یوسی 86مونمارکیٹ گندگی کے ڈھیر ،سیوریج سسٹم ناکارہ ،ڈکیتی،چوری کی واردتیں معمول

یوسی 86مونمارکیٹ گندگی کے ڈھیر ،سیوریج سسٹم ناکارہ ،ڈکیتی،چوری کی واردتیں ...
یوسی 86مونمارکیٹ گندگی کے ڈھیر ،سیوریج سسٹم ناکارہ ،ڈکیتی،چوری کی واردتیں معمول

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (بابر بھٹی / الیکشن سیل) یونین کونسل 86 کے علاقہ مون مارکیٹ کے عقب میں واقع گندگی کے ڈھیر ، سیوریج سسٹم خراب، پانی، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، سیکیورٹی نہ ہونے کے برابر، چوری، ڈکیتیوں سے پریشان علاقہ کے رہائشی اپنے منتخب نمائندوں اور عوامی لیڈروں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور آئندہ انتخابات میں اپناووٹ نئی جماعت کو دینے کا عہد کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق گلشن راوی کے علاقہ میں واقع شادی ہالوں کی مارکیٹ مون مارکیٹ کے رہائشی گندگی کے جگہ جگہ ڈھیروں اور بروقت صفائی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کے سروے کے دوران اپنے منتخب نمائندوں پر برس پڑے۔ فیاض الحسن نے بتایا کہ ہم ہر تیسرے روز یہاں کے سیوریج خود پیسے دے کر کھلواتے ہیں اور اگر واسا والوں کو پیسے نہ دئیے جائیں تو وہ بھی گٹر کھولنے نہیں آتے۔ بہانے بنا کر غائب ہو جاتے ہیں اور اگر ان کو پیسے دے دئیے جائیں تو وہ اتنا ہی گٹر صاف کرتے ہیں کہ چند روز بعد ان کو دوبارہ بلوانا پڑ جائے اور ان کی جیب گرم ہو جائے جبکہ سیوریج کے استعمال اور اس کی صفائی کے پیسے پانی کے بل میں بھی لگ کر آتے ہیں جو کہ سینیٹری ورکرز اور واسا کے ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں جاتے ہیں۔ زمان لودھی نے بتایا کہ یہاں پر سیکیورٹی نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ لوڈ شیڈنگ کے دوران یہاں شادی کی تقریبات میں آنے والی کوئی نہ کوئی فیملی روزانہ ہی ڈاکوﺅں کے ہاتھوں لٹ جاتی ہے حالانکہ پولیس سٹیشن بھی قریب ہی واقع ہے اور پولیس بھی گشت کرتی رہتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پولیس والوں کو معلوم ہوتا ہے کہ واردات کہاں ہونے والی ہے۔ کیونکہ ہمیشہ پولیس کے اہلکار بعد میں آتے ہیں جہاں پر واردات ہو چکی ہوتی ہے۔ وسیم احمد نے بتایا کہ اب نئی حکومت کا انتظار کر رہے ہیں شاید آنے والی حکومت ہمیں گرمی میں لوڈ شیڈنگ جیسے عذات سے چھٹکارا دلوا سکنے اور بجلی کی بندش سے جو ہمارے کاروبار تباہ ہو چکے ہیں وہ بحال ہو جائیں۔ پہلے ہم کاروبار کرتے تھے، اب ہم اپنے قرض لینے والوں سے منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ اب ہم کیا کریں۔ آئندہ الیکشن میں ہم نے سوچ لیا ہے کہ اب نئی قیادت کو ہی آزمائیں گے کیونکہ ایک تجربہ بار بار اچھا نہیں رہتا۔

مزید : الیکشن ۲۰۱۳