فضائل حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور اُن کے کار نامے

فضائل حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور اُن کے کار نامے

مولانا عبدالنعیم

مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور

افضل البشر بعد الانبیاء خلیفہ رسول امیر المومنین ابوبکرصدیقؓ کا اسم مبارک عبداللہ کنیت ابوبکر جبکہ لقب صدیق و عتیق تھے۔ شجرہ نسب عبداللہ (ابوبکرصدیقؓ ) بن ابی قحافہ عثمان بن عامر بن عمر وبن کعب بن سعد تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب القرشی التیمی۔ آپ کا سلسلہ نسب مرہ بن کعب پر حضور اکرمﷺ سے جا کر ملتا ہے۔ والدہ کی طرف سے آپؓ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ ام الخیر سلمیٰ بنت صخر بن عامر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ۔ آپ کی والدہ کی کنیت ام الخیر تھی جو آپؓ کے والد کی چچا کی بیٹی تھیں۔

اسم مبارک:

آپ کا اسم مبارک عبداللہ ہے۔ گھر والوں نے آپ کا نام عبداللہ رکھا، مگر آپ اپنی کنیت ابوبکر سے زیادہ مشہور ہیں۔

لقب عتیق:

آپ کے لقب عتیق کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک دن والد محترم سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے ارشاد فرمایا ۔ اے ابوبکرؓ اللہ نے تمہیں آگ سے آزاد فرمادیا چنانچہ اسی دن آپ عتیق کے لقب سے مشہور ہو گئے۔

لقب صدیق:

آپؓ کا لقب صدیق بھی ہے چونکہ آپ ہمیشہ سچ بولا کرتے تھے اور آپؐ کی ہر خبر پر تصدیق کرنے میں سبقت فرماتے تھے۔ اسی وجہ سے آپؓ کو صدیق کہا جاتا ہے۔ کتب سیرت میں اس لقب کے بارے میں لکھا ہے کہ آپؓ نے واقعہ معراج کی سب سے پہلے تصدیق کی چنانچہ حضور اقدسﷺ نے آپؓ کو صدیق کے لقب سے نوازا۔

ولادت باسعادت:

آپؓ کی ولادت باسعادت کے بارے میں علامہ جلال الدین سیوطیؒ لکھتے ہیں کہ آپ کی ولادت حضور اقدسؐ سے دو برس دو ماہ قبل مکہ مکرمہ میں ہوئی۔

اخلاق و کردار:

حضر ت ابوبکرصدیقؓ زمانہ جاہلیت سے اعلیٰ اخلاق و کردار کے مالک تھے۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ والدماجد نے جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں شراب کا قطرہ بھی نہیں چکھا تھا۔ آپؓ نرم اور شریفانہ طبیعت کے مالک تھے۔ اپنی قوم میں بہت تعلقات رکھنے والے محبوب ، نرم اخلاق ، قریش میں بہترین نسب والے تھے۔ قریش کے انساب کا انہیں تمام قریش سے ز یادہ علم تھا۔ آپؓ تجارت کرتے تھے۔

حلیہ مبارک:

طبقات ابن سعد میں حضرت عائشہؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کے باپ ابوبکر کا حلیہ کیا ہے؟ چنانچہ حضرت عائشہؓ نے جواب میں فرمایا کہ آپ کی رنگت سفید بدن دبلا تھا۔ دونوں رخسار اندر کو دبے ہوئے تھے۔ چہرے پر گوشت زیادہ نہ تھا۔ پیشانی کشادہ اور بلند تھی۔ ہمیشہ نگاہ نیچی رکھتے تھے۔

قبول اسلام:

حضرت ابوبکرؓ وہ واحد شخصیت ہیں کہ مردوں میں سب سے پہلے آپؓ نے اسلام قبول کیا۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے جس کسی کو اسلام کی دعوت دی اس نے کچھ نہ کچھ تردد اور ہچکچاہٹ کا اظہار کیا۔ سوائے ابوبکرؓ کے جب میں نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے بغیر تامل کے فوراً اسلام قبول کرلیا۔

تبلیغ اسلام:

آپؓ نے جب اسلام قبول کیا تو اس وقت سے لوگوں کو دعوت دینا بھی شروع کردیا اور دین اسلام کی تبلیغ کے لئے کوشاں ہوگئے۔ آپ کی اولین تبلیغ سے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ان کا شمار عشرہ مبشرہ صحابہؓ میں ہوا۔

بیعت خلافت کا مسئلہ:

آپؐ وصال مبارک کے بعد منافقین نے یہ سازش کی کہ مدینہ منورہ میں خلافت کا مسئلہ کھڑا کردیااور مہاجرین و انصار کے مابین اس مسئلہ پر نفاق پیداکرنے کی کوشش کی، لیکن اس مسئلہ کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرلیا گیا۔

جھوٹے مدعیان نبوت کا فتنہ:

آپؐ کی حیات طیبہ میں ہی جھوٹے مدعیان نبوت کا فتنہ نمودار ہوچکا تھا۔ چنانچہ آپؐ کی حیات طیبہ میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر دیا۔

ہجرت کے دسویں سال بنی حنیفہ کا ایک وفد مدینہ منورہ میں آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وفد میں مسیلمہ کذاب بھی شامل تھا۔ تمام افراد نے اسلام قبول کیا۔ مسیلمہ کذاب جب یمامہ میں گیا تو وہ مرتد ہوگیا اور اس نے نبوت کا دعویٰ کردیا بہت سے لوگوں نے اس کے دعویٰ کو قبول کر لیا۔ چنانچہ اس نے اپنی قوم کے دس افراد کو سفیر بنا کرحضور اقدسؐ کے پاس بھیجا اوران کے ہاتھ ایک خط بھیجا جس میں تحریر تھا کہ مَیں آپ کے ساتھ نبوت میں شریک ہوں۔ نصف دنیا آپ کی ہے اور نصف میری ہے۔ مسیلمہ کے اس خط کو آپؐ پڑھ کر جلال میں آگئے اور مسواک کی لکڑی جو کہ دست مبارک میں پکڑی ہوئی تھی۔ فرمایا للہ کی قسم اگر وہ مجھ سے اس کو بھی مانگے تو میں اس کو نہیں دوں گا۔ پھر آپؐ نے قاصدوں سے پوچھا تم اس بارے میں کیا کہتے ہو تو انہوں نے کہا ہم وہی کہتے ہیں جو مسیلمہ کہتا ہے ۔ آپؐ نے فرمایا اگر قاصد کو قتل کرنا منع نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن اڑا دیتا۔ چنانچہ حکم دیا کہ مسیلمہ کے خط کا یہ جواب لکھا جائے۔ محمد رسول اللہ (ﷺ) کی طرف سے مسیلمہ کذاب کو اما بعد زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے اور انجام متقین کے لئے ہے۔ آپؐ کے واضح جواب کے باوجود مسیلمہ کذاب اپنے دعویٰ پر قائم رہا۔ یہاں تک کہ آپؐ نے اس جہاں سے رحلت فرمائی تو مسیلمہ کذاب نے نبوت کے دعویٰ میں تیزی دکھانی شروع کر دی۔ جہاں تک کہ ایک لاکھ سے زیادہ افراد اس پر ایمان لے آئے ۔ مسیلمہ کذاب جادو اور شعبدہ بازی کا فن جانتا تھا جس سے لوگ جلد اس کے جال میں پھنس جاتے تھے۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے اس فتنہ کے خاتمہ کے لئے حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں لشکر ترتیب دیا۔ مرتدین کی سرکوبی اور قلع قمع کے لئے حضرت ابوبکرؓ نے گیارہ لشکر تیار کئے تھے۔ مسیلمہ کذاب بہت طاقت پکڑ چکا تھا۔ بیس ہزار سے زیادہ لوگ مسیلمہ کذاب کے مارے گئے جبکہ مسلمان شہداء کی تعداد1200 کے لگ بھگ تھی۔ ان شہداء میں 700صحابہ کرامؓ قرآن کے حافظ تھے اس لڑائی میں مسیلمہ کذاب حدیقۃ الموت میں چھپ گیا۔مسلمانوں کی ایک جماعت اس کے پیچھے گئی اور اس باغ میں شدید جنگ ہوئی ۔ حضرت حمزہؓ کے قاتل حضرت وحشیؓ (جو کہ اسلام قبول کرچکے تھے) نے مسیلمہ کذاب پر حربہ پھینکا جو اس کے سینے میں اتر گیا اور پشت کی طرف سے نکل گیا۔ ایک انصاری مرد نے اسے تلوار مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مسیلمہ کذاب کی بیوی سجاح جو کہ خود نبوت کی دعویدار تھی وہ بھاگ کر بصرہ میں چھپ گئی اور روپوشی کے عالم میں کچھ دنوں بعد مرگئی۔ اسی طرح مسیلمہ کذاب کے فتنے کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوگیا۔

اسودعنسی کا خاتمہ :

اسود عنسی ایک کاہن اور شعبدہ باز شخص تھا۔ جادو کے زور پر لوگوں کو اپنی طرف راغب کرتا تھا ۔ روایات میں آتا ہے کہ جب بازان صنعانی یمن کا بادشا ہ تھا۔ اس نے اسلام قبول کرلیا تھا اور حضور ؐ کے حکم سے اس ملک کا حکمران تھا اس کا انتقال ہوگیا تو اسود عنسی نے خروج کر کے صنعا ء کے مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرلیا اور ملک پر قابض ہوگیا۔ اس نے بازان کی بیوی پر مرزبان کو زبردستی اپنے نکاح میں لے لیا۔ اسود عنسی نے آپؐ کی حیات میں ہی نبوت کا دعویٰ کردیا تھا۔ حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے اس قبضہ کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے ایک مہم روانہ کی۔چنانچہ اسودعنسی حضرت فیروز دیلمی کے ہاتھوں جہنم واصل ہوا۔ اِسی طرح اس جھوٹے مدعی نبوت کا خاتمہ ہوگیا۔

طّلیحہ بن خویلد کی سرکوبی:

طلیحہ بن خولد بھی مدعی نبوت تھا اس کا دعویٰ یہ تھا کہ جبرائیل میرے پاس آتے ہیں اور میرے پاس وحی لاتے ہیں۔اس نے سجدوں کو نماز سے خالی کردیا اور پہلی چیز جو اس سے ظاہر ہو کر لوگوں کی گمراہی کا سبب بنی۔ وہ یہ ہے کہ ایک دن وہ اپنی قوم کے ساتھ سفرکررہا تھا۔ اس کے پاس پانی ختم ہو گیا اور ان پر پیاس نے غلبہ کیا تو اس نے کہا کہ میرے گھوڑے پر سوار ہوجاؤ اور چندمیل تک چلو تمہیں پانی مل جائے گا۔ اس کی قوم کے لوگوں نے ایسا کیا تو انہیں پانی مل گیا ۔ اس وجہ سے بدوی اس کے فتنہ میں مبتلاہوگئے۔جب حضرت ابوبکرصدیق ؓ کو اس کی خبرملی تو اس کی سرکوبی کے لئے ایک لشکر تیارکیا اور اس کا امیر حضرت خالد بن ولیدؓ کو بنایا اس کے خلاف جنگ ہوئی تاریخ میں لکھا ہے طلیحہ اسلام قبول کر کے مسلمان ہوگیا تھا۔

مرتدین کا انسداد:

حضور اقدسﷺ کے وصال کے بعد بہت سے فتنوں نے سراٹھایا، بہت سے سرداران عرب مرتد ہوگئے۔ مرتدین کے ان فتنوں کا خاتمہ کرنا ضروری تھا۔ چنانچہ حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد فوری طور پر اس کی طرف توجہ کی او رمرتدین کے انسداد کے لئے حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے مختلف اسلامی لشکروں کو ترتیب دیا او رحضرت ابوبکرصدیق ؓ نے فتنہ ارتداد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ اللہ ہم سب مسلمانوں کو حضرت سیدنا ابوبکرصدیقؓ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

مزید : ایڈیشن 1


loading...