’ جنونیت کا تریاق: دل دل پاکستان، جان جان پاکستان

’ جنونیت کا تریاق: دل دل پاکستان، جان جان پاکستان
’ جنونیت کا تریاق: دل دل پاکستان، جان جان پاکستان

  


دل دل پاکستان‘ کے گلوکار، معروف نعت خوان، خواتین کے لباس کو چار چاند اور حقوق نسواں کو گرہن لگانے کی جدوجہد کرنے والے جنید جمشید میں ایسی کوئی پات نہیں کہ کسی بھی معاملے میں ان کی حمایت کی جائے۔ لیکن، جیسے کیا جاتا ہے کہ ’ناممکن کچھ بھی نہیں‘ اسی طرح جنید جمشید پر اسلام آباد کے ہوائی جہاز کے اڈے پر جنونیوں کی جانب سے ہونے والا حملہ ہمیں ان کے ساتھ کھڑے ہونے پر مجبور کرتا ہے۔اگرچہ جنید جمشید کئی حوالوں سے جنونیوں سے کسی طور کم نہیں۔ وہ خواتین کو دنیا کی ادنیٰ ترین مخلوق سمجھتے ہیں اور اس کے باوجود ان سے خوفزدہ ہیں۔ ان کے نزدیک، خواتین ناقص العقل،بدکردار، ہٹ دھرم، ٹیڑھی، دھوکے باز، بہانے باز، مکار،عیار اور ایسے پرندے ہیں جن کے پر کاٹ کر پنجروں میں قید رکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگرعورت کے پنکھ نہ کاٹے جائیں اور ایک مرتبہ اسکے پنجرے کا دروازہ کھلا رہ جا ئے تو اسے اونچی ہواؤں میں اڑنے کا چسکہ لگ جاتا ہے۔ ایک صنف کے بارے میں مخصوص خیالات رکھتے ہوئے،جب وہ برگزیدہ خواتین کے بارے میں گفتگو فرماتے تو لامحالہ کوئی نہ کوئی ایسی بات منہ سے نکل جاتی ہے جو ان تمام لوگوں کو ناگوار گزرتی ہے جن کے عورت کے حوالے سے اپنے خیالات جنید جمشید سے ہرگز مختلف نہیں۔ وہ تمام لوگ جوبذات خود عورت کو پاوٰں کی جوتی سمجھتے ہیں، ان کی جان لینے کے در پر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان میں اظہار عقیدت اور اظہارمحبت کا یہ متشددطریقہ کیوں قابل قبول ہے؟

حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر ایک اخلاقی و نفسیاتی بحران کا شکار ہے۔اظہار محبت کے اس متشدد طریقے کی نفسیات سمجھنے کے لئے ایک واضح حکمت عملی اور اس پر عملدرامد کے لئے دہائیاں درکار ہیں۔ یہ بات طے ہے کہ اس حوالے سے کوئی بھی طویل المدتی حکمت عملی ان لوگوں کی حفاظت میں کار آمد نہیں جن کی جان کو آج کے مذہبی جنونیوں سے خطرہ ہے، لہٰذاحکومت اور ہمارے موجودہ سماج کو ایک قلیل المدت حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے جس کے نتائج مستقبل قریب میں دکھائی دیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایسے واقعات اچانک ہوتے ہیں لیکن ہجوم اچانک اکٹھا نہیں ہوتا۔ عام طور پر دو یا چار لوگ تشدد کی ابتدا کرتے ہیں۔ اگرایسا منصوبہ سازی سے بھی ہو، تب بھی لوگوں کو اکٹھا ہونے میں وقت لگتا ہے۔ایسا ممکن ہی نہیں کہ سب لوگ فورا سمجھ جائیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ ہاں، ایسا تب ہوتا ہے جب قانون نافذ کرنے والے ادارے تماشا دیکھتے رہتے ہیں اور آخر کاراس قدر لوگ جمع ہو جاتے ہیں کہ انہیں قابوکرنا عملاً ناممکن ہوجاتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر قانون کے محافظ ایسے واقعات کے تماشائی کیوں بن جاتے ہیں؟ ان کا کام صرف تشدد کا شکار فرد کی حفاظت نہیں بلکہ ان دو، چار، یا دس افراد کو گرفتار کرنا بھی ہے جو اس شخص پر حملہ آور ہوئے۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوتا۔ ہجوم کی گرفت میں آیا ہوا فرد یا تو ہلاک کر دیا جاتا ہے، یا قانون کے محافظ اس کو لوگوں سے اس طرح بچا کر لے جاتے ہیں جیسے ہمسائے اپنے والد سے پٹتے ہوئے بچے کو چھڑا کر لے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ والد کو تسلی بھی دیتے ہیں کہ وہ ہرگز ان کی ناہنجار اولاد کا ساتھ نہیں دے رہے۔

اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر جنید جمشید پر حملہ ہویا سیا لکوٹ میں دو بھایؤں کے ہجوم کے ہاتھوں قتل کا یا کراچی میں ڈاکوؤں کو زندہ جلا دینے کا پولیس نے ہمیشہ ایک تماشائی کا کردار ادا کیا ہے۔ اصولا پولیس ایک ایسا محکمہ ہونا چاہئے جہاں پولیس والے وردی پہننے سے پہلے انسانیت کا چولا اتارنے کی بجائے، اپنے مذہبی، فقہی، گروہی، لسانی، صنفی اور دیگر متعصب رویوں کی چادر اُتار پھینکیں۔ اگر وہ حقیقتاً ایسے پولیس اہلکار ہوں جن کا مقصد صرف اور صرف شہریوں کی حفاظت اور انہیں نقصان پہنچانے والوں کی بحفاظت عدالت میں پیشی ہو تو ہجوم کبھی بھی کسی کے ساتھ اتنی بڑی بے انصافی نہیں کر سکے گا۔ اب یہ دیکھنا حکومت کا کام ہے کہ کون سے پولیس اہلکار پاکستانی بن کرسرکاری نوکری کرتے ہیں اور کون سے فرقوں، مذہبوں یا عقیدوں میں بٹ کر۔ بیس کروڑ کی آبادی میں ہمیں اتنے لوگ ضرور مل جائیں گے جو ان آلائشوں سے پاک ہوں گے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جن شخصیات نے سرکاری محکموں کو عوام دوست بنانا ہے وہ بذات خود عوام دوست نہیں۔ ان کے نزدیک پولیس کا اپنے نظریات اور مذہب کو وردی سے باہر رکھنا ضروری نہیں۔ لیکن وہ ایک بات جان لیں کہ بعض باوردی اہلکار اپنے عقائد کی بنیاد پر جنید جمشید جیسے لوگوں کے بچاؤ کے لئے کبھی بھی آگے نہیں بڑھیں گے۔ اس سے پہلے کہ پاکستان کی پولیس مکمل طور پر تماشایؤں میں تبدیل ہوجائے، حکومت کو ان کو اصلاح کے منصوبے شروع کر دینے چاہئیں۔

مزید : کالم


loading...