مشرق وسطیٰ کی تعمیر نو؟

مشرق وسطیٰ کی تعمیر نو؟

ورلڈ بنک2015ء کے بعد کے حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عالمی امن بالخصوص تعمیر و ترقی کے اہداف متعین کر رہا ہے اس میں سرفہرست شام ہے، ایران میں انتخابات کے بعد کے حالات، اُردن میں فوج اور آئی ایس آئی ایس (داعش) کے درمیان پُرتشدد جھڑپیں، اِن سب کے پیش نظر راقم الحروف نے بھی کوشش کی۔ ورلڈ بینک کا عالمی ایجنڈا اپنی جگہ اسلامی ممالک خصوصاً مشرق وسطیٰ کے حالات پر نظر ڈالیں ، کیونکہ وہاں سے اٹھنے والی چنگاریاں ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔

سب سے پہلے تو ہمیں ’’مغرب‘‘ کے دیئے ہوئے نئے ویژن کو ایک طرف رکھتے ہوئے، کیونکہ ان کا اپنا ایجنڈا ہے اپنے مفادات ہیں اور اسرائیل کی سلامتی ان کے لئے سب سے اہم ہے اور غالباً نہیں یقیناً2000ء کے سال کے مطابق ہے، جبکہ2011ء کے بعد کا مشرق وسطیٰ ایک بہت ہی تبدیل شدہ مشرق وسطیٰ ہے اس خطے میں اب ہر سطح پر ایک نئے اندازسے جس سے کوئی اپنے لئے خطرہ محسوس نہ کرے اُسے ایسے نہ لگے کہ یہ تجویز اُس کی حیثیت کو کم کر دے گی، کام کرنے کی ضرورت ہے اور یہ ہمیں، یعنی مسلمان ممالک کو خود کرنا چاہئے اور انہیں، احساس ہو کہ یہ ان کی اجتماعی بہتری اور تعلیم و ترقی کے لئے کیا جا رہا ہے۔ یہ وقت ’’علاقائی تعمیر نو کی حکمت عملی‘‘ کا وقت ہے، تشدد کا خاتمہ، دہشت گردی کا خاتمہ، عوام کی اجتماعی شمولیت، تعمیر و ترقی کے ایسے پروگرام جس میں سب کو شامل کیا جائے کسی کو احساس نہ ہو کہ اُسے محروم رکھا جا رہا ہے۔ سیاسی استحکام، اداروں کی تعمیر نو، مداخلت کے بغیر مقامی قیادت کو اکٹھا لے کر چلنے کی کوشش، خصوصاً نوجوان نسل کو آگاہی دینا کہ اُن کے خوش حال مستقبل کے لئے کیا جا رہا ہے، اُنہیں معیاری ٹیکنالوجی مہیا کی جائے، ان ساری باتوں سے نظر آنا چاہئے کہ یہ ایک اجتماعی ترقی کا پروگرام ہے اس میں سب سے اہم کردار سعودی عرب اور ایران کاہے۔

اجتماعی سوچ: عرب بہار کے بعد اس خطے میں اور افریقہ کے دیگر مسلم ممالک میں فرقہ ورانہ تشدد نے جنم لیا۔ یہ اسلام دشمن قوتوں کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس کا خاتمہ اولین ترجیح ہونا چاہئے اس خطے میں ہر طرح کے وسائل موجود ہیں ان ممالک کو احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ ان کا مفاد اجتماعی کوششوں میں ہے نہ کہ مختلف کیمپوں میں تقسیم ہو کر، مشرق وسطیٰ کو صرف مشرق وسطیٰ بن کر سوچنے کی ضرورت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ’’اسلامی نیٹو‘‘ بنانے کی کوشش پوری دُنیا میں جہاں جہاں مسلمان مقیم ہیں انہیں شیعہ سُنی میں تقسیم کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔مسلمانوں کی بحیثیت اُمت محمدیؐ بھلائی کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا، ایسی کوششوں سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے، خصوصاً پاکستان کو ہر قدم بڑی احتیاط اور سوچ سمجھ کر اُٹھانا ہو گا۔ فلسطین، کشمیر، چیچنیا، برما میں بھی مسلمان رہتے ہیں اور جس ظلم و تشدد کا شکار ہیں اُن کے لئے اتحاد کی بات تو دور کی ہے کسی مسلمان مُلک نے آواز تک نہیں اُٹھائی۔ یہ طرزِ عمل ترک کرنا ہو گا یہ محدود سوچ مسلمانوں کو تباہی کی طرف لے جائے گی‘‘۔

خطے میں ماحولیات کا مسئلہ ہے، بے روزگاری ہے، بدامنی ہے، لیکن مسلمان ہی مسلمان ہسپتالوں پر بمباری کر رہے ہیں، صرف اپنا اثرو رسوخ اور دباؤ قائم کرنے اور قائم رکھنے کے لئے مشرق وسطیٰ کی قیادت کو خود بھی سوچنا ہو گا کہ اُن کا مستقبل کیسا ہو گا، کھنڈرات یا ایک خوشحال مشرق وسطیٰ؟ جس میں امن ہو، انصاف ہو، صحت، تعلیم اور بنیادی ضروریات عوام کو حاصل ہوں نا کہ اپنے اپنے اقتدار کو محفوظ رکھنے کے لئے امریکہ اور روس کی مداخلت سے فیصلے کئے جائیں، جیسا کہ پہلے عرض کیا ایران اور سعودی عرب کا کردار سب سے اہم ہے۔ وہ اسلام کی سربلندی کے لئے سوچیں، نا کہ فروعی اختلافات کو ہوا دیں۔ یہ دونوں ممالک مشرق وسطیٰ کی قیادت کو ایک جگہ بٹھا سکتے ہیں، صرف تبدیلی حکومت پر محدود ہو کر وہ اسلام دوستی نہیں اسلام دشمنی کا کردار ادا کریں گے۔

وسیع ترشمولیت: مسلمان ممالک کی تنظیم، عرب ممالک کی تنظیم، ایسا کردار ادا کرے کہ قیادت کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی شمولیت کا موقعہ دیں۔ سیاسی جماعتوں کو بھی بلا تفریق شامل کریں اور انہیں احساس دلائیں کہ آئندہ50برسوں میں وہ کیسا خطہ چاہتے ہیں، کیسا مُلک چاہتے ہیں، آنے والی نسل کے لئے کیا چاہتے ہیں۔

اس خطے میں مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن اسرائیل ہے، لیکن حال ہی میں ایک اور خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ آئی ایس آئی ایس (داعش) وہ بھی صرف مسلمانوں کو ہی قتل کرتے ہیں ان کی عبات گاہیں تباہ کرتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں یہ احساس بھی پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ ’’مشترکہ دشمن‘‘ کی پہچان اور اُس کے خلاف مشترکہ دفاعی حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے اور یہ بھی مغرب کی امداد اور مداخلت کے بغیر علاقائی طاقتیں خود ہی کر سکتی ہیں اور انہیں اپنا یہ کردار ادا کرنا چاہئے، ورنہ تاریخ بھی اُنہیں معاف نہیں کرے گی۔

جو مسلمان مُلک، یعنی ایران اور سعودی عرب جو یہ استطاعت رکھتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کی تعمیر نو میں مدد کریں ان کے مدد نہ کرنے کی و جہ سے مغرب وہاں کے متاثرین، مہاجرین کو روٹی، کپڑا اور مکان مہیا کر رہا ہے، یعنی غیر مسلم مسلمانوں کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔ حالات وہاں کے لوگوں کو تشدد کی طرف مائل کر رہے ہیں اور داعش کو رضا کار مل رہے ہیں۔

اتفاق اور انصاف: تعمیر و ترقی کے لئے بے شمار مدد مہیا کرنا بے کار ہو گا اگر سب فریقین کو یہ احساس نہ ہو کہ یہ تقسیم انصاف سے ہو رہی ہے کسی کو احساس محرومی نہ ہو۔ آج سے 20 سال پہلے اس خطے میں صرف اسرائیل، فلسطین کا تنازعہ تھا۔ مسئلہ تھا، لیکن اسلام دشمن قوتوں نے ہمارے فقہی اختلافات کو ہوا دے کر اس معاملے کو پس پشت ڈال دیا اور آج اس کی نوعیت بالکل مختلف بنا دی گئی ہے اس خطے نے دُنیا کو انصاف رہن سہن کا انداز دیا اور آج ہمارے اپنے ہاتھوں غیر مسلم ممالک سے مدد لینے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں۔

تقسیم میں یکسانیت :ماضی میں مقامی حکومتیں بھی اور بیرونی امداد بھی War Lords میں تقسیم کر دی جاتی تھی۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہ ساری امداد اپنے اور اپنے حامیوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ ورلڈ بنک ایسا نظام ترتیب دینے کی حکمت عملی طے کر رہا ہے کہ ماضی کا یہ تلخ تجربہ نہ دہرایا جائے اور اس معاملے میں افغانستان میں اپنائی جانے والی حکمت عملی پر عمل کیا جائے گا۔ شام کے صدر بشار الاسد نے بھی 2011ء سے پہلے صرف اپنے حامی Corrupt Elite کو مضبوط کیا ،جس کے رد عمل کے طور پر احتجاج شروع کیا گیا اور بیرونی مداخلت کا راستہ کھل گیا اور بین الاقوامی طاقتیں خطے میں اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے نئی نئی حکمت عملی اختیار کر کے داخلی معاملات میں بھی مداخلت کرنے لگیں۔ اب محروم طبقات کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔

تعمیر نو اور ترقی :اس وقت فوری ضرورت ہے کہ بین الاقوامی امدادی اداروں کی مدد سے خطے میں تعمیر و ترقی کا کام تیز رفتاری سے شروع کیا جائے، لیکن ایسی بیرونی امداد جس کے پیچھے خفیہ سیاسی مفادات وابستہ ہیں اسے دور رکھا جائے۔ اس وقت خانہ جنگی نے خطے کو آزادی رائے تعلیم، صحت، زندگی کی بنیادی ضروریات سے بالکل محروم کر دیا ہوا ہے۔ محروم لوگوں کا اعتماد بحال کرنا بھی پہلا قدم ہوگا۔ تیل کی کم ہوئی قیمت نے بھی انہیں بہت متاثر کیا ہے۔ اس خطے کے تیل کی وجہ سے اب تک پورا مغرب فائدہ اٹھاتا رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مغرب قرض ادا کرے سیاسی مفادات کی ملاوٹ کے بغیر اِسی تیل کی وجہ سے مغرب میں ترقی، معیشت کی مضبوطی، روز گار کے ذرائع پیدا ہوئے تھے کیونکہ اس خطے میں امن و استحکام آنے سے مسلمان ملکوں کے علاوہ ’’پڑوسی‘‘ بھی امن سے رہ سکیں گے۔

تعمیر نو کی گنجائش۔ مشرق وسطیٰ میں مقامی سطح پر قومی سلح پر اور علاقائی سطح پر تعمیر نو کی بے حد گنجائش ہے اور ضرورت بھی سب سے پہلے تعلیم اور صحت کے مراکز قائم کرنے کی ہے، کیونکہ صحت مند اور تعلیم یافتہ مرد اور خواتین بہتر طور پر باقی کاموں میں کردار ادا کر سکتے اور کریں گے۔ ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، تجارت، کمپیوٹر سائنس میں تعلیم کی ضرورت ہے، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ زراعت، ثقافت اور تاریخ کو نظر انداز کر دیا جائے۔ توازن برقرار رکھنا ضروری ہے اور ترجمے پڑھنے پڑھانے کی بجائے اپنی زبان میں تجاویز پیش کرنا زیادہ سود مند ہوتا ہے یہ سب کچھ کرنے کے لئے عالمی سطح پر خطے میں امن اور استحکام ضروری ہے۔ اِس سلسلے میں ایران اور سعودی عرب سب سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بین الاقوامی اداروں اور مغرب کی معاونت بھی ضروری ہے، لیکن سعودی عرب اور ایران کو بھی سب کے ساتھ یکساں رویہ برقرار رکھنا ہو گا۔ اسلامی دُنیا کے سب سے امیر ممالک ہونے کے ناطے بھی یہ ان کا فرض ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ کے حالات عالمِ اسلام پر اثر انداز ہوتے ہیں ایسا ہو جائے تو مستقبل میں فروعی اختلافات کی جگہ ہم ایک خوشحال، پُر امن، سیاسی طور پر مستحکم مشرقِ وسطیٰ دیکھ سکیں گے۔ اس کے لئے صرف سیاسی مفادات اور فروعی اختلافات سے اوپر اُٹھنا ہوگا۔ اللہ کرے۔

مزید : کالم