مسلمان بچے کی وہ تصویر جس نے پوری دنیا کو رُلا دیا، ایسی دردناک کہانی کہ پڑھ کر آپ کے آنسو بھی نہیں رکیں گے

مسلمان بچے کی وہ تصویر جس نے پوری دنیا کو رُلا دیا، ایسی دردناک کہانی کہ پڑھ ...
مسلمان بچے کی وہ تصویر جس نے پوری دنیا کو رُلا دیا، ایسی دردناک کہانی کہ پڑھ کر آپ کے آنسو بھی نہیں رکیں گے

  


صنعا(مانیٹرنگ ڈیسک) یمن میں جاری لڑائی سے متحارب فریقین کے ہاتھ کیا لگا اس کا تعین فی الحال مشکل ہے مگر یمنی باشندے اب تک کتنی تکلیفیں سہہ چکے ہیں اور بدستور سہہ رہے ہیں اس کا اندازہ فاقوں سے مر جانے والے اس 5ماہ کے بچے کی منظرعام پر آنے والی تصاویر سے لگایا جا سکتا ہے۔

اس بدنصیب بچے کا نام عدئی فیصل (Udai Faisal)ہے اور یہ 5ماہ قبل یمن کے دارالحکومت صنعاءجنوب میں واقع ایک چھوٹے سے گاﺅں ہیضیاض(Hazyaz) میں پیدا ہوا تھا۔ جنگ کے باعث یمن اور بالخصوص صنعاءاور اس کے گردونواح میں اشیائے خورونوش اس قدرنایاب اور مہنگی ہو چکی ہیں کہ ماضی کے اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانے فاقوں پر مجبور ہو چکے ہیں۔ یہی عالم عدئی فیصل کے والدین کا بھی تھا۔ انہیں بھی بمشکل دن میں ایک بار کھانا ملتا تھا، وہ بھی انتہائی کم مقدار میں۔ غذائی قلت کے باعث عدئی سوکھ کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا اور بالآخر اس دنیا میں آنے کے پانچ ماہ بعد ہی بھوک نے اسے دنیا سے واپس اس جہان میں بھیج دیاجہاں سے آیا تھا۔

اگلی مرتبہ اپنے بچوں کو اس طرح کے کھلونوں پر کھیلنے کی اجازت دینے سے پہلے یہ انتہائی تشویشناک خبر ضرور پڑھ لیں

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق اپنی 5ماہ کی زندگی کے آخری لمحے میں عدئی کو قے آئی اور اس کے منہ اور ناک سے پیلے رنگ کا مواد بہہ نکلا اور اس کے فوری بعد اس کی سانسیں تھم گئیں۔ موت سے ہمکنار ہونے سے قبل جب اسے قے آئی تو یہ معصوم رویا نہیں، اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں آئے، بس قے آئی، ایک ہچکی لی اور جنگ و جدل کے جنون میں مبتلاءدنیا کو چھوڑ کر چل دیا۔ وہ اس وقت اپنی ماں انتصار ہیضم(Intissar Hezzam) کی گود میں تھا۔ اپنے معصوم بچے کی سانسیں تھمی دیکھ کر ماں صدمے کے باعث بیہوش ہو گئی۔

اس کا باپ فیصل احمد ایک سابق فوجی ہے اور ان کا گزارہ پنشن کی معمولی رقم پر ہوتا ہے۔ جنگ سے قبل فیصل احمد محنت مزدوری کرکے اپنے خاندان کی کفالت کر رہا تھا مگر جنگ کے باعث تمام کاروبار ٹھپ ہو جانے کے باعث اس کا روزگار بھی چھن گیا جس سے ان کے ہاں فاقوں کی نوبت آ گئی۔ یہ اس حرص و طمع کی پجاری دنیا کا المیہ ہے کہ خود کو دنیا کی بڑی طاقتیں کہنے والے لوگوں پر بارود برسانے پر کھربوں روپے خرچ کر رہے ہیں مگر فاقوں سے مرتے لوگوں کے منہ میں ایک نوالہ ڈالنے کے لیے ان کے پاس رقم نہیں۔

مزید : بین الاقوامی


loading...