رسول بخش پلیجوکی سیاست اور خیالات و افکار!

رسول بخش پلیجوکی سیاست اور خیالات و افکار!
رسول بخش پلیجوکی سیاست اور خیالات و افکار!

  

ممکن ہے لاہور یا اسلام آباد میں مسلم لیگ(ن) کی جانب سے بائیں بازو کے سندھی قوم پرست لیڈر رسول بخش پلیجو کو نگران وزیر اعظم کے لئے نامزد کرنا اس کی سندھ کے لئے کامیاب حکمت عملی باور کی جائے، لیکن سندھ سے واقف حال افراد کے نزدیک یہ ”گناہ بے لذت“ سمجھ سے بالا تر تھا۔ شاید مسلم لیگ(ن) کی قیادت دیگر سندھی قوم پرست لیڈروں کی طرح رسول بخش پلیجو سے پوری طرح واقف نہیں ہے اور اگر کسی حد تک واقف بھی ہے تو اس نے محض شغل میلہ کرنے کے لئے رسول بخش پلیجو کو نامزد کیا تھا۔ رسول بخش پلیجو کے افکار و خیالات ، شخصیت اور ان کی سیاست کا جائزہ لینا ضرور ی ہے تاکہ اندازہ ہوسکے کہ مسلم لیگ(ن) کے سیاسی اُصولوں اور ترجیحات کی بنیاد کیا ہے؟

18فروری1998ءکو حیدرآباد پریس کلب میں مخدوم طالب المولیٰ کی ایک سندھی کتاب کے انگریزی ترجمے کی تقریب تعارف میں بے نظیر بھٹو بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئی تھیں۔ اس تقریب میں کامریڈ جام ساقی پہلی صف میں بیٹھے تھے، جبکہ رسول بخش پلیجو کو ابتداءمیں پہلی صف میں جگہ نہ ملی، لیکن منتظمین نے فوراً ہی انہیں دوسری صف سے پہلی صف میں لا بٹھایا۔ بے نظیر بھٹو سٹیج پر تسبیح ہاتھ میں لئے رسول بخش پلیجو کو دیکھ رہی تھیں۔ رسول بخش پلیجو نے خوبصورت رنگ کا فل سوٹ زیب تن کیا ہوا تھا۔ پھر بے نظیر بھٹو نے اشارہ کیا تو جناب پلیجو کو منتظمین نے پہلی صف سے سٹیج پر لے جا کر بے نظیر بھٹو کے قریب بٹھادیا۔جب تقریب ختم ہوئی تو بے نظیر بھٹو چائے کے لئے کلب کی بالائی منزل پر چلی گئیں، جبکہ رسول بخش پلیجو بھی کشاں کشاں ان کے ساتھ اوپر آگئے۔

یہاں اخبار نویسوں نے سوالات شروع کردیئے۔ ایک سوال یہ ہوا کہ ”سندھ کے قوم پرست لیڈروں، خصوصاً رسول بخش پلیجو اور ممتاز بھٹو کا کہنا ہے کہ سندھ کے تعلق سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ میں کوئی فرق نہیں ہے، آپ کا کیا خیال ہے“؟....بے نظیر بھٹو نے کہا کہ ” آپ پلیجو صاحب کو ممتاز بھٹو کے ساتھ کیوں ملاتے ہیں، پلیجو صاحب کبھی اسلام آباد بھیک مانگنے تو نہیں جاتے، کم از کم مَیں نے تو اب تک نہیں دیکھا کہ پلیجو صاحب اسلام آباد گئے ہوں یا مفاد پرستوں کی عبوری حکومت میں شامل ہوئے ہوں اور الیکشن میں دھاندلی کی ہو یا سندھ کو مالی بحران(ممتاز بھٹو کا این ایف سی ایوارڈ پر دستخط کرنا) میں مبتلا کیا ہو۔ سندھ میں آج کیوں مالی بحران ہے؟ 4نومبر1997ءتک تو کوئی مالی بحران نہیں تھا۔ سندھ کے مصائب کے ذمہ دار مفاد پرستوں کے آلہ کار پٹھو ہیں، لہٰذا آپ کو سوچنا چاہئے کہ آپ کا دشمن کون ہے اور دوست کون ہے، یہ فرق کرنا آپ کا کام ہے“۔

بے نظیر بھٹو کی جانب سے اس تعریف و توصیف پر رسول بخش پلیجو کی مسکراہت قابل دید تھی۔ اسی دوران ایک سندھی اخبار کے صحافی نے یہ سوال بھی کیا کہ ” رسول بخش پلیجو کہتے ہیں کہ سیاست میں کرپشن کا آغاز پیپلز پارٹی نے کیا اور اب مسلم لیگ، پیپلز پارٹی سے زیادہ کرپٹ ثابت ہوئی ہے، اس پر آپ کیا کہتی ہیں“؟....بے نظیر بھٹو نے کہا: ”ہم پلیجو صاحب کی عزت کرتے ہیں، مگر ان کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے، ہم نے تو کرپشن کو ختم کیا تھا“.... اس کے بعد بے نظیر بھٹو نے نواز شریف کے دور کو کرپٹ اور اپنے دور کو غیر کرپٹ ثابت کرنے کے لئے دلائل دینے شروع کردیئے، حالانکہ تھوڑی دیر قبل انہوں نے تقریب میں خطاب کے دوران کہا تھا کہ ”غلطی کا اعتراف کرنے والا شخص بہادر ہوتا ہے“.... چنانچہ صحافی نے ان کی غلطی کا اعتراف کرنے والی بات کا حوالہ دے کر پوچھا کہ وہ اپنے اقتدار کے دو ادوار کے بارے میں کیا confessکرتی ہیں؟ تو حیرت ہوئی کہ وہ اپنی کسی معمولی سی غلطی کا اعتراف کرنے کے لئے بھی تیار نہیں تھیں۔

قمرالزماں شاہ نے جو ضیاءالحق کے دور میں نعت خوانی اور میلاد کی محفلیں سجا کر ”الحاج قمرالزماں شاہ“ کی حیثیت سے مولویوں میں بہت مقبول ہوگئے تھے اور ”غیر سیاسی “بن گئے تھے، کتاب کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ”دراصل 1970ءہی میں میری معرفت مخدوم طالب المولیٰ کو مدینے سے بلاوا آیا تھا، لیکن مَیں نے مخدوم صاحب تک یہ بات پہنچانے کی ہمت نہ کی، جس کے بعدذوالفقار علی بھٹو کو حضور نبی پاک کا حکم ہوا کہ مخدوم طالب المولیٰ کو میرے دربار میں لے آو¿، چنانچہ ذوالفقار علی بھٹو خود مخدوم صاحب کو لے کر سعودی عرب گئے“....قمرالزماں کا بیان دل افروز سن کر،جو ماسکو کے فلم فیسٹول میں اداکارہ سنگیتا کے ساتھ تشریف لے گئے تھے، ایک صحافی نے کہا: ”ذوالفقار علی بھٹو کو اُس وقت کس کا حکم ہوا تھا، جب قبلہ مخدوم صاحب کو ہسپتال میں داخل ہونا پڑا تھا“؟

شاید اسی طرح سیاست دان وقت کی ضرورت کے تحت تاریخ کو اپنے انداز سے تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ رسول بخش پلیجو اس کی بہترین مثال ہیں، جن کی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کو ہدف ملامت بنانے کی درجنوں مثالیں تاریخ کے ریکارڈسے دستیاب ہیں اور جنہوں نے وقت کی ضرورت کے تحت پیپلزپارٹی سے گہری قربت کا مظاہرہ بھی کیا اور اس کی قیادت سے داد بھی پائی، پھر یہی کام مسلم لیگ(ن) کے لئے کیا.... جب مسلم لیگ(ن) نے رسول بخش پلیجو کا نام نگران وزیر اعظم کے لئے پیش کیا تو موجودہ پیپلز پارٹی کی جانب سے ان پرتنقید کا جواب لینے کے لئے دو ہفتے قبل مَیں ان کے گھر گیا ،پتہ چلا کہ وہ کورٹ گئے ہیں، چنانچہ کورٹ جاکر ہائی کورٹ بار میں تلاش کیا، مگر ہائی کورٹ بار کے سابق صدر عبدالستار قاضی نے، جن کا تعلق مسلم لیگ(ن) سے ہے، بتایا کہ ابھی یہاں میرے پاس بیٹھے تھے، مگر باہر چلے گئے۔ اِدھر اُدھر تلاش کے باوجود ملاقات ہوسکی نہ موبائل فون پر رابطہ ہوا، تاہم شام کے بعد انہوں نے موبائل اٹینڈ کیا اور بات چیت کے لئے ملاقات کی خواہش پر بتایا کہ مجھے گفتگو کرنے سے منع کردیا گیا ہے، لہٰذا معذرت خواہ ہوں، تاہم اگر ان سے بات ہوجاتی تو حسب عادت ایسی ایسی سناتے کہ پیپلز پارٹی والے کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہوجاتے اور بے نظیر بھٹو گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں تڑپ اُٹھتیں۔

رسول بخش پلیجو کا ایک انٹرویو”زندگی“ میں 3ستمبر2000ءکے شمارے میں چھپا تھا، جس میں انہوں نے صاف گوئی سے کہا تھا کہ ”مَیں عورتوں کے حسن کا دلدادہ اور عورتوں کا فدائی ہوں، حسین ترین کام وہ ہے جس میں عورتوں کے حسن کو نکھرنے کے مواقع ملیں“۔ اسی انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ”پنجاب نے ہمیشہ سندھ کے لیڈروں کو استعمال کیا ہے، انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو استعمال کیا، اب الطاف حسین کو استعمال کررہے ہیں“.... مگر2013ءمیں ایم کیو ایم والے یہ کہنے کا حق رکھتے ہیں کہ ”اب پنجاب والے رسول بخش پلیجو کو استعمال کررہے ہیں“۔ وہی رسول بخش پلیجو جو 1997ءکے انتخابات کے بعد سندھ میں حکومت سازی کے مرحلے پر ایم کیو ایم کی جانب سے رسماً اپنا اُمیدوار کھڑا کرنے پر.... (جو بعدازاں لیاقت جتوئی کے حق میں دستبردار ہوگیا)....بر افروختہ تھے کہ کوئی اردو بولنے والا سندھ کا وزیر اعلیٰ کس طرح ہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے جی ایم سید کے بیٹے امداد محمد شاہ(جلال محمود شاہ کے والد) کی اس سوچ کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا کہ آخر کوئی اردو بولنے والا سندھ کا وزیراعلیٰ کیوں نہیں ہوسکتا؟اب ان ہی رسول بخش پلیجو کے بیٹے ایاز لطیف پلیجو نے حال ہی میں ٹنڈوالٰہ یار میں تقریر کرتے ہوئے جسٹس (ر) زاہد قربا ن علوی کے نگران وزیر اعلیٰ بننے پر فرمایا ہے کہ پیپلزپارٹی نے سندھ سے غداری کرتے ہوئے مثال قائم کرکے اردو بولنے والوں کے لئے سندھ کا وزیر اعلیٰ بننے کا راستہ کھول دیا ہے۔    ٭

مزید : کالم