا خدمت کی اور کس حد تک کی، اس بحث میں جائے بغیر مَیں ان کی ایسی کاوشوں کا ذکر اس کالم میں ضرور شامل کرنا چاہتا ہوں جو انہوں نے کارکن صحافیوں کے لئے کیں۔ ان کے اس دور میں میرا تعلق نوائے وقت لاہور سے تھا۔ حنیف رامے نے دس برس اور اس سے زیادہ عرصے تک کام کرنے والے کارکن صحافیوں کے لئے سرکاری پلاٹ انتہائی کم نرخوں پر مہیا کرنے کے لئے درخواستیں طلب کیں، یہ درخواستیں مالکان اخبارات کے توسط سے منگوائی گئیں تاکہ کوئی جعلی درخواست نہ دے سکے۔ ان اخبارات کے لئے یہ شرط بھی مقرر تھی کہ صرف ایسے اخبارات اپنے کارکن صحافیوں کی درخواستیں ارسال کریں، جن کی اشاعت کو کم از کم دس برس مکمل ہو چکے ہوں اور وہ مالکان اخبارات کی تنظیم اے پی این ایس کے رکن بھی ہوں اور سرکاری اشتہارات کے حصول کے لئے بھی جن کے پاس اے بی سی کے سرٹیفکیٹ موجود ہوں۔

 پنجاب بھر سے جتنے بھی صحافیوں کی درخواستیں موصول ہوئیں، انہیں لاہور سمیت تمام اضلاع میں 5 مرلے، 10 مرلے اور ایک کنال کے پلاٹ الاٹ کر دیئے گئے اور وفاق میں ہاﺅس بلڈنگ فنانس کارپوریشن سے بھی درخواست کی گئی کہ وہ ان صحافیوں کے پلاٹ رہن رکھ کر انہیں گھر بنانے کے لئے آسان شرائط پر قرضہ مہیا کرے۔ لاہور کے علامہ اقبال ٹاﺅن کے جہاں زیب بلاک کو آج بھی صحافیوں کی کالونی کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔ اس کے علاوہ جو سینئر صحافی بے روز گار تھے، انہیں بھی شادمان، گلبرگ (فردوس پارک) اچھرہ، ملتان روڈ کی آبادیوں میں کمرشل پلاٹ دیئے گئے تاکہ وہ کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کر کے روز گار کما سکیں.... (ان میں سے بعض کو پٹرول پمپ لگانے کے لئے بھی طویل عرصے کی لیز پر پلاٹ دیئے گئے).... غرض اس زمانے میں تقریباً تمام ایسے ضرورت مند صحافیوں کی درخواستیں قبول ہوئیں جو حکومت کے اعلان کردہ قواعد و ضوابط پر پورے اترتے تھے۔ ویسے بھی 1970ء کے عشرے میں اخبارات کی تعداد بہت کم تھی۔ چینل صرف ایک پی ٹی وی تھا، جبکہ خبر رساں اداروں یعنی ایجنسیوں میں اے پی پی اور پی پی آئی شامل تھیں۔ ریڈیو نیوز کے صحافیوں سمیت انہیں بھی اکاموڈیٹ کر دیا گیا۔

 علاوہ ازیں حنیف رامے نے صحافیوں کو بلیک میں کاریں خریدنے سے بچانے کے لئے ڈاٹسن، مزدا، اور ٹیوٹا گاڑیوں کے پرمٹ بھی جاری کئے تاکہ انہیں کم قیمت، بلکہ فکس قیمتوں پر گاڑیاں مل سکیں.... (یاد رہے کہ اس زمانہ میں کاریں جاپان سے امپورٹ ہوتی تھیں اور مانگ بہت زیادہ تھی۔ اس لئے حکومت نے پرمٹ سسٹم جاری کر رکھا تھا).... جن اخبارات کے اشتہارات وفاقی حکومت نے بند کر رکھے تھے، ان کے اشتہارات کھولنے کے لئے بھی حنیف رامے نے وزیر اعظم بھٹو سے مشاورت کی اور اس میں بھی وہ کئی معاملات میں کامیاب رہے۔ یوں ایک جانب انہوں نے اخبارات کے مالکان کو خوش رکھنے کی پالیسی اپنائی اور دوسری جانب کارکن صحافیوں کے بھی دل جیت لئے۔ خدا معلوم وفاق والوں، یعنی ذوالفقار علی بھٹو سے کس بات پر ان کی ان بن ہوئی کہ اچانک انہیں وزارت علیا سے الگ کر دیا گیا اور ان کی جگہ ملتان کے ایم پی اے صادق حسین قریشی کو نیا وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا، جہاں تک میڈیا کو معلوم ہے، غالباً انہوں نے اس بات سے انکار کر دیا تھا کہ صوبائی سیکرٹری چیف سیکرٹری کی منظوری کے لئے جو فائلیں بھیجیں، ان میں چیف سیکرٹری ایسے معاملات کا بھی خود فیصلہ کرلے، جن کی منظوری قانونی ضابطوں اور آئین کی رو سے وزیر اعلیٰ کے اختیار میں ہے اور وزیر اعلیٰ کو محض یہ اطلاع دے دی جائے کہ فلاں فلاں منظوری دے دی گئی ہے۔

جناب نجم سیٹھی اب پنجاب کے دوسرے صحافی وزیر اعلیٰ بنے ہیں، انہیں نگران اس لئے نہیں لکھ رہا کہ اختیارات کی رو سے وہ صرف وزیر اعلیٰ ہیں۔ رولز آف بزنس، قانون اور آئین کی متعلقہ شقوں کے تحت انہیں وزیر اعلیٰ کے مکمل اختیارات حاصل ہیں اور آئین میں ان اختیارات کے حوالے سے یا ضابطہ کار میں اختیارات کے حوالے سے ”نگران“ کا کوئی ذکر نہیں۔ وہ ایک دن کام کریں یا پانچ برس۔ حلف انہوں نے وزیر اعلیٰ ہی کالیا ہے۔ مَیں جب صحافت چھوڑ کر سرکاری نوکری میں گیا تو ایک میٹنگ میں، جس کی صدارت اس وقت کے وزیر اعلیٰ میاں نواز شریف کر رہے تھے اور اس میں ان کے سپیشل اسسٹنٹ (جو عہدے کے اعتبار سے وزیر اطلاعات بھی تھے) محترم حسین حقانی نے ”فرائیڈے ٹائمز“ کے سلسلے میں انہوں نے بریفننگ لی، بطور ڈی جی پی آر کچھ احکام مجھے بھی ملے، لیکن یہ تمام معاملات بھی حسین حقانی نے اپنے ذمے لے لئے، تاہم بریفنگ میں نجم سیٹھی اور ان کی بیگم محترمہ جگنو محسن کے سلسلے میں جو بات چیت ہوئی اس میں نجم سیٹھی کے بارے میں ایک آزاد، خود مختار سوچ رکھنے والے ایسے صحافی کا نقشہ کھینچا گیا جو ملکی حالات ہی نہیں، بلکہ بین الاقوامی حالات پر بھی کھرا اور دو ٹوک الفاظ میں تبصرہ کرنے والے شخص کا ہوتا ہے۔

 انہیں کھردرا (Rough) تو ہرگز نہیں کہا گیا، لیکن یہ ضرور بتایا گیا کہ پیشہ ورانہ معاملات میں وہ کسی سے کوئی بھی رو رعایت کرنا پسند نہیں کرتے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنے جونیئرز کو بعض معاملات میں دوسرا موقع فراہم کرنے کے بھی عادی ہیں لیکن شاید تیسرا ہرگز نہیں۔ حلف لینے کی تقریب اور اس کے بعد تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈران سے ان کی ملاقاتیں یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ وہ اس وقت الیکشن کے کام کو ہی زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ انہیں شاید اس سے کوئی غرض ہو یا نہ ہو کہ گزشتہ پانچ برسوں میں صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے کس طرح حکمرانی کی، کیا ترقیاتی کام مکمل کرائے یا بیورو کریسی کو کیسے چلایا، لیکن ایک بات مَیں ضرور ان کے علم میں لانا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ میاں شہباز شریف نے 10 اپریل 2008ءکو چارج سنبھالتے ہی سکیل 20-19 اور 21 کے جن 5 ہزار ریٹائرڈ سول سرونٹس کے کنٹریکٹ ختم کر کے سب کو گھر بھیج دیا تھا، اس کا خلا پانچ برس گزرجانے کے باوجود بھی اب تک پورا نہیں کیا جا سکا۔ یہ بات وہ اگر اپنے نئے چیف منسٹر سیکرٹریٹ کے سیکرٹری سے بھی دریافت کر لیں تو وہ شاید انہیں بہتر بریفننگ دے سکیں۔

 قواعد و ضوابط سے قطعی بالا تر سکیل 18-17 کے افسروں کو بھی سکیل 20 کی آسامیوں پر لگایا ہوا ہے، سکیل 20 کا شاید ہی کوئی افسر ہو جس کے پاس سکیل 21 کی کئی نہیں تو ایک آدھ پوسٹ کا تو ضرور اضافی چارج موجود ہے۔ عام طور پر 19 اور 20 سکیل کے افسروں کے پاس دیگر اعلیٰ پوسٹوں کے بھی چارج ہیں اور ایسا صرف ہفتوں یا مہینوں سے نہیں، بلکہ بعض معاملات میں تو 5 برس سے ایسا ہی چل رہا ہے۔ اخبارات میں تو شاید یہ ممکن ہو کہ ایک شخص ایڈیٹر بھی ہو، کاپی بھی خود جوڑتا ہو، چیف رپورٹر بھی ہو اور نیوز ایڈیٹر بھی ہو، ایڈیٹوریل کا بھی انچارج ہو اور فوٹو گرافر بھی ہو.... یعنی سب پوسٹیں/ اس کے ہی گرد گھومتی ہوں، لیکن حکومت میں ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ ہر پوسٹ کے الگ اختیارات، الگ کام اور اس کے لئے الگ افسر یا کارندے بجٹ میں موجود ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک طویل ایکسر سائز ہے، جسے کم عرصے کا مینڈیٹ لے کر آنے والا چیف منسٹر شاید پورا نہ کر سکے۔

نجم سیٹھی کے پاس چیف منسٹر کی پاور کے ساتھ ساتھ ”جرنلزم“ کی ڈبل پاور بھی موجود ہے، وہ کم از کم آنے والے چیف منسٹر کے لئے تو ایسی تمام باتیں پوری تفصیل کے ساتھ جمع کر سکتے ہیں۔ (یہ الگ بات ہے کہ جب وہ محکموں، خصوصاً سروسز ونگ یا سیکریٹریوں سے کسی پرفارما پر تفصیل مانگیں گے تو ان کے عہدہ چھوڑنے تک جواب ہی انہیں موصول نہیں ہو سکے گا۔ بیورو کریسی نے میاں شہباز شریف سے بھی یہی کچھ کر کے ان کے پہلے دور (99-1997) کا بدلہ چکا لیا ہے۔ نجم سیٹھی آنے والے دنوں میں ڈویژنل اور اضلاع کی سطح کے دورے بھی کریں اور شاید مالکان اخبارات اور کارکن صحافیوں کی تنظیموں سے بھی ملیں تو انہیں صورت حال خاصی وضاحت کے ساتھ معلوم ہو گی۔ وہ کسی لگی لپٹی کے تو شروع سے ہی قائل ہی نہیں، نیز الیکشن کے حوالے سے اس مرتبہ وہ پنجاب کے عوام کو یہ یقین دہانی ضرورکرادیں کہ اس مرتبہ کسی پٹواری، ایس ایچ او، سڑکوں یا آب پاشی کے ایکس ای این کے الیکشنوں پر اثر انداز ہونے کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا جائے گا اور ایسی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، جس میں کسی بھی حلقے کی کارنر میٹنگ میں مختلف پارٹیوں کے کارکن آپس میں فائرنگ کریں یا گتھم گتھا ہوں۔ اگر کارنر میٹنگ کا پیشگی اجازت ناموں کی سرکاری طور پر پہلے سے سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے ذریعے (جگہ، وقت وغیرہ) کا اعلان ہو جائے گا تو اس کے لئے امن و امان قائم کرنے والے ادارے بھی (پولیس فوج اور رینجرز سمیت) سب اپنی اپنی ڈیوٹی آسانی کے ساتھ انجام دے سکیں گے اور سیاسی پارٹیاں یا آزاد امیدوار بھی پوری منصوبہ بندی کے ساتھ آزادانہ کام کر سکیں گے اور ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں کی جا سکے گی۔

جہاں تک کسی ممکنہ دہشت گردی کا سوال ہے تو ایک ضلع سے دوسرے ضلع اور ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں جانے والے راستوں کی کڑی نگرانی کی جائے حتیٰ کہ سبزی کے جو ٹرک بھارت ، یعنی واہگہ،خیبر پختونخوا، کوئٹہ، کراچی سے پنجاب میں آتے ہیں، انہیں بھی جدید آلات سے چیک کرایا جائے۔ ہو سکے تو اس کے لئے فوج سے آلات عارضی طور پر حاصل کئے جائیں تاکہ بارود یا اسلحہ پنجاب میں داخل نہ ہونے پائے۔ مقامی طور پر بارودی مواد کی تیاری اور غلط استعمال کو روکنے کے لئے 11مئی تک تمام ایسی دکانوں اور گوداموں کی سیل بندی (سربمہر) کر دی جائے جو آتش بازی کا سامان فروخت کرنے کے لئے بارود کے ذخائر لے کر بیٹھے ہیں۔ موٹر سائیکلیں نئی فروخت ہوں یا پرانی، ان کا روزانہ کا ریکارڈ ہر تھانہ اپنی حدود سے حاصل کرے اور کوائف دہشت گردی کا انسداد کرنے والے محکمہ کو پہنچائے۔ آج کل تو کمپیوٹر، فیکس کا زمانہ ہے، اس میں جہاں تاخیر ہو گی، درجنوں واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔ اس لئے تاخیری حربے برداشت نہ کئے جائیں۔

ہماری نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں، پورا میڈیا ان کے ساتھ ہے.... (ماسوائے شاید ان کے جو انہیں ذاتی وجوہ کی بنا پر پسند نہیں کرتے).... پریس کلب لاہور والے سب کے سب خوش ہیں اور شاید انہیں وہ دعوت بھی دے رہے ہیں۔ رہی الیکشن کمیشن آف پاکستان یا سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی تعمیل تو انہیں یقینی ہونا چاہئے کہ جن اختیارات کا حامل ایک چیف منسٹر ہوتا ہے اور جن کا ذکر رولز آف بزنس، قانون اور آئین میں ہے، ان پر عمل درآمد نہ تو کوئی عدالت روک سکتی ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا ادارہ۔ انہیں بہر حال ان معاملات میں پوری شد و مد اور یقین کامل کے ساتھ اپنا کام مکمل کرتے رہنا ہے۔ ویسے تو نجم سیٹھی کے لئے سارا ہی میڈیا ان کا ہے اور اپنے میڈیا مینجر وہ خود بھی ہیں، لیکن اگر ممکن ہو سکے تو اپنے سرکاری میڈیا مینجر (DGPR) کے دفتر کا بھی چکر لگائیں، وہ شاید میاں نواز شریف کے بعد دوسرے چیف منسٹر ہوں جو اپنے میڈیا مینجر اور اس کے ساتھیوں کی ہمت کو بڑھاوا دے سکیں۔ اس تعلقات عامہ کے دفتر نے دیگر صوبوں میں بھی اپنے دفاتر قائم کر کے اور رات دن ایک کر کے پنجاب کے ایک چیف منسٹر کو وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچانے میں مدد کی تھی۔   ٭

مزید : کالم