اخترمینگل کا خوش آئند فیصلہ!

اخترمینگل کا خوش آئند فیصلہ!

کوئٹہ میں بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں اور چیف الیکشن کمشنر کے مذاکرات مثبت رہنے کی خوش کن اطلاع ہے۔ بلوچ سیاسی راہنماﺅں کو ہر قسم کے تحفظات دور کرنے کا یقین دلایا گیا۔ اور ان پر زور دیا گیا کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں اور اپنے مطالبات جمہوری انداز سے منوائیں۔ بلوچ رہنماﺅں کا جواب تسلی بخش قرار دیا گیا۔ اس سے قبل بلوچستان نیشنل پارٹی (م) کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ اختر مینگل وطن واپسی پر یہ واضح کر چکے ہیں کہ ان کی جماعت انتخابات میں حصہ لے گی۔ انہوں نے بلوچستان کے حوالے سے ناانصافیوں کا بھی ذکر کیا۔ حتیٰ کہ یہ تک کہا اگر ہم کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتے ہیں تو بلوچوں کے لئے یہ کیوں نہیں کہتے تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ اگر وہ منتخب ہو گئے تو حلف ملکی آئین کے تحت ہی اٹھائیں گے۔

الیکشن کمیشن نے ان بلوچ راہنماﺅں کو مکمل تحفظ کا یقین دلایا اور یہ بھی کہا کہ جہاں بھی ضرورت ہوئی فوج طلب کر لی جائے گی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ بلوچ راہنماﺅں کی طرف سے مثبت جواب نے بلوچستان میں انتخابی عمل کی راہ ہموار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کردیا ہے۔ اب نگران حکومت اور الیکشن کمیشن پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہو گئی ہے کہ بلوچستان میں انتخابی ماحول بھی ٹھیک ہو اور انتخابات بھی صاف اور شفاف ہوں تاکہ کسی کو اعتراض کا موقع نہ ملے اور جمہوری عمل کا پھل میٹھا ہو، بلوچ قوم پرست راہنماﺅں کا جذبہ بھی قابل قدر ہے ان کی تعریف کرنا چاہئے اور یقیناً یہ خوش آئند ہے۔   ٭

مزید : اداریہ