بدن مسّخر کئے ہیں ابلیس نے ہمارے

بدن مسّخر کئے ہیں ابلیس نے ہمارے
بدن مسّخر کئے ہیں ابلیس نے ہمارے

  


پاکستانی حکومت کہاں ہے ؟ ذرائع ابلاغ کہاں سوئے ہوئے ہیں؟ اگر بھارت میں ایسا ہوا ہوتا تو بھارتی ذرائع ابلاغ دنیا کو سر پر اٹھا لیتے ،لیکن ہم نے کیا کیا اور کیا کہا۔ ہمارے ہاں واقعات اس تیزی کے ساتھ پیش آئے کہ قومی مفاد کی خبریں اسلام آباد کے ڈی چوک میں دفن ہو گئیں۔ لاہور کے گلشن اقبال پارک نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ ایسے واقعات دوبارہ ہوئے جن کی وجہ سے حکومت ہل گئی، لیکن اس کے ساتھ ہی ملک کے اہم ادارے نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے اہم ایجنٹ کل بھوشن یادیو کو حراست میں لے لیا جو کہ اپنی جگہ بڑی اہم حوصلہ افزاء کارروائی ہے۔ بھارتی آپریٹیو کے حراست میں لئے جانے کے بعد اس کے تیار کردہ نیٹ ورک پر قابو پایا جارہا ہے۔ پاکستان خصوصا بلوچستان میں ہونے والی تمام کارروائیوں کے پش پشت بھارت ہی موجود رہا ہے۔ ’’ را ‘‘ پاکستان کو ہی نقصان پہنچانے کے لئے بھارتی وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی نے تشکیل دیا تھا ۔ مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی میں اس کے کامیاب کردار کے بعد سے را کو پاکستان کے خلاف ہی مشن سونپے گئے۔ اس مشن میں بلوچستان اور کراچی اہم قرار پائے تھے۔ سوال یہ ہے کہ جب سب ہی با خبر تھے کہ کراچی اور بلوچستان میں اکثر کارروائیوں کی پشت پر بھارت بھی تھا تو پاکستان کے اداروں نے صورت حال پر قابو پانے میں وقت کیوں لگایا۔ بلوچستان میں حالات میں زیادہ بگاڑ تو مشرف دور سے پیدا ہوا، پھر کیوں نہیں را کے ایجنٹوں پر قابو پایا جا سکا۔

15 جنوری 2012 کو کالم تماش گاہ میں ’’ میر بھی کیا سادہ ہیں کہ ۔۔ ‘‘ کے عنوان سے جو کالم شائع ہوا تھا اس میں تحریر کیا گیا تھا کہ ’’ ایف سی کے سربراہ میجر جنرل عبید اللہ خٹک کا بیان بھی اخبارات کی زینت بنا ، لیکن بعد میں کچھ سننے میں نہیں آیا کہ ان کے بیان پر کیا کارروائی ہوئی۔ انہوں نے تویہی کہا تھا کہ بلوچستان میں ایک آدھ نہیں ، بیس کے لگ بھگ غیر ملکی خفیہ ادارے سرگرم ہیں۔ کن کن ممالک کے خفیہ ادارے بلوچستان میں کیا کر رہے ہیں اور اعلی ٰ حکام کے علم میں یہ بات ہے تو کیا کارروائی ہوئی ہے عوام اس سے بے خبر ہیں۔ کہیں آزاد بلوچستان کے لئے کام کرنے والے سرگرم ہیں تو کہیں مذہب کے نام پر لوگوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے۔ کہیں لسانیت کا بھوت سر پر سوار ہے اور پنجابی اور مہاجر، سندھی کو قتل کیا جارہا ہے۔ اس تمام کارروائی میں ایک مماثلت تو نظر آتی ہے کہ عوام کو ایک ایسے خلفشار میں مبتلا کر دیا جائے کہ وہ بوقت ضرورت اپنے وطن کا دفاع کرنے کے ابل نہ رہیں۔لوگوں میں آپس میں ایسی بداعتمادی پھیلے کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کو ہی نہیں آئیں اور ایک دوسرے سے خوف کھائیں۔ ایسا ہی کچھ مشرقی پاکستان بھی میں تو ہوا تھا،جس کا ذمہ دار بھارت تھا۔ افغانستان میں بلوچستان کے پڑوس میں واقع علاقوں میں بھارت کے سفارت خانے کس کام میں سرگرم ہیں ، یہ تو حکومت کو ہی معلوم ، لیکن حقائق سے آگاہ لوگ تذکرہ کرتے ہیں کہ بلوچستان ان کی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ خود ایف سی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ایک سو اکیس فراری کیمپ موجود ہیں جب کہ تیس کے قریب افغانستان میں قائم ہیں۔ یہ فراری کیمپ ان افراد کے ہیں جو بلوچستان کو ایک آزاد ملک کی حیثیت دلانے کے لئے سرگرم ہیں ‘‘۔ اس بیان کے بعد تو اگر مگر کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ را کا یہ ایجنٹ اب تک کیوں حراست میں نہیں لیا گیا تھا۔ یہ شخص کیوں بار بار بلوچستان آرہا تھا، بلوچستان میں جو ادارے غیر ملکیوں کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے کے ذمہ دار تھے وہ کیا کر رہے تھے۔ کوئی بھی شخص کسی رکاوٹ کے بغیر گڈانی ، حب یا کسی اور علاقہ میں کیوں کر آزادانہ گھوم پھر سکتا ہے۔ اس کا ایک ساتھی صنوبر گڈانی میں کباڑی کے روپ میں سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھا، کسی نے اندازہ ہی نہیں کیاکہ کباڑی کے بھیس میں یہ کون ہے۔

جولائی 2012کو جب پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت تھی اور اسی پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری صدر پاکستان تھے، کالم تماش گاہ میں لکھا گیا تھا کہ ’’ بلوچستان میں گزرنے والا ہر لمحہ پاکستان کو عدم استحکام کی جانب گامزن کر رہا ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو حالت جنگ میں سمجھنا چاہئے۔ ہمارے پاس ان غلطیوں کو دہرانے کا وقت ہے اور نہ ہی قوت جو ہم سے مشرقی پاکستان میں سر زد ہوئیں اور جس کا خمیازہ ہم تمام زندگی بھگتتے رہیں گے ۔ مملکت پاکستان کے صدر اور حکومت کے وزیراعظم اور حزب اختلاف کے قائد کو چاہئے کہ کم از کم تین کمیٹیاں قائم کریں جو مختلف زاویوں سے بلوچستان کا جائزہ لیں اور قومی اسمبلی ان کی سفارشات پر عمل در آمد کو یقینی بنائے۔ اس سلسلے میں جتنی جلدی ہوگی بہتر ہوگا۔تاخیر کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے ہیں ۔ ایک کمیٹی پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے کم از کم چار سابق اور رٹائرڈ سربراہوں پر مشتمل ہو جو ایف سی کے اس وقت کے سربراہ میجر جنرل عبید اللہ خٹک کے بیان کی روشنی میں جائزہ لے کہ بلوچستان میں بھارت کتنا ملوث ہے اور کس کس ملک کی خفیہ ایجنسیاں کیوں سرگرم ہیں اور پاکستان فوری کیا اقدامات کرے ‘‘ ۔ پھر ایران ہمارے ساتھ کیا کر رہا تھا ۔ کیا ایران کی خفیہ ایجنسیاں اتنی معصوم ہیں کہ انہیں اندازہ ہی نہیں ہوا کہ بھارتی حکومت ان کے ہی برادر مسلمان ملک کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے ۔ یہ تو ایرانی حکومت ہی جواب دے سکتی ہے کہ یہ لاعلمی کیوں تھی، غفلت کیوں تھی اور پاکستان کے خلاف یہ سب کچھ ایرانی سرزمین سے کیوں ہو رہا تھا۔ کل بھوشن یادیو ایران کی بندرگاہ چاہ بہار کے علاقے میں موجود تھا۔ وہیں سے اس کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ کیا ایرانی حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے کہ اب بھی دیکھے کہ بھارتی حکومت اور اس کے جاسوس پاکستان کے خلاف کس حد تک سرگرام ہیں۔ ایرانی حکومت کو یہ احساس کیوں نہیں کہ پاکستان کے لوگوں نے ان کی معیشت کو ان کے مشکل دور میں سہارا دیا۔ ایرانی پیٹرول کی اسمگلنگ ہوتی رہی، ایرانی مصنوعات کی بڑی کھیپ پاکستان میں فروخت ہوتی رہی۔ رہ گیا معاملہ دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارت کار وں کا ، تو وہ تو سوتے ہی رہتے ہیں۔ ان پر مردوں جیسی خاموشی طاری رہتی ہے۔ یہ کبھی سرگرم نہیں ہوتے کہ سفارتی سطح پر ملک کے لئے کام کر سکیں۔

لاہور کے گلشن اقبال پارک میں جو ہول ناک واقعہ پیش آیا، سائے کے پیچھے بھاگنے والوں کے لئے ایک بار پھر کئی سبق اور سوالات چھوڑ گیا ہے۔ پھر اسلام آباد میں جو کچھ ہوا ، وہ بھی کئی سوالات کھڑے کر گیا۔ سکندر نامی ایک شخص نے 15اگست سن 13 کو تنہا پورے اسلام آباد کو یر غمال بنا لیا تھا۔ پورے ملک میں سکندر کا ڈرامہ ٹی وی پر دیکھا گیا تھا۔ حکومت نے آج تک باضابطہ طور پر نہیں بتایا کہ سکندر کے مقدر کا فیصلہ کیا ہوا اور کوتاہی کے شکار افسران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی تھی۔ المیہ ہے کہ پاکستان میں کچھ بھی ہوجائے، حکومت اپنی تحقیقات کو اپنے سینے میں ہی دفن کر دیتی ہے۔ کبھی حکام کے خلاف ایسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے دوسروں میں احساس پیدا ہو کہ فرائض کی ادائیگی میں تساہل اور کوتاہی برداشت نہیں کی جاسکتی ، لیکن کیا کیا اور کہا جائے، یہ تو تماش گاہ ہے اور تماش گاہوں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ کسی شاعر نے کہا :

بدن مسّخر کئے ہیں ابلیس نے ہمارے

خْدا ہماری زبان تک ہی رْکا ہْوا ہے

مزید : کالم


loading...