سوشل و الیکٹرونک میڈیا کا غیر محتاط رویہ! اورحکومتی ادارے

سوشل و الیکٹرونک میڈیا کا غیر محتاط رویہ! اورحکومتی ادارے
سوشل و الیکٹرونک میڈیا کا غیر محتاط رویہ! اورحکومتی ادارے

  


سانحہ گلشن پارک کی خوفناک گونج ابھی تک چاروں اطراف سنائی دے رہی ہے اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے افسوس کہ سارا ملبہ حکومت پر ڈالنے کی کوشش کی جاری ہے حالانکہ ہم بخوبی آگاہ ہیں حکومت خود کوئی چیز نہیں ہوتی اس کے اداروں نے اس کا قد کاٹھ بڑھانا ہوتا ہے ان کی کارکردگی نے حکومت کی ساکھ بڑھانا ہوتی ہے صد افسوس کہ حکومتی ادارے اپنی ہٹ دھرمی پر پوری طرح قائم ہیں گزشتہ واقعات کی طرح اس دلخراش واقعہ کے بعد ہر جگہ ہلچل مچی ہوئی ہے اگر ،مگر سے بڑھ کر میڈیا نے یہ کر لیتے تو یہ نہ ہوتا وہ کر لیتے یہ نہ ہوتا کی رٹ لگائی ہوئی ہے جتنے منہ اتنی باتیں ہیں کس سے گِلا کروں میں خود میڈیا کا حصہ ہوں الیکٹرونک میڈیا نے سنسنی پھیلانے کا فریضہ احسن انداز میں انجام دیا ہے سانحہ گلشن اقبال میں الیکٹرونک میڈیا کے شانہ بشانہ سوشل میڈیا بھی رہا سنسنی خیزی تک محدود رہنے کی بجائے پمرا کے قوائد کی دھڑلے سے دھجیاں اڑائی گئی ہیں میڈیا کے خوف سے پولیس بھی پیچھے نہیں رہی کارکردگی دکھانے کی دوڑ میں ایسی پھرتیاں دکھائیں کہ اپنے دوستوں کے ساتھ گلشن اقبال پارک میں سیر کے لئے آنے والے بیچارے حافظ یوسف کے شناختی کارڈ کو جواز بنا کر اسے خودکش بمبار قرار دے دیا اور پھر آزاد میڈیا نے طوفان رکنے نہیں دیا حافظ یوسف کے خاندان کو گرفتار کرانے تک ان کا تعلق لاہور کے مدرسے سے جوڑنے اور مدارس کو دہشت گردی کی نرسریاں تک قرار دے دیا گیا کیا دہشت گرد اپنا شناختی کارڈ لے کر آتے ہیں یہ کسی نے سوچا ہی نہیں ریٹنگ کے چکروں میں سوشل میڈیا بھی اس دوڑ میں برابر کا شریک رہا۔ اینکر پرسن تجزیہ نگار 24 گھنٹے تک مدارس کو دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دینے میں مصروف رہے شناختی کارڈ کو بنیاد بنا کر مدارس اور اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی جاری رکھی گئی سوشل میڈیا نے ایک واقعہ کو گزشتہ کئی سالوں کے ساتھ جوڑ کر نشر کیا ۔بم دھماکے سے بچوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے لوتھڑوں کو جس انداز میں دکھایا جاتا رہا اس کا الزام کس حکومت کو دیں صوبائی حکومت کو یا وفاقی حکومت کو یا اس کے اداروں کو ایک قیامت بم دھماکے نے برپا کی دوسری قیامت خون میں لت پت خواتین اور بچوں کے جسموں کے ٹکڑوں کو بار بار دکھا کر سوشل میڈیا پر شیئر کرکے ڈھا رکھی ہے ۔حکومتی ادارے واقعہ رونما ہونے کے بعد ایسی کارکردگی دکھاتے ہیں شایدکہ اب کبھی واقعہ نہیں ہو سکے گا افسوس کہ سب کچھ وقتی ہوتا ہے شناختی کارڈ کی وجہ سے دہشت گرد قرار پانے والے حافظ یوسف کی اللہ قربانی قبول فرمائے سی ٹی ڈی کی ابتدائی رپورٹ نے پولیس کی شاندار کارکردگی پر صف ماتم بچھا دی ہے ہونا تو یہ چاہئے تھا پولیس اور میڈیا کو جب پتہ چلا کہ ہم بغیر تصدیق کے مدارس کو بدنام کرنے اور حافظ یوسف کے خاندان کو دہشت گرد قرار دے کر برباد کرنے کے لئے ڈی ٹریک ہوئے ہیں وہ سر عام معافی مانگتے شرمندہ ہوتے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے اور پھر 24 گھنٹے تک جو بکواس ہوتی رہی اس کا ازالہ کرنے کے لئے حقائق بیان کرنے کے لئے پروگرامز کرتے مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ ہمیشہ کی طرح ڈھٹائی دکھائی گئی گلشن اقبال اور ہمارے گھر کا فاصلہ ایک کلومیٹر کے قریب ہے مون مارکیٹ کے ہولناک واقعے کے بعد عارضی طور پر چند دنوں کی سختی ضرور کی گئی تھی مگر اب پھر وہی پرانی ڈگر پر سب کچھ ہو رہا تھا۔ یہ بات بالکل درست ہے 40 سے زائد پی ایچ اے ملازمین کی ڈیوٹی تھی 15 سے زائد پولیس اہلکاروں کی ذمہ داری لگائی گئی تھی مگر پی ایچ اے اور پولیس کے ملازمین ڈیوٹی پر نہیں تھے جو تھے وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی بجائے اپنے اپنے مشاغل میں مصروف تھے۔ گلشن پارک سانحہ کے دن کھچا کھچ بھرا ہوا تھا بلا شبہ ہزاروں افراد سینکڑوں خاندان ایسٹر کا دن منانے چھٹی کا دن منانے کے لئے موجود تھے سارا گلشن پارک جھولوں کے ٹھیکیداروں کے رحم و کرم پر تھا۔ قابل افسوس بات یہ ہے وزارت داخلہ کی طرف سے مراسلہ جاری ہوا کہ پارکوں میں حملے ہو سکتے ہیں؟

پھر سیکیورٹی انتظامات کیوں نہیں کئے گئے۔ ان سوالات کے جواب آنا ضروری ہیں پنجاب حکومت کی طرف سے سیکیورٹی خامیوں کا اعتراف خوش آئند ہے غلطی مان لینا اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے۔ غلطی تسلیم کر کے ازالہ کیا جا سکتا ہے الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا کی طرف سے غلطی کا اعتراف نہ کرنا کوئی اچھی روایت نہیں ہے۔ غلطی کے اعتراف سے آئندہ غلطی نہ کرنے کا عزم کیا جا سکتا ہے۔ انتظامات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے 60 مسلمانوں 20 مسیحی بچے بچیوں اور خواتین حضرات کی لاشوں اور تین سو زخمی افراد سے سبق سیکھنا ضروری ہے۔ سنی سنائی بات کو آگے بڑھانا نشر کرنا عقل مندی نہیں ہے بطور مسلمان ہمارا فرض ہے ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ بات آگے بڑھانے سے پہلے تصدیق کرلی جائے تو اس سے بہت سے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکتا ہے اور سیکیورٹی کے بھی بہتر سے بہتر انتظامات ہو سکتے ہیں صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت سے موقع غنیمت جانتے ہوئے درخواست کرنی ہے اداروں کو مستقل مزاجی سے کام کرنے کی عادت ڈالی جائے۔ واقع ہونے کے بعد ایکشن لینے کی بجائے ہر ادارہ اپنی اپنی جگہ ذمہ داری ادا کرے تو افراتفری بھی پیدا نہیں ہو گی اور ایک دوسرے پر الزام لگانے۔ ذمہ دار قرار دینے کی روایت خودبخود دم توڑ جائے گی اداروں میں سیاسی مداخلت ختم کر کے میرٹ اپنایا جائے تحقیقات کے بعد معلوم ہوا ہے 40 سے زائد پی ایچ اے ملازمین جن کی ڈیوٹیاں گلشن پارک میں تھیں ان میں سے 90 فیصد سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہونے والے افراد ہیں جو 10 فیصد ہیں وہ افسروں کے گھروں اور سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ڈیوٹیوں پر تھے۔

پولیس کا بھی یہی حال بتایا گیا ہے سانحہ گلشن اقبال کے جائے وقوع کے وقت بھی تھانہ اقبال ٹاؤن کی گاڑی گلشن اقبال پارک کے پاس ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جس میں ایک سپاہی اور ایک ڈرائیور موجود ہونے کی اطلاعات ہیں آخر میں الیکٹرونک میڈیا کے ذمہ داران اور سوشل میڈیا کے حضرات سے درخواست کرنی ہے وطن عزیز کو اس وقت سنسنی خیزی اور جوش سے زیادہ ہوش اور ذمہ دارانہ رویہ کی ضرورت ہے آگے بڑھنے اور ریٹنگ بڑھانے کی دوڑ میں ہم بہت زیادہ نقصان کر چکے ہیں اب نازک ترین صورت حال میں حکومتی اداروں کی اصلاح آرمی کے اداروں کی پرموشن کی ضرورت ہے ان کے دست بازو بننے کی ضرورت ہے۔

مزید : کالم


loading...