گڑھی خدا بخش، نوڈیرو ہاؤس اور4اپریل

گڑھی خدا بخش، نوڈیرو ہاؤس اور4اپریل
گڑھی خدا بخش، نوڈیرو ہاؤس اور4اپریل

  


آج سے اپریل کے مہینے کا آغاز ہو گیا اور پیپلزپارٹی والوں نے گڑھی خدا بخش لاڑکانہ جانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں کہسندھ حکومت نے 4اپریل کو چھٹی کا اعلان کر دیا اور امکانی طور پر آزاد کشمیر کے وزیراعظم چودھری عبدالمجید بھی پیروی کریں گے۔ اِسی اثناء میں پیپلزپارٹی کے ایک اعلامیہ کے مطابق4اپریل کو نوڈیرو میں پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہو گا، اس کے ساتھ ہی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری پہلی بار خود اس مجلس عاملہ کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ حسبِ روایت یہ بھی خبر کا حصہ ہے کہ اس بار پارٹی میں تنظیمی تبدیلیوں کا فیصلہ ہو گا، ایسا ہوا کرتا اور یہ روایت تھی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو جب اجلاس کی صدارت کرتیں تو کئی فیصلے ہو جاتے تھے، تاہم تنظیمی تبدیلیاں تب بھی اس روز کبھی کبھار ہوتیں ورنہ پارٹی کے عمومی فیصلے اور محترمہ کی تقریر یا سوال و جواب کے بعد یہ محفل برخاست ہو جاتی۔

پیپلزپارٹی کا یہ اجلاس نوڈیرہ میں محترمہ کی رہائش گاہ پر ہو گا جو ان کے دورِ وزارت عظمیٰ میں وزیراعظم ہاؤس بھی رہا ہے۔ بہت سے حضرات لاڑکانہ کی المرتضیٰ کو ہی بی بی کی رہائش تصور کر لیتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ المرتضیٰ لاڑکانہ اس وقت مسز غنویٰ بھٹو کے قبضے میں ہے کہ بہنوں نے ایک بھائی کی خواہش کے مطابق یہ آبائی گھر مرتضیٰ بھٹو کی رہائش کے طور پر قبول کر لیا تھا، المرتضیٰ لاڑکانہ بہت تاریخی رہائش گاہ ہے جو ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وزیراعظم ہاؤس کا درجہ رکھتی تھی اور یہ ان کے والد کی بھی رہائش گاہ تھی اس مکان نے مکینوں کے بہت سے ادوار دیکھے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو کے چاروں بچے اور اہلیہ نصرت بھٹو یہاں مقیم رہیں، پیدائشیں ہوئیں اور بچوں نے پرورش بھی پائی، اور پھر ایک دور میں مکان کے مکیں یہیں نظر بند بھی رہے، ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری اور مقدمہ قتل کے دوران اور سزائے موت کے بعد بھی دونوں ماں بیٹی کو یہاں نظر بند رکھا گیا، خود محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب’’دخترِ مشرق‘‘ میں اپنی نظر بندی اور لاڑکانہ کے حوالے سے بہت کچھ لکھا اور بتایا کہ المرتضیٰ میں قید تنہائی کے دوران ماں بیٹی پر کیا گزری۔ یہ بات بھی محترمہ نے خود ہی بتائی تھی کہ میر (مرتضیٰ بھٹو) نے خواہش ظاہر کی تھی کہ ان کو المرتضیٰ میں رہائش رکھنے دی جائے یہ بات بیگم نصرت بھٹو اور دونوں صاحبزادیوں بے نظیر بھٹو اور صنم بھٹو نے مان لی، محترمہ کے مطابق وہ لوگ نوڈیرو منتقل ہو گئے، ان کے مطابق اب تو نہ صرف المرتضیٰ لاڑکانہ بلکہ70کلفٹن کہلانے والی دونوں کوٹھیاں بھی غنویٰ بھٹو کے قبضہ میں ہیں، قارئین کو یہ بھی علم ہو گا کہ نام تو70 کلفٹن چلتا ہے، لیکن یہ دو کوٹھیاں ہیں جن کے نمبر70-71 کلفٹن ہیں، چونکہ پہلے ہی سے سیاسی سرگرمیاں70کلفٹن پر ہوتی تھیں اِس لئے دونوں کو ملا کر بھی70کلفٹن ہی کہا جاتا ہے۔

نوڈیرو ہاؤس کی ایک اپنی تاریخ ہے۔ یہ حویلی ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی اہلیہ امیر بیگم کو ورثے میں ملی تھی، وہ خود لاولد تھیں اس لئے محترمہ کو بیٹی بنا لیا تھا، چنانچہ المرتضیٰ کے بعد یہ حویلی ہی محترمہ کے زیر استعمال رہی جسے اب ان کے بچے بھی استعمال کر رہے ہیں یہ نوڈیرو میں واقع ہے اور اسے نوڈیرو ہاؤس ہی کہا جاتا ہے اور اِس حوالے سے اس کی اہمیت بھی ہے، محترمہ کی رہائش بھی یہیں تھی اب اسے سیاسی اہمیت حاصل ہے اور محترمہ کے تینوں بچے اسے استعمال کرتے ہیں۔ بات شروع ہوئی تھی، مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس سے اور ہم ذرا ماضی کے دریچے کھول بیٹھے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ یہ اجلاس اہم ہو گا، بہت سے حضرات تبدیلیوں کی آس لگا بیٹھے ہیں، تاہم ایسا کچھ نہیں ہو گا جو ہونا تھا وہ اس حد تک ہو چکا کہ مخدوم شہاب الدین کی جگہ مخدوم احمد محمود جنوبی پنجاب پیپلزپارٹی کے صدر ہو گئے تھے۔ اب جو لوگ عرصہ سے میاں منظور وٹو کی تبدیلی کی آس لگائے بیٹھے ہیں ان کو اس بار بھی مایوسی ہو گی کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ اگر اعتبار نہیں تو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی لاہور آمد سے ہی اندازہ لگا لیں کہ وہ اچانک آئے اور پروگرام کا علم سنٹرل پنجاب پیپلزپارٹی کے صدر کو ہی تھا جو ان کو لے کر جناح ہسپتال چلے گئے، سندھ میں پارٹی کی حکومت ہے اِس لئے اگر بلاول خود آتے اور امداد کا اعلان کرتے تو پھر کسی ’’اہم شخصیت‘‘ کو کہہ کر کوئی اعلان کرتے، لیکن انہوں نے سندھ والے اقتدار کا فائدہ اٹھایا اور وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ سے بات کر کے ان کو ساتھ ہی لے آئے کہ امداد کا اعلان ہو تو اسے جعلی تصور نہ کیا جائے۔ چنانچہ بلاول نجی طیارے میں آئے جو ظاہر ہے کہ ان کا اپنا تو نہیں، اور سیدھے ہسپتال گئے جہاں ان کی ہدایت پر سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے حکومت سندھ کی طرف سے جاں بحق ہونے والوں کے پسماندگان کے لئے پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں کے لئے تین تین لاکھ روپے کا اعلان کیا، اب سندھ کے خزانے سے یہ رقم (چیک کی صورت میں) ورثا اور زخمیوں تک پہنچنا ہے اور اس میں تاخیر نہیں ہونا چاہئے، ہسپتال سے ہی یہ معلومات مل جائیں گی کہ کون کون مستحق ہے۔

بلاول کی اچانک آمد کی وجہ سے کارکنوں کو اطلاع نہ ملی اور جن کو بروقت ملی وہ ہسپتال پہنچے، لیکن ان کی رسائی نہ ہو سکی حتیٰ کہ پنجاب اسمبلی کی رکن اور پیپلز پارٹی (شعبہ خواتین) لاہور کی صدر فائزہ ملک کو بھی سیکیورٹی حکام نے ہسپتال میں داخل ہونے سے روک لیا، انہوں نے گیٹ پر ہی میڈیا سے بات چیت کر لی۔ بلاول بھٹو نے عمر کوٹ کے جلسے سے جس کلام کی ابتدا کی وہ جاری ہے اور جاری رہے گا اس کے بعد سے وہ مسلسل تیز بات کر رہے ہیں اور اسی سے کارکن ان سے توقعات لگا بیٹھے ہیں تاہم اب وہ مایوس بھی جلد ہو جاتے ہیں، حالانکہ ان کو یہ تو علم ہی ہے کہ بلاول تو تیمار داری کے لئے آئے اور مقصد سیاسی نہیں اس لئے ان کو رعایت دینا چاہئے تاہم جو حضرات شروع سے سنٹرل پنجاب والی تبدیلیوں کے خواہش مند ہیں انہوں نے ہی مایوسی کا اظہار بھی کیا ہے اور تبدیلی نہ ہونے پر تو دُکھ ہو گا انہوں نے پہلے سے مہم شروع کرا رکھی ہے، جو ابھی تک پھل نہیں دے سکی۔ اگرچہ اندر سے بلاول بھی یہی چاہتے ہیں۔

مزید : کالم


loading...