دھرنا کیسے ختم ہوا، کہانیاں بن گئیں مختلف موقف سامنے آ رہے ہیں

دھرنا کیسے ختم ہوا، کہانیاں بن گئیں مختلف موقف سامنے آ رہے ہیں

تجزیہ: چودھری خادم حسین

وفاق اور پنجاب میں حکمران جماعت کی طرف سے پنجاب میں جاری آپریشن کے حوالے سے جس قسم کے رویئے کا اظہار کیا جا رہا ہے اس سے ابہام پیدا ہو رہا ہے اسے دور کرنا مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کا فرض ہے۔ خود وفاقی حکومت قومی ایکشن پلان کی بات کرتی ہے اور کراچی آپریشن کے حوالے سے رینجرز کی موجودگی اور اسے وسیع اختیارات کے بھی قائل ہیں بلکہ خود وزیر اعظم کراچی جا کر ایپکس کمیٹی اس کے علاوہ خصوصی اجلاس بھی منعقد کر چکے ہیں بلکہ سائیں قائم علی شاہ کو تو اپنے بھلکڑ پن کی وجہ سے کئی بار مزاح کا نشانہ بھی بننا پڑا، لیکن جب سانحہ لاہور کے بعد یہ تاثر ابھرا کہ پنجاب میں بھی شدت پسند ہیں اور اس کے لئے فوجی آپریشن کی ضرورت محسوس کی گئی تو پھر کیوں تحفظات کا اظہار کیا گیا یا پھر وزیر قانون کی طرف سے طرح طرح کی وضاحتیں کی گئیں۔ وفاقی حکومت آپ کی جماعت کی ہے، ریاستی اداروں کا تعلق بھی وفاق سے ہے پھر اگر سانحہ لاہور کی روشنی میں آپریشن کی صورت بنی تو وزیر اعلیٰ کو خود تعاون پیش کرنا چاہئے تھا بلکہ بہتر ہوتا یہاں بھی ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلا کر کام شروع کیا جاتا اس طرح جہاں اداروں میں تعاون ہوتا وہاں حکومت کے تحفظات بھی نہ ہوتے اور ایپکس کمیٹی کے سربراہ تو ہوتے ہی وزیر اعلیٰ ہیں لیکن مختلف انداز سے تحفظات کا اظہار مجھ سے بالا تر ہے۔

جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو اس سانحہ سے پہلے بھی سی ٹی ڈی والے سرگرم عمل تھے اور گرفتاریاں ہو رہی تھیں اس کا اعتراف خود حکومت کرتی ہے اور اعداد و شمار بھی پیش کئے گئے اس کے باوجود اگر انتہا پسند موجود ہیں اور یہ تاثر ابھرا کہ پولیس کے بس کی بات نہیں کہ پنجاب کو از خود رینجرز کو بلا لینا چاہئے تھا کہ سب مل کر کام کرتے جیسے اب ہو رہا ہے لیکن اب بہت سی باتیں بنائی جا رہی ہیں، ان کا اثر زائل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

معلوم نہیں حکمران جماعت بلکہ ہر حکمران جماعت پارلیمانی مشاورت سے کیوں گھبراتی ہے۔ حالانکہ جب بھی ایسا عمل ہوا اس کے فوائد ہی سامنے آئے اب بھی پی آئی اے نے نجکاری بل پر مشاورتی عمل ہی سے نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے اور یہ اطلاع ہے کہ کمیٹی قانون میں مناسب ترامیم پر متفق ہو گئی ہے اور جلد ہی یہ قانون پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کرا لیا جائے گا۔ یہ تجربہ پہلے بھی ہو چکا، دہشت گردی کے حوالے سے حکومت کو تائید ملی تو دھرنوں کے وقت پوری پارلیمینٹ نے اپنا وزن جمہوریت (حکومت) کے پلڑے میں ڈالا یوں اس کے فائدے بھی ہوئے۔

اب بھی اگر مشاورتی عمل ہو تو اس میں کیا برائی ہے؟ اس پر غور کی ضرورت ہے ہماری تجویز تھی کہ دہشت گردی اور نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے پارلیمانی اجلاس بلا لیا جائے اس سے کئی غلط فہمیاں دور ہوں گی اور افہام و تفہیم کا عمل وقوع پذیر ہوگا۔

ملک کے اندرونی ہی نہیں بیرونی حالات پر بھی نظر ضروری ہے۔ بھارت سرکار کا رویہ مسلسل سامنے آ ہا ہے اس لئے محتاط رویئے کا مظاہرہ ضروری ہے۔ بھارت کی ایجنسی را کے ایک اہم کارندے کی گرفتاری سے کئی راز افشاء ہوئے حکومت نے اسے عالمی پلیٹ فارم پر اٹھانے کا جو فیصلہ کیا اس کی تائید کی جا رہی ہے اور اب اس پر غور کرنا ہوگا کہ پاکستان کی تحقیقاتی کمیٹی نے پٹھان کوٹ کے حادثے کے حوالے سے بھارت کا دورہ کیا ہے اب بھارتیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان والوں کو حقائق دے دیئے ہیں اب بھارتی ٹیم بھی جوابی دورہ کرے گی۔ اس مسئلہ پر بھی احتیاط کی ضرورت ہے زیادہ لچک، کمزوری کا اظہار بن جائے گی مناسب طریقہ سے نمٹا جائے۔

مزید : تجزیہ


loading...