دھرنے ،عوام اور فٹ بال

دھرنے ،عوام اور فٹ بال
دھرنے ،عوام اور فٹ بال

  


اسلام آباد میں ایک اور دھرنا ختم ہو گیا۔ اس دھرنے کی اخلاقی و قانونی بنیادیں تو پہلے ہی متنازعہ تھیں، تاہم لاہور کے سانحہ کو نظر انداز کرکے اس دھرنے کو جاری رکھنے کے عمل نے اسے بے حسی کی علامت بھی بنا دیا۔ یہ دھرنا اب ختم ہو چکا ہے اور اس کے حوالے سے مختلف کہانیاں گردش کر رہی ہیں۔ حکومت اور دھرنے والے دونوں ہی اپنی ٹانگ ایک دوسرے کے اوپر رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مَیں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ کیا مطالبات تسلیم ہوئے اور کیا رد کر دیئے گئے۔ میرے ذہن میں تو یہ نکتہ کلبلا رہا ہے کہ آج تک اسلام آباد کے ڈی چوک پر جو دھرنے ہوئے ہیں، ان کا کوئی مثبت نتیجہ بھی نکلا ہے یا دوسرے لفظوں میں حکومتوں نے جو مطالبات ماننے کا ان دھرنوں کے دوران اعلان کیا، وہ آج تک پورے بھی ہوئے ہیں؟ مَیں غور کرتا ہوں تو اس کا جواب نفی میں ملتا ہے۔ یہ دھرنے وقتی طور پر زندگی کا پہیہ تو جام کر دیتے ہیں، ایک تشویش اور پریشانی کو تو جنم دیتے ہیں، مگر ان سے حاصل وصول کچھ نہیں ہوتا۔ ان کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے دارالحکومت کی بابت ایک منفی تاثر پیدا ہوتا ہے۔ اس کا تاثر ایک ایسے شہر کا بنتا ہے جو نومین لینڈ ہے اور جہاں جس کا جی چاہتا ہے، چھاؤنی ڈال کر بیٹھ جاتا ہے۔

جس طرح ہوائی جہاز اغوا کرنے والوں کے مطالبات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی، اسی طرح کسی جگہ دھرنا دے کر بیٹھ جانے والے نہ صرف خود کو بلکہ اپنے حامیوں کو بھی بے وقوف بنا رہے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے تئیں مطالبات منوا رہے ہوتے ہیں، حالانکہ وہ خود جرم کا ارتکاب کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے دھرنوں کے مطالبات میں سب سے پہلا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے، درج مقدمات ختم کئے جائیں، جب آپ نے آخر میں کرنا ہی یہ کام ہے تو پھر اتنے بڑے عذاب سے گزرنے اور دوسروں کو عذاب میں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے؟ دھرنے کے پس منظر میں کیا ڈیل ہوتی ہے، کیا لین دین طے کیا جاتا ہے، چند لوگ مل کر ان ہزاروں لوگوں کی کیا قیمت وصول کرتے ہیں، جنہیں وہ انقلاب یا اسلام کے نام پر اسلام آباد لائے ہوتے ہیں، اس کا کسی کو کچھ علم نہیں ہوتا۔ بس یہ بیان جاری ہو جاتا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہو گئے اور دھرنا ختم کر دیاگیا۔ مجھے اس وقت ان معصوم لوگوں پر بہت ترس آ رہا ہوتا ہے، جنہیں لاؤڈ سپیکر پر اعلان کرکے کہا جاتا ہے کہ دھرنا ختم ہو گیا ہے، اب وہ اپنے اپنے گھروں کو جائیں، ہاں راستے میں کوئی توڑ پھوڑ نہ کریں، بس سر جھکا کے اسلام آباد کی سڑکوں سے نکل کر اللہ اللہ کریں۔

کاش یہ بات اس وقت بھی کہی جائے جب لوگوں کو اشتعال دلا کر اسلام آباد پہنچنے کی کال دی جاتی ہے، اس وقت تو ’’جو بھی راستے میں آئے، اسے کچل دو‘‘ کا نعرہ دیا جاتا ہے، جیسا کہ حالیہ دھرنے کے موقع پر ہوا۔ میٹرو اسٹیشن جلا دیا گیا اور ملک کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ اس وقت تو یہی لگتا تھا کہ کوئی غیر ملکی لشکر اسلام آباد کو فتح کرنے آیا ہے، مگر واپسی پر یہ حکم صادر کیا گیا کہ اسلام آباد کے آستانے سے سرجھکا کے جانا ۔۔۔ میری یادوں کی فلیش بیک میں ڈاکٹر طاہر القادری کے مشہورِ زمانہ دھرنے کی جب بھی فلم چلتی ہے ، مَیں یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ اس ملک کے عوام کو کس بے دردی کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک ایسے مُلک میں جہاں آئین ہے، پارلیمنٹ ہے، عدالتیں ہیں، ایک واضح حکومتی نظام ہے، اُس میں جنگل کا قانون کیسے رائج کیا جا سکتا ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ کسی شہر کے مخصوص علاقے پر قبضہ کر کے بیٹھ جائیں ،پھر یہ مطالبہ کریں کہ ہم جو کہہ رہے ہیں، اسے مانا جائے۔ بالفرض طوعاً وکرہاً حکومتِ وقت اُن کی بات مان بھی لیتی ہے، تو اُسے قانون کے عمل سے گزارے بغیر عملی طور پر کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے؟

ضرور پڑھیں: ایک اورکاوش!!!

ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کا نتیجہ کیا نکلا تھا؟ کتنی رونق لگتی تھی کنٹینر میں؟ کیسے کیسے مناظر دیکھے تھے قوم نے، کس کس طرح عوام کو بے وقوف بنایا گیا تھا؟ مذاکرات کے نام پر کیسی شاندار فلم چلائی گئی تھی، کاغذ کے ٹکڑے کنٹینر سے نکل کر وزیراعظم ہاؤس اور وہاں سے ڈی چوک آتے رہے تھے، پھر کوئی دستخط بھی ہوئے تھے شاید، بہت سی افواہیں بھی اُڑی تھیں کہ بڑی ڈیل ہو گئی ہے، لیکن جب اس دھرنے کے ختم ہونے کا بگل بج گیا تو کسی کو بھی کچھ معلوم نہیں تھا کہ ہوا کیا ہے؟ کسی نے مڑ کر اُن دھرنا دینے والوں کی خبر تک نہیں لی تھی، جنہیں اسلامی نظام کے نام پر اسلام آباد لایا گیا تھا۔ مجھے ان بچیوں کے چہرے اب تک یاد ہیں جو اسلام آباد کے دھرنے میں بیٹھی تھیں اور روزانہ اس عزم کا اظہار کرتی تھیں کہ اب اسلام آباد سے اُس وقت تک نہیں جائیں گی، جب تک پاکستان میں اسلامی نظام نہیں نافذ کرا لیتیں۔ آج وہ بچیاں اپنے گھروں میں بیٹھی کیا سوچتی ہوں گی، مجھے اس کا علم نہیں، تاہم اس حالیہ دھرنے کے اختتام پر انہیں اپنے سارے دُکھ ضرور یاد آ گئے ہوں گے۔ ہمارے معاشرے میں یہ ایک عجیب رجحان درآیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے سیاسی اکابرین اور مذہبی پیشواؤں کو خود پر اعتماد نہیں رہا، وہ زندگی کا پہیہ جام کر کے اپنے مطالبات منوانا چاہتے ہیں، حالانکہ یہ سرا سر خود غرضی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ لیڈر حضرات اپنے مطالبات کے حق میں بھوک ہڑتال کرتے، شہر کے کسی کونے میں احتجاجی کیمپ لگا کر بیٹھ جاتے، اسی طرح جیسے میر تقی میر نے کہا تھا:

دور بیٹھا غبار میرؔ اُس سے

عشق بن یہ ادب نہیں آتا

جب سیاست لوگوں کا عشق ہوتی تھی تو اس کی روایات بھی بہت اعلیٰ تھیں۔ اب سیاست ایک مفاد اور کاروبار بن گئی ہے، اس میں بھی بلیک میلنگ اور گھٹیا حربے استعمال کرنے کا رجحان پیدا ہو گیا ہے۔ سیاست اس بات کی کہاں اجازت دیتی ہے کہ آپ لوگوں کی زندگی کو گھروں میں محبوس کر دیں۔ آپ کی بات اور مطالبات میں وزن ہے تو عوام کی حمایت اور طاقت ویسے ہی آپ کے ساتھ ہو جاتی ہے۔ رائے عامہ کی اپنی ایک آواز ہوتی ہے، اُس آواز کو بیدار کرنے کی بجائے اگر ساری توجہ اس پر مرکوز کر دی جائے کہ دارالحکومت کے اہم ترین علاقے پر قبضہ کرکے بیٹھ جانا ہے اور اپنے مطالبات منوا کر اٹھنا ہے، تو اس کی قانونی حیثیت بھی ویسے ہی مشکوک ہو جاتی ہے، جس طرح کسی قبضہ گروپ کو نکالنے کے لئے نظریہء ضرورت کے تحت اس کے کچھ مطالبات مان لئے جاتے ہیں، مگر ان پر عملدرآمد کی نوبت کبھی نہیں آتی، اسی طرح دھرنا دے کر منوائے گئے مطالبات کبھی قانون کا درجہ اختیار نہیں کرتے۔ جیسا کہ اس حالیہ دھرنے کے بعد وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے واضح کر دیا کہ کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوا اور کسی قانون شکن کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

دھرنا ختم کرنے والوں کی اندر خانے کیا ڈیل ہوتی ہے، اس بارے میں تو کبھی حقیقت سامنے نہیں آتی، تاہم انہیں اپنی ساکھ بچانے کے لئے کوئی ایسا محفوظ راستہ چاہیے ہوتا ہے، جو انہیں منجدھار سے نکال کر باہر لے جائے۔۔۔یہ درست ہے کہ سیاست اور جمہوریت میں احتجاج عوام کا حق ہے، مگر کیا اس آزادی کو دوسرے شہریوں کی آزادی چھیننے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ شہروں میں سڑکوں کے جو جال بچھے ہوئے ہیں، وہ پانی کی لائنوں کی طرح ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں، کوئی ایک لائن بند ہو جائے تو پورے شہر کاپانی بند ہونے لگتا ہے۔ اسی طرح کوئی ایک سڑک یا چوک دھرنا دے کر بند کر دیا جائے تو زندگی مفلوج ہو جاتی ہے۔ پھر جب یہ بھی ثابت ہے کہ ان دھرنوں کا نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلتا تو اس روایت کو جاری رکھنا خود عوام کے ساتھ ایک ظلم ہے، خود دھرنے میں جوق در جوق شرکت کرنے والے عوام کو بھی اب سوچنا چاہیے کہ انہیں جس مقصد کے لئے جانوروں کے ریوڑ کی طرح گھیر گھار کر اسلام آباد لایا جاتا ہے، وہ مقصد تو کبھی پورا ہوتا نہیں اور انہیں اپنے کرچی کرچی خواب لے کر واپس آنا پڑتا ہے، تو آخر وہ کب تک اس کھیل کا حصہ بنتے رہیں گے، جس میں ان کا کردار سوائے ایک فٹبال کے اور کچھ نہیں۔

مزید : کالم


loading...