اُردو اخباروں میں انگریزی کا غیر ضروری استعمال

اُردو اخباروں میں انگریزی کا غیر ضروری استعمال
اُردو اخباروں میں انگریزی کا غیر ضروری استعمال

  

ہمارے اُردو اخباروں میں آج کل انگریزی کا استعمال بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ مگر جب انگریزی الفاظ اور اصطلاحات کا اُردو میں آسان متبادل موجود نہ ہو تب ہی یہ عمل ٹھیک ہے۔حیرت ہے کہ ایک طرف اردو کو سرکاری زبان کے عملی رواج پر زور دیا جارہا ہے اوردوسری طرف خود ذرائع ابلاغ اس کوشش پر پانی پھیرتے نظر آتے ہیں۔میں یہاں صرف چند مثالیں پیش کررہا ہوں ورنہ ڈھونڈنے سے اور بہت سی مل جائینگی۔

1۔ایک صفحے پر ہونا:یہ اصطلاح ابھی چند ماہ پہلے ہی رائج ہوئی ہے اور ہو بہو انگریزی کا ترجمہ ہے مثلاً ’’ دو ادارے اس معاملے میں ایک صفحے پر ( To Be On One Or The Same Page ) ہیں‘‘۔اردو میں ان معنی میں اس سے بہتر اصطلاحیں موجود ہیں یعنی باہم متفق ہونا، ہم خیال ہونا، ہم آہنگ ہونا، ایک زبان ہونا، ہم رائے ہونا، ایک سی سوچ رکھنا وغیرہ۔

2۔اپ گریڈ کرنا:یہ الفاظ انگریزی کے Up Grade ہیں اوران کے معنی ہیں بہتری لانا، ترقی دینا، بہتر بنانا۔ کسی اردو اخبار نے سرخی یہ لگائی تھی کہ ہوائی اڈے کے رن وے (Runway) کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ اس کی بجائے ہم اپنی زبان میں یوں کہہ سکتے تھے کہ رن وے کو مزید بہتر بنایا جائے گا یا اس کی توسیع یا تعمیر نو کی جائے گی یا اس کو بہتر مشکل دی جائے گی۔

3۔پلوں کے نیچے پانی بہنا:یہ الفاظ اخباروں میں وقت گزرنے کے معنوں میں استعمال کئے جارہے ہیں اور انگریزی کے محاورے۔۔۔Lot of water has flown down the bridge۔۔۔کا لفظی ترجمہ ہیں۔ کیا ہم اپنی روز مرہ زبان میں نہیں کہتے کہ کافی وقت گزر چکا ہے، عرصہ ہوا، مدتیں گذریں، عمریں بیت گئیں وغیرہ۔

4۔ تحفظات:یہ لفظی ترجمہ ہے Reservationsکا ۔ اس کا مطلب انگریزی میں وہ بات ہوتی ہے جو قابل اعتراض ہو یا جس کو کوئی صاف صاف کھلے الفاظ میں بیان نہ کرنا چاہے۔ ہم اردو میں ان مطالب کو اس طرح بیان کرتے ہیں۔ قابل اعتراض، ناپسندیدہ، مبہم، غیر واضح، شکوک وشبہات، مختلف رائے رکھنا وغیرہ۔

5۔ ٹیک آف: اس لفظ کو انگریزی میں یوں لکھتے ہیں Take Offاوراس کے معنی ہیں ’’ آگے بڑھنے کی صلاحیت‘‘۔اخبار نے جو سرخی جمائی تھی وہ یوں ہے ’’ ملکی معیشت ٹیک آف کی پوزیشن میں آچکی ہے‘‘۔بجائے ان انگریزی الفاظ کے استعمال کے ہم آسانی سے اردو میں کہہ سکتے تھے۔ ملکی معیشت آگے بڑھنے کی صلاحیت حاصل کر چکی ہے یا مزید بڑھنے کے درجے کو پہنچ چکی ہے۔

6۔ڈومیسٹک: یہ لفظ Domestic تو بہت ہی عام فہم ہے اور اس کا اردو متبادل بھی آسان ہے یعنی دیسی، مقامی، ملکی وغیرہ۔ لیکن اخبار نے خواہ مخواہ یہ فقرہ بنادیا کہ: ’’ ایل این جی ڈومیسٹک گیس سے سستی ہوگی‘‘۔

7۔ زمینی حقائق:یہ بھی ترجمہ ہے Ground realities کا۔ ہم اردو میں کسی بات کی اصلیت کو یہ کہہ کر بیان کرتے ہیں:اصل وجہ، بنیادی عنصر، صحیح، سچ، حقیقت۔

8۔ روڈ میپ: انگریزی کا یہ لفظRoad map بالکل اسی طرح اردو اخباروں میں استعمال کیا جارہا ہے جس کے لفظی معنی ہیں سڑک کا نقشہ۔ اردو میں ہم اس کا ترجمہ یوں کرسکتے ہیں۔ معاملے کی وضاحت، مسئلے کی تفصیل، راہ عمل، کار گزاری کے مراحل وغیرہ۔

9۔مینجمنٹ:یہ اصلاح بھی جوں کی توں لفظ Management کا ترجمہ ہے۔ یہ اتنی عام کہ اردو میں اس کے کئی متبادل موجود ہے۔ مثلاً نجکاری کی مینجمنٹ کو ہم آسانی سے کہہ سکتے ہیں۔ نجکاری کے انتظامی امور یا نجکاری کے معاملات وغیرہ۔

10۔ منجمد کرنا: اخبار نے سرخی لگائی ہے ’’ایران نے تیل کی پیداوار منجمد کرنے سے انکار کر دیا ہے‘‘۔ منجمد لفظی ترجمہ ہے to freezeکا۔ یعنی برف کا جم جانا۔ اصطلاحاً ہم اسے کہتے ہیں، آگے نہ بڑھنے دینا، اسی سطح پر برقرار رہنے دینا۔

11۔ مدعیت: یہ لفظ انگریزی کا تو نہیں ہے، مگر اردو کا بھی نہیں ہے۔ اسے بالکل غلط طور پر توڑ مروڑ کے ’’معیت‘‘ کے معنوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ لفظ معیت کے اردو میں معنی ’’مع‘‘ یعنی ساتھ ہونے سے نکلے ہیں، مثلاً کسی ایک شے یا شخص کا دوسرے کے ساتھ ہونے کے ذکر کو مع کہتے ہیں، جیسے ’’فلاں آدمی فلاں کی معیت میں جا رہا تھا‘‘ وغیرہ۔ مدعیت کوئی لفظ نہیں، مگر ہر ٹی وی چینل اس کو چلائے جا رہا ہے اور کوئی روکنے والا نہیں!

مزید :

کالم -