اسلام سے آگاہی پر پورا عمل ہونا چاہئے یا یہ شق ختم کردی جائے: ایس ایم ظفر

اسلام سے آگاہی پر پورا عمل ہونا چاہئے یا یہ شق ختم کردی جائے: ایس ایم ظفر

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر قانون دان ایس ایم ظفر نے کہا ہے کہ آرٹیکل 62کی بہت سی ترامیم جنرل ضیاالحق کے زمانے میں ہوئی تھیں اور اسی زمانے میں اس آرٹیکل کے کلاز ای میں اضافہ کیا گیا تھا جس کے مطابق عوامی نمائندے کو اسلامی تعلیمات کا کافی حد تک علم ہواور وہ اسلامی ضروریات کو پورا کرتا ہو۔جنرل ضیاالحق کے دور میں سکروٹنی کے دوران اسلامی تعلیمات کے حوالے سے امیدو اروں سے سوالات کیے گئے تھے اور اس زمانے میں ریٹرننگ آفیسر نے نرم رویہ رکھا تھا ۔جیو نیوز سے بات کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے دوران اس شق کو نکالنے پر غورکیا گیا تھالیکن اس اتفاق رائے نہ ہو نے کی وجہ سے اس شق کو نہیں نکالا گیا۔انہوں نے کہا کہ امید واروں کی جانچ پڑتا ل کے لیے یہ طریقہ آئین میں درج ہے اس لیے جو بھی آئین کو مانتا ہے اس کو یہ شق بھی ماننی پڑے گی لیکن اس کے استعمال کے طریقہ کار پر نظر ثانی کی گنجائش ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ مذہب کی واقفیت کے بارے میں صرف مان لینا ہی کافی ہو نا چاہئے ،اگر کوئی ایک اللہ اور آخری نبی پر یقین رکھتا ہے تو یہ کسی بھی شخص کے مسلمان ہو نے کے لیے کافی ہے اس سے زیادہ پابندی آئین میں اضافہ ہے،اس کو ہٹا دیا جائے تو بہتر ہے اور اگر نہیں ہٹا یا جاتا تو اس پر سخت رویہ نہیں ہو نا چاہیے۔

مزید : اسلام آباد

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...