پاک افغان مابین مذاکرات خطے میں امن کا واحد حل ہے، جرمن سفیر

پاک افغان مابین مذاکرات خطے میں امن کا واحد حل ہے، جرمن سفیر

اسلام آباد(پ ر)پاکستان کے لئے سابق جرمن سفیر ، ڈاکٹر گنٹر مولک نے دہشت گردی سے مقابلے کیلئے پاکستان اور افغانستان کے دو طرفہ تعلقات میں بہتری اور فروغ کے لئے کوشش پر زور دیا۔ وہ آج نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں اسٹریٹیجک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں ’پاک افغان تعلقات اورخطے کے

پرامن مستقبل کے امکانا ت کے حصول ‘ پر طلبہ کی بڑی تعداد سے خطاب کر رہے تھے۔ ڈاکٹر گنٹر مولک نے پاکستان میں 2005سے 2008تک بطور سفیر خدمات انجام دیں اور آجکل برلن میں جرمن اورئنٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایگزاکٹیو ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ ’پاک افغان مذاکرات اور سکیورٹی پر تعاون خطے میں امن کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے نہائت ضروری ہے۔ ‘ ڈاکٹر مولک نے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ، پاک افغان تعلقات کی بہتری کے لئے کلیدی کردار کی حیثیت رکھتی ہے جسکا حصول تبھی ممکن ہے جب پاکستان کی سرحد کے اندر اور باہر دونوں طرف امن ہو ۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کہ افغانستان میں امن ، پاکستان میں امن کا ضامن ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مزاحمت کو کم کرنے کے لئے حل تجویز کرتے ہوئے ڈاکٹر مولک کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغانستان کے لئے معاشی ترقی کے اقدامات کو فروغ دینا چاہئے۔ پاک چین اقتصادی راہداری اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ نوجوانوں کے درمیان صلح جوئی اور کشیدگی کے خاتمے کے لئے یوتھ ایکسچینج پروگرامز کو فروغ دینا چاہئے ، اس سلسلے میں پاکستان، افغان طلبہ کے لئے نئی راہیں کھول سکتا ہے اور انھیں سکالرشپ آفر کر سکتا ہے۔ انھوں نے موقع پر موجود خواتین طلبہ کی بڑی تعداد کو سراہا۔ پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقارملک ، سٹڑیجک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے ایچ او ڈی نے ڈاکٹر مولک کے تجزیاتی نقطہ نظر کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشترکہ انسداد دہشت گردی کی کوشش کو فروغ دینے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک ایک میز پر بیٹھ کر امن مزاکرات کو ترویج دیں۔ مجموعی صورتحال کی بہتری، انتظامی معاملات اور سرحد پر نگرانی کے لئے بھی اقدامات دونوں ممالک کی مشترکہ کاوشوں سے ہی ممکن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی افغانستان جنگ میں ایک ٹریلین امریکی ڈالر خرچ ہوئے لیکن کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے۔ اتنا پیسہ ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جاتا تو بین الاقوامی سطح پر تیسری سطح کے ممالک کی بحالی کے لئے ممکن اقدامات سر انجام دئے جا سکتے تھے۔ ڈاکٹر مولک نے KAS، جرمن فاؤنڈیشن کی جانب سے لاہور میں ہونے والی سفاکانہ اور المناک دہشتگردی کی بھرپور مذمت کی۔ انکا کہنا تھا کہ بین الاقوامی تعاون کے فروغ سے ہی دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے۔ انھوں نے جنوبی پنجاب میں رینجرز کے آپریشن کے فیصلے کو بھی سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس سے بگڑی ہوئی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ ڈاکٹر مولک ایک سفارتکار اور مسلم دنیا کے تجزیہ کار کی حیثیت سے Konrad Adenauer Stiftung - KAS، جرمن پولیٹیکل فاؤنڈیشن کے دعوت نامے پر تین روزہ دورے کے لئے پاکستان تشریف لائے۔ ڈاکٹر مولک نے پاک جرمن تعلقات، پاک افغان تعلقات، پاک ایران اور سعودی عرب کے مشترکہ تعلقات اور پاکستان کی سکیورٹی اور یورپ پر اسکے اثرات کے حوالے سے قائداعظم یونیورسٹی، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اور دیگر گول میز کانفرنسوں سے بھی خطاب کیا ۔موقع پر طلبہ کی بڑی تعداد ، NDUکے سینئر اساتذہ ، رونی ہایئن (Ronny Heine)، پاکستان میں KASکے ریزیڈنٹ نمائندے اور فواد حیدر، پروگرامز آفیسر KAS بھی موجود تھے۔

Back to Conversion Tool

Urdu Home

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...