بنگلہ دیش میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مقدمہ عالمی عدالت میں لے جایا جائے :پائنا

بنگلہ دیش میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مقدمہ عالمی عدالت میں لے ...

لاہو(خبر نگار خصوصی)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیشنل افیئرز(پائنا )کے زیر اہتمام قائد اعظم لائبریری میں منعقدہ سیمینار کے اعلامیہ میں طے پایا ہے کہ پاکستانی شہریوں اور سول سوسائٹی کی طرف سے ایک میمورنڈم تیار کیا جائے گا جس میں بنگلہ دیش میں جاری پاکستان کے خلاف اقدامات ختم کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا ۔ اعلامیہ کے مطابق یہ میمورنڈم پاکستان کی نمایاں علمی ، سماجی و سیاسی شخصیات اور دانشوروں پر مشتمل ایک وفد بنگلہ دیش ، امریکہ ، یو این او ،او آئی سی اور مسلم ممالک کے سفیرو ں کو مل کر انہیں دے گا تاکہ بنگلہ دیش میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پھانسیوں کے عمل کو روکا جاسکے۔ اس مقصد کے لیے یہ وفد انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور یو این او سے بھی رابطہ کر ے گا ۔سیمینار سے سنئیر سیاستدان جاوید ہاشمی ،سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر ،روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی، احمر بلال ، شمشاد احمد خان ، لیاقت بلوچ ،الطاف حسن قریشی و دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔نظامت کے فرائض معروف کالم نگار رؤف طاہر نے ادا کیے ۔ جماعت اسلامی کے نائب امراء حافظ محمد ادریس ، اسد اللہ بھٹو و دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے ۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہاکہ بنگلہ دیش کے علاوہ پاکستان کو بھی بھارتی اثرو رسوخ اور تسلط سے بچانے کی ضرورت ہے ۔ کچھ لوگ ہمیشہ بھارت کی بالادستی قبول کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں ایسے عناصر کی طرف سے جاری سازشوں کو روکنا ہوگا ،بنگلہ دیش معاشی اور سماجی مجبوریوں کی وجہ سے بھارت کے ہاتھوں استعمال ہوتا ہے۔بھارت نے جیسا کردار 1971میں بنگلہ دیش کو پاکستان سے الگ کرنے کیلئے کیا تھا آج وہی کردار بلوچستان میں ادا کر رہا ہے۔1968میں ایوب خان نے کہا تھا کہ شیخ مجیب بھارت کیلئے کام کر رہا ہے۔ ایس ایم ظفر نے اپنے خطاب میں کہاکہ بنگلہ دیش میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مقدمہ عالمی عدالت میں لے جایا جائے تاکہ انصاف کے قتل عام کو روکا جاسکے ۔بنگلہ دیش میں پاکستان مخالف اقدامات سیاسی ہیں اور بھارت پراکسی وار لڑ رہا ہے ،بنگلہ دیش کی علیحدگی کے آثار پہلے سے موجود تھے ۔نفرتوں کو محبتوں میں بدلنے کی ضرورت ہے پاکستانی حکومت کو زیادہ سے زیادہ وفود پاکستان بھیجنے چاہیں۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاکہ اس مسئلے پر سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بات ہونی چاہیے اور قوم کی طرف سے اس پر مشترکہ موقف اختیار کرناچاہیے ۔بنگلہ دیش کس پاکستان سے الگ کرنے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جو پاکستان کیلئے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے کہاکہ حکومت کو مصلحت چھوڑ کر دوٹوک موقف اختیار کرناچاہیے اور عالمی برادری کے سامنے بنگلہ دیش کے مظالم کو پیش کر ے ۔ماضی کو بھول کربنگلہ دیش کے ساتھ جو معاملہ ہو ا اس کو بھول جانا چاہیے۔جو واقعہ ہونا تھا ہو گیا، غلطی جس کی بھی تھی ماضی کو بھول کر حال پر توجہ دینی چاہیے۔ واقعات پر پوری نظر رکھتے ہوئے دیکھنا چاہیے کہ پاکستانیوں کو کس طرح بنگلہ دیش میں پھانسیاں دی جا رہی ہیں۔صرف پاکستان سے مخلص ہونے پر سزائیں دی جا رہی ہیں ۔وہاں پھانسیاں دی جا رہی ہیں لیکن حکومت پاکستان مکمل خاموش ہے ۔حکومت نے اس حوالے سے کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کیا اس حوالے سے پاکستانی حکومت کو اس معاملے پر ہر صورت اقوام متحدہ سمیت پوری دنیا میں آواز اٹھانی چاہیے ۔ احمر بلال صوفی نے کہاکہ بنگلہ دیش میں قائم کرائم ٹریبونلز انٹر نیشنل ٹریبونل کہلانے کے حقدار نہیں کیونکہ ان ٹریبونلز کو کسی عالمی ادارہ انصاف نے قبول نہیں کیا ان ٹریبونلز کو سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کیا جارہاہے ۔ شمشاد احمد خان نے کہاکہ بھارت’’ را ‘‘کے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف مکمل جنگ کا اعلان کر چکاہے اب ہمارے حکمرانوں کو بھی مودی کی محبت کے سحر سے نکل کر قوم کو دشمن کے خلاف متحد کرناچاہیے ۔

مزید : صفحہ اول


loading...