معروف دانشور ڈاکٹر ممتاز احمد انتقال کر گئے،گوجر خان میں سپرد خاک

معروف دانشور ڈاکٹر ممتاز احمد انتقال کر گئے،گوجر خان میں سپرد خاک
 معروف دانشور ڈاکٹر ممتاز احمد انتقال کر گئے،گوجر خان میں سپرد خاک

  


اسلام آباد(خصوصی رپورٹ )اسلامی یونیورسٹی کے ممتاز محقق و دانشور ڈاکٹر ممتاز احمد انتقال کر گئے وہ اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ اقبال برائے تحقیق مکالمہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر تھے ریکٹر جامعہ ڈاکٹر معصوم سمیت نامور دانشور اور اعلیٰ شخصیات نے نماز جنازرہ میں شرکت کی۔ ڈاکٹر ممتاز احمد ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال ادارہ برائے تحقیق و مقالہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد گزشتہ رات انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 76 برس تھی اور وہ گردے کے عارضہ میں مبتلا تھے۔جمعرات کے روز ان کی نماز جنازہ 3 بجے سہ پہر ان کے آبائی گاؤں دلمی گوجر خان میں ادا کردی گئی۔ان کی نماز جنازہ میں ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر معصوم یسین زائی، یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر حسن صہیب مراد، وائس چانسلر رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد ، انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے سربراہ خالد رحمن، ممتاز تاریخ نگار سلیم منصور خالد، معروف صحافی سجاد میر، خورشید احمد ندیم سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ ڈاکٹر ممتاز احمد نے لواحقین میں بیوہ اور دو بیٹے چھوڑے ہیں۔ ڈاکٹر ممتاز احمد کو سیاسیات، اسلامی تحریکوں، دینی تعلیم پر ایک سند کی حیثیت سے حاصل تھی۔ ڈاکٹر ممتاز احمد نے یو نیورسٹی آف کراچی سے پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے ایک لاکھ امیدواروں میں بی اے کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی یونیورسٹی آف کراچی سے سیاسیات میں ماسٹر کرنے کے بعد انہوں نے یونیورسٹی آف شگاگو سے ڈاکٹریٹ کیا۔ زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے اور پروفیسر خورشید احمد کی زیر ادارت شائع ہونے والے میگزین ’’ چراغ راہ‘‘ کی مجلس ادارت کے رکن رہے، ڈاکٹر ممتاز احمد نے مسئلہ کشمیر پرپہلی مدلل کتاب لکھی جس کا دیباچہ مولانا مودودی نے خود تحریر کیا تھا۔ ڈاکٹر ممتاز احمد 30 سال تک امریکہ میں مقیم رہے 2000 کے بعد پاکستان واپس تشریف لائے اور 2007 سے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے وابستہ ہوگئے تھے۔ اس دوران وہ صدر اور نائب صدر کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔ ڈاکٹر ممتاز کی کئی کتابوں کے مصنف تھے اور ان کے تحقیقی مقالے بین الاقوامی سطح پر شائع ہو چکے ہیں۔وہ بین الاقوامی سطح پر کئی سوسائٹیوں ، اداروں کے رکن بھی تھے اور ساؤتھ ایشین مسلم اسٹیڈیز کے صدر جبکہ سنٹر فار اسلام اینڈ پبلک پالیسی واشنگٹن امریکہ کے نائب صدر کے طور پر اپنی خدمات سر انجام دے رہے تھے۔

مزید : صفحہ اول


loading...