رہوں یا جاؤں سسٹم ٹھیک ہونا چاہیے ، مسائل سے وزیر کھیل کو آگاہ کردیا ، وقار یونس

رہوں یا جاؤں سسٹم ٹھیک ہونا چاہیے ، مسائل سے وزیر کھیل کو آگاہ کردیا ، وقار ...

اسلام آباد (آن لائن) قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ وقار یونس خان گزشتہ روز شہریار خان ، نجم سیٹھی اور ٹیم کو آڑے ہاتھوں میں لینے کے بعد وفاقی وزیر کھیل ریاض حسین پیرزادہ سے ملاقات کیلئے پہنچ گئے، وزیراعظم نواز شریف سے بھی ملنے کی خواہش ظاہر کردی ، چیئرمین پی سی بی نے مصروفیت کے باعث ہیڈکوچ سے ملنے سے معذرت کرلی تھی ۔ تفصیلات کے ہیڈکوچ وقار یونس وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ سے ملنے سپورٹس کمپلیکس پہنچ گئے جہاں انہوں نے وفاقی وزیر سے گزشتہ روز پیش کی گئی رپورٹ لیک ہونے پر شکایت کی اور اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر سے وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملنے کی خواہش بھی ظاہر کردی ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ رپورٹ خود جا کر چیئرمین پی سی بی کو ان کے گھر میں دی تھی معلوم نہیں اس کے چند نکات کیسے لیک ہوگئے ۔میں نے رپورٹ میں ٹیم میں کسی قسم کی لڑائی کا ذکر نہیں کیا تھا۔ اپنے من پسند پوائنٹ لیک کئے گئے جس پر سخت تحفظات ہیں۔ وزیراعظم سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں ۔ وفاقی وزیر نے ملاقات میں پیش کی گئی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنے کی یقین دہانی کرادی اور ہیڈ کوچ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے نکات لیک ہونے پر بھی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وقار یونس قوم کے ہیرو ہیں یونس نے ایسے بہت سے میچز جیتنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

جس سے پاکستان کو بہت زیادہ عزت ملی ہے وقار نے اپنے حالات سے آگاہ کیا ہے جو بات چیت ہوئی اس سے سے وزیراعظم نواز شریف کو بھی ضرور آگاہ کرونگا وزیراعظم بہت مصروف ہے تاہم ان سے وقار یونس سے ملاقات کیلئے گزارش کروں گا ۔ میری گزارش ہے کہ میچ کو انجوائے کیاجانا چاہئے۔

اس کو جذبات کی حد تک نہ لے جایاجائے تاکہ ٹیم جب ہار جائے تو اس سے منفی رویہ نہ اپنایا جاسکے ٹیم ہماری ہے یہ ہمارے ہیروز ہیں انہوں نے بہت سی اہم فتوحات بھی حاصل کی ہے شکست کو بھی کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے ۔ وقار یونس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے نکات لیک ہونا پی سی بی کی ناکامی ہے اس کی تحقیقات ہونی چاہیں قومی ٹیم کے ہیروز کی تضحیک کرنے کی بجائے انہیں عزت اور حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ہمیں ہر کھلاڑی کا احترام کرنا چاہیے آسٹریلیا میں کرکٹ کا ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل بہت اچھا ہے مگر اس کے باوجود ان کی ٹیم سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکی ۔ اس موقع پر وقار یونس نے کہا کہ میں نے جو رپورٹ پیش کی تھی اس میں ٹیم میں اندرونی اختلافات اور لڑائی کا ذکر نہیں تھا میں رہوں یا نہ رہوں خرابیاں دور اور سسٹم درست ہونا چاہیے ٹیم کے مسائل اور معاملات سے وزیر کھیل کو آگاہ کردیا ہے کسی بھی بات کا فی الحال جواب نہیں دے سکتا (ر اش د )#/s#

مزید : کھیل اور کھلاڑی


loading...