پاک ٹی ہا ؤ س ،ادیب اور ہم

پاک ٹی ہا ؤ س ،ادیب اور ہم
پاک ٹی ہا ؤ س ،ادیب اور ہم

  

زند گی اس قد ر مصرو ف ہو چکی ہے کہ ہم لو گ خو ش ہو نا مسکر ا نا تک بھو ل چکے ہیں۔ بچے تھے تو اچھے تھے بڑے ہوئے تو اس قد ر ذمہ داریاں ہو ئیں کہ اب تو مد ت ہو جا تی ہے خود سے ملے ہوئے آتا ہے یا د مجھ کو وہ بچپن کا زمانہ جمعرات کے دن سکول میں بز مِ ادب ہو ا کر تا تھا وہ بھی کیا دن تھے مشا عرہ ، تقا ریر ، نعتیں وہ جو ش وہ جذبے انمو ل تھے۔ ماضی چند رو ز قبل اچا نک اُس وقت یا د آیا جب ایک صحافی دو ست نسیم الحق زا ہد ی جن کا حال ہی میں کالموں کا مجمو عہ ’’سپہ سالا ر امن حضر ت محمد ﷺ ‘‘ شا ئع ہو اہے جس نے شہر ت کی وسعتوں کو چھوا ہے نے کال کر کے بتایا کہ پاک ٹی ہا ؤ س میں وفا ئے پاکستان ادبی فورم کے زیر اہتمام بچوں کے مقبول اور پا نچ دہائیوں سے مسلسل لکھنے والے الدعوۃ بین الا اقومی اسلامی یو نیورسٹی سے ایوار ڈ یا فتہ لکھا ری امان اللہ نےئر شوکت کے اعز ا ز میں ایک تقریب منعقد ہو رہی ہے جس میں راقم الحر و ف کا آنا لا زمی ہے پر وگر ام کے میز بان وفائے پاکستان ادبی فورم کے بانی اور کئی کتابوں کے مصنف اُردو ، پنجابی کے معروف شاعر اور کا لم نویس حاجی محمد لطیف کھو کھر تھے جنہوں نے مہمانوں کا والہانہ استقبال کیا۔

مہمانان گرامی میں بچوں کے معروف ہر دل عز یز ایو ارڈ یا فتہ لکھا ری اور ما ہنامہ اقراء کے چیف ایڈ یٹر نذیر انبالوی پکھیر ؤ کے چیف ایڈ یٹرسہیل اشر ف ، امان اللہ نےئر شو کت ، معروف ادیب امتیا ز عارف سمیت دیگر معروف ادبی شخصیا ت مو جو د تھیں ان شخصیا ت میں بیٹھ کر خود کو بہت چھوٹا سا محسو س کر رہا تھا کیونکہ یہ وہ لو گ تھے جن کے افکار سے ایک عہد فیض یا ب ہو اہے اور ایک عہد فیض یاب ہو رہا ہے نذیر انبالوی نے سعا دت حسن منٹو ، فیض احمد فیض ، حفیظ تائب و دیگر ادبی ستا روں کی یا دوں اور با تو ں کو تا زہ کیا انداز تخاطب ایسا لگتا تھا کہ جیسے منٹو ساتھ بیٹھے ہیں وہ سب سن اور دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں کہ کوئی تو ہے جو آج بھی ان کی عظیم خد ما ت کا اعتراف کر تا ہے اور ان کو یا د کر تاہے یہ لو گ بھی کیا لو گ تھے ایک چائے کے کپ پر محبتیں اور مسکر اہٹیں بانٹ دیتے تھے جن کو قلم سے عشق تھا جو حق با ت کو لکھنا ور کہنا اپنے اُوپر فرض سمجھتے تھے جن کی تحریریں مذہب اور وطن سے محبت کی عکا س ہو تی تھیں جن کے اعصاب تو شا ید بو ڑھے ہو چکے تھے مگر ان کے جذبے اور حوصلے جواں تھے ذکر جب چھڑ گیا ۔۔۔ یہ سچ ہے کہ بچوں کے لئے لکھنا بہت مشکل ہے۔ بڑ امشکل ہے ایک با ر پھر سے بچہ بننا ۔

یہ لو گ ملک و قوم کا عظیم سر ما یہ ہیں جنہوں نے نئی نسل کی اصلا ح کا بیڑ ا اُٹھا رکھا ہے جن کی کہا نیاں مافوق الفطرت سے ہٹ کر حقیقت سے قریب تر ہوتی ہیں جن کو بچوں سے زیا دہ بڑے شوق سے پڑھتے ہیں جن کی کہا نیوں کو پڑھنے سے مذہب اور وطن سے محبت کا جذبہ بید ار ہو تا ہے سچ مانیے تو بچپن سے ان احباب کی کہا نیوں کو پڑھتے ہوئے آرہے ہیں مگر یہ لو گ اپنے کر داروں کی طرح آج بھی جوان ہیں ’’ میر آج بھی جواں ہے ‘‘ اب نئی نسل کو ٹی وی ، کیبل انٹر نیٹ نے اس قد ر مصروف کر کے منفی سو چ پید ا کر دی ہے کہ اب بچے یہ سوال کر تے ہیں کہ یہ بو ڑھے ایک جگہ اکٹھے ہوکر کیا باتیں کر تے ہیں؟ کیا کہا نیاں لکھتے ہیں ؟

اب نئی نسل کو کون سمجھائے بقول جالب ’’ یہ بات نئی نسل کو سمجھانا پڑے گی کہ عریانی کبھی بھی ثقا فت نہیں ہوتی ‘‘ یو ں تو تقریب امان اللہ نےئر شو کت کے اعز از میں تھی مگر ان کی سا دگی اور محبت کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ جیسے یہ تقریب ہمارے اعز از میں منعقد کی گئی ہو دکھ ہو تا ہے جب ایسی خبر یں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ ساری عمر بچوں کے لئے لکھنے والے آج افلا س کی زند گی گز ار نے پر مجبو رہیں کوئی پر سان حال نہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی علم و ادب کے نام وقف کر دی آج کوئی انہیں ملنا تو دو ر کی با ت یا دکر نا بھی گو ار ا نہیں کر تا اور با ز ار ی لکھا ر یوں کی بولیاں لگتی ہیں اور مہنگے داموں فروخت ہو تے ہیں جب کہ حکو مت کا فرض ہے کہ ان عظیم افرا دکو ان کی خد مات کے اعتراف میں ان کی ضروریات کا خیال رکھا جا ئے کہ جن کی تحریروں سے مستفید ہو کر ہم زمانے میں بڑے معتبر بنے بیٹھے ہیں مگر قلم کے مزدور کی کیا قد ر مد توں بعدآج اپنا بچپن لو ٹ کے آیا ہو ا تھا دل کر تا تھا کوئی تنگ نہ کرے نا نی ، دا دی ، امی ، خالہ کی زبانی پر ستان کی کہا نیاں اور سر دی کی راتیں مو نگ پھلی اور گڑ والی چائے ہا ئے میر ابچپن تقریب کے اختتام پر معروف کالم نو یس ، مصنف نسیم الحق زاہد ی کو اُن کی ادبی خد ما ت کے اعتراف پر وفائے پاکستان ادبی کے ایوارڈز سے نواز ا گیا کالم نگا ر عرفا ن سعید انو ر اور مجھ خاکسار کو بھی ادبی ، صحافتی خد ما ت کے اعتراف پر وفائے پاکستان ادبی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

مزید :

کالم -