الیکشن کمیشن اور نگران حکومتوں سے توقعات

الیکشن کمیشن اور نگران حکومتوں سے توقعات

عام انتخابات میں صوبائی اور قومی اسمبلیوں کی نشستوں کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا وقت ختم ہوا ۔ الیکشن کمیشن پیر سے امیدواروں کی سکروٹنی شروع کرے گا۔ اب تک ملک بھر میں تقریباً چار ہزار کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں۔ دوہزا ر سے زائد امیدواروں کی سکروٹنی کاغذات جمع کرانے کے ساتھ ہی ساتھ مکمل کرلی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے متعلقہ قومی اداروں کے تعاون سے دہری شہریت، جعلی ڈگریوں کی تصدیق کے علاوہ نادہندگان کی فہرستیں طلب کرلی ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے 189مشکوک ڈگریوں کی خبر کا از خود نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کے خلاف ایم کیو ایم نے اقوام متحدہ میں یادداشت جمع کرادی ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ دینے کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود ابھی تک کوئی طریقہ کار طے نہیں ہوسکا۔

انتخابات ایسے حالات میںہو رہے ہیں کہ ہفتہ کے روز مردان میں پولیس پر خود کش حملہ سے ایڈیشنل ایس ایچ جاں بحق او ر دواہلکاروں سمیت چھ افراد زخمی ہوئے۔ کراچی کے نجی سکول پر بم حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں پرنسپل جاں بحق اور سکول کے متعدد بچے زخمی ہوگئے۔ کراچی میں متعدد دوسرے واقعات میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے۔ پنجاب کی متعدد عدالتوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لئے عدالتوں میں آنے والے امیدوارجلوسوں کے ساتھ آئے ۔ تلاشی دئیے بغیر دھکم پیل میں عدالت میں داخل ہو گئے ،جس سے سیکورٹی کے خطرات پیدا ہوئے ۔اکثر مقامات پر امیدواروں کے حامیوں نے عدالتوں کے باہر فائرنگ بھی کی ، یہ ماحول امیدواروں کے حامیوں میں تصادم کے امکانات بھی بڑھا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے اسلحہ کی نمائش پر امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ہلڑ بازی اور دھکم پیل کی جو فضا اس ابتدائی مرحلے ہی میں دیکھنے میں آئی اس سے یہ امید کرنا مشکل ہے کہ انتخابات میںسخت ڈسپلن قائم کیا جاسکے گا، امیدوار اور ان کے حامی اس سارے پراسس سے امن وامان کے ساتھ گذرجائیں گے اور انتخابی مشینری کو اپنے فرائض آئین اور قانون کے مطابق پورے کرنے دیں گے۔ تاہم پنجاب میں نگران وزیر اعلی نے حکم دیا ہے کہ نفرت اور اشتعال پھیلانے والے بینرزاور پوسٹرز فوری طور پر اتار دئیے جائیں اور وال چاکنگ کی پابندی پر سختی سے عمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی اورامن و امان کے چیلنج کا مقابلہ ناممکن نہیں ہے۔    

مرکز میںنگران حکومت کے سات دن گذر جانے کے باوجود ابھی تک کابینہ کے ارکان کا فیصلہ نہیں ہوسکا۔ پنجاب میں کابےنہ کی تشکیل بھی ابھی ہونا باقی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن ) اہم وزارتوں پر اپنے اپنے حامی افراد کی نامزدگی چاہتے ہیں۔ صوبوں سے وفاق میں بھیجے جانے والے افسروںکی تقرریوں کے معاملات بھی متنازعہ ہوتے جارہے ہیں۔پنجاب میں قمر زمان کو چیف سیکرٹری کے طور پر بھی نگران وزیر اعلی ٰنے قبول نہیں کیا۔ مختلف جماعتوں کی طرف سے امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا سلسلہ جاری ہے، جو الیکشن کمیشن کی طرف سے امیدواروں کی حتمی فہرستیں جاری ہونے کے ساتھ ہی مکمل ہوگا۔   

نگران وزیر اعظم اور نگران وزرائے اعلیٰ کی تعیناتی سابق حکومتی جماعتوں اور اپوزیشن کی مشاورت سے طے پائی ہے ۔ حکومت او ر اپوزیشن کی طرف سے افراد کے نام دئیے گئے جن سے خود حکومت اور اپوزیشن یا ان کی نامزد کردہ پارلیمانی کمیٹی یا اس سطح تک فیصلہ نہ ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے انہی افراد میں سے کسی کے حق میں فیصلہ کیا ہے۔ نگران حکومتوں کے قیام کا مقصد سیاسی جماعتوں کے بجائے غیر جانبدار افراد کے ذریعے مکمل آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہے۔ اس طریق کار کی روح کے مطابق نگران وزیر اعطم اور وزرائے اعلی ٰسے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنی تقرری کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں کے اثر و رسوخ سے آزاد اور اپنے کام کے لئے خود مختار ہو جائیں ۔ اپنی کابےنہ کے ارکان سابقہ حکومت یا اپوزیشن کے پسندیدہ نہیں بلکہ ٹیکنوکریٹس، عدلیہ کے سابق ارکان یا دوسرے شعبوں سے غیر جانبدار اور دیانتدار اہل لوگو ں کو خود منتخب کریں۔ وفاقی نگران کابینہ میں اگر سےاسی جماعتوںکے نامزد افراد ہی نے آنا ہے تو پھر اس سارے نگران سیٹ اپ کا آخر کیا مقصد ہے۔؟ جو جماعتیں حکومت میں نہیں تھیں یا جن کے ارکان اپوزیشن لیڈر نہیں تھے آخر ان کے مفادات کو نگران حکومت میں کون دیکھے گا۔؟ اگر عوام سابقہ حکمرانوں اور سابقہ اپوزیشن والوں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں ، تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو کیا سیاسی جماعتوں کے نامزد لوگوں پر مشتمل کابینہ غےر جانبدار رہ سکے گی ، تبدیلی کی راہ میں دیوار بن کر کھڑی ہوگی یا تبدیلی والے لوگوں سے بھی کسی طرح انصا ف کرسکے گی ؟ یقینا سابقہ ارکان اسمبلی کے کردار و اعمال کے علاوہ یہ عوام کے سامنے ان کی ہٹ دھرمی کی مثالیں تھیں جن کی بناءپر آئین کے آرٹیکل 62اور63 میں بیان کردہ شرائط کے پورے کرنے پر زور دیا گیا۔ جس کی حسب توقع سابقہ ارکان نے زبردست مزاحمت کی۔ تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان کے دباﺅ اور زبردست عوامی خواہشات کے پیش نظر الیکشن کمیشن کاغذات نامزدگی میں یہ ساری معلومات فراہم کرنے کی پابندی پر ڈٹ گیا۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے اوپر کی سطح پر اس فیصلے کے باوجود اور سپریم کورٹ کے احکامات جاری ہونے پر بھی ریٹرننگ افسروں کی طرف سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی نقول دوسرے لوگوں کو مانگنے اور مقررہ فیس اداکرنے پر بھی مہیا نہیں کی جارہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق نوے فیصد سے زائد ریٹرننگ افسروں نے ان کی نقول فراہم کرنے سے انکار کردیا ۔ ظاہر ہے کہ جب تک عوام کو یہ معلوم نہےں ہو گا کہ امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنی ڈگری، ٹیکس، جائیداد ، شہریت اور قرضوں وغیرہ کے متعلق کیا معلومات فراہم کی ہیں ، وہ امیدواروں کے خلاف اپنے اعتراضات جمع نہیں کراسکتے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر کاغذات نامزدگی کے ذریعے یہ سب معلومات وصول کرنے کا جواز آخر کیا تھا۔؟ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے احکاما ت کو نظر انداز کرنے والے ریٹرننگ افسروں کے خلاف اگر فوری او ر سخت کارروائی نہیں کی جاتی تو پھر منصفانہ انتخابات پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ جو لوگ اس مرحلے پر ہی انصاف فراہم کرنے اور اپنی ذمہ داریوں سے احسن طریقے سے عہدہ برآہونے میں ناکام رہے ہیں ، ان سے پولنگ کے دن کے انتہائی دباﺅ اور ذمہ داری والے کام سے بخوبی نمٹنے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔؟

بہت سے مبصرین اس بات کی بھی نشاندہی کررہے ہیں کہ ابھی تک نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کے تعلقات اور انتخابی عمل کو شفاف طریقے سے آگے بڑھانے کا کوئی میکانزم موجود نہیں جس بنا پر ان کو اپنے کام میں دقت پیش آسکتی ہے۔کیا ہمارے کارپردازان کے پاس کوئی ایسا طریقہ ہے کہ وہ صوبائی اور وفاقی نگران کابینہ میں غیر سیاسی اور غیر جانبدار اور ہر لحاظ سے قابل اور اہل لوگوں کو لانے کا انتظام کرسکیں ، انہیں پھر انہی حکمرانوں کا دم چھلا بنانے سے بچا لیں جن سے گذشتہ پانچ برس کے دوران عوام کی کوئی بھی توقع پوری نہیں ہوسکی ۔کیا ان نگران حکمرانوں کا جنہیں کسی طرح سے عوامی مینڈیٹ بھی حاصل نہیں کوئی نگران ہوگا۔؟ تاہم یہ بات سب پر واضح ہے کہ نگرانوں کے عارضی اقتدار کا واحد جواز ان کی دیانت ، غیر جانبداری اور امن و امان قائم رکھ کر منصفانہ انتخابات کرانے کی اہلیت ہے۔ کیا ہمارے سیاستدا ن سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ نگرانوں کی اپنے مقاصد کے لئے نگرانی چھوڑ کر غیر جانبدارانہ انتخابات کے لئے ان کی کھری نگرانی کو قبول کرلیں گے؟

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...