حج پرفارما میں شعیہ مسلک سے متعلق متنازع سوال بدل دیا گیا،ہائی کورٹ میں وزارت مذہبی امور کی رپورٹ

حج پرفارما میں شعیہ مسلک سے متعلق متنازع سوال بدل دیا گیا،ہائی کورٹ میں ...
حج پرفارما میں شعیہ مسلک سے متعلق متنازع سوال بدل دیا گیا،ہائی کورٹ میں وزارت مذہبی امور کی رپورٹ

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائی کورٹ کو وزارت مذہبی امور نے آگاہ کیا ہے کہ حج پالیسی کے پرفارمے میں شیعہ مسلک کے افراد سے پوچھے جانے والے متنازع سوال میں ترمیم کردی گئی ہے جس کے بعد جسٹس عائشہ اے ملک نے متعلقہ درخواست نمٹا دی۔یہ درخواست سید طاہر حسین زنجانی سمیت تین شہریوں کی طرف سے دائر کی تھی۔درخواست گزاروں کی طرف سے سیدہ مقصومہ زہرہ بخاری ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ وزارت مذہبی امور نے حج پالیسی کے پرفارمے میں شیعہ مسلک کے افراد کے حوالے سے ایک متنازع سوال شامل کیا ہے جس سے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کی دل آزاری ہو رہی ہے، حج پر جانے والے شیعہ مسلک کے افراد سے سوال پوچھا جاتا ہے کہ ”کیا وہ شعیہ ہیں“ جو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، انہوں نے استدعا کی کہ حج پالیسی کے پرفارمے میں شامل اس سوال کو ختم کرنے یا ترمیم کرنے کا حکم دیا جائے، وزارت مذہبی امور کی طرف سے سرکاری وکیل نے تحریری جواب پیش کراتے ہوئے کہا کہ اس متنازع سوال میں ترمیم کر دی گئی ہے، اب پرفارمے پر یہ سوال درج کیا گیا ہے کہ ”کیا آپ کو شیعہ مسلک کی سہولیات چاہئیں“، عدالت کے استفسار پر درخواست گزاروں نے اس ترمیم پر اطمینان کا اظہار کیا جس پر عدالت نے وزارت مذہبی امور کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

مزید : لاہور


loading...