پولیس کے تین متوازی نظام

پولیس کے تین متوازی نظام
پولیس کے تین متوازی نظام

  

پنجاب پولیس غیر سیاسی نہ ہونے کی بنیادی وجہ! پاکستان میں اس وقت پولیس کے تین متوازی نظام چل رہے ہیں، خیبر پختونخوا وہ واحد صوبہ ہے جہاں ایسا پولیس سسٹم نافذ ہے جس کے تحت آئی جی کو بااختیار اور خود مختار بنایا گیا ہے، یہ سلسلہ ضلع کی سطح تک بھی جا پہنچتا ہے۔ یہ پولیس نظام پولیس آرڈر دو ہزار دو کی روح کے مطابق ہے۔ جس کا بنیادی مقصد آزاد اور خود مختار پولیس ہے تاکہ یہ محکمہ غیر سیاسی رہے۔ پنجاب میں پولیس آرڈر دو ہزار دو جزوی طور پر نافذ ہے۔ سندھ اور بلوچستان کا ذکر کریں تو ان صوبوں کی سرکار نے یک لخت اس آرڈر سے مکمل جان چھڑا لی اور ایک سو چھپن سالہ پرانا انگریز کا پولیس نظام نافذ کر دیا۔ ان دونوں صوبوں میں پولیس کس حد تک غیر سیاسی اور خودمختار ہو سکتی ہے اس کا اندازہ آپ اسی بات سے لگا لیجئے کہ جس نظام نے محکمہ پولیس میں بہتری لانا تھی سرکار نے اسی سے جان چھڑا لی۔ باقی کہانی کیا ہے،آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ اکثر اپنی تقریروں میں کبھی ڈھکے چھپے الفاظ میں تو کبھی کھلے عام بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پولیس آرڈر دو ہزار دو تمام صوبوں کیلئے جاری کیا گیا تھا ، اٹھارہویں ترمیم کے بعد اب یہ صوبوں کی صوابدید تھی کہ آیا وہ یہی نظام نافذ کرتے ہیں یا قانون سازی کے تحت کوئی نیا نظام تشکیل دیتے ہیں۔ خیبرپختونخوا نے تو مثال قائم کر دی لیکن باقی تینوں صوبے الٹے پاؤں واپس انگریز نظام کی جانب لوٹ رہے ہیں۔ پولیس آرڈر دو ہزار دو جاری ہونے کے صرف چار سال بعد ہی اس میں ایک سو اٹھارہ ترامیم کر دی گئیں۔ وہ حصے جو پولیس کے احتساب کو بہتر بناتے ہیں اوراسکی نگرانی کے کام کاج کو غیر جانبدار بنانے کے لئے رکھے گئے تھے وہ بادشاہوں کو پسند نہ آئے۔ پنجاب سرکار نے بھی پولیس آرڈر میں چار سال پہلے مزید ترامیم کرڈالیں لیکن پندرہ برس بیت گئے صوبے میں اعلیٰ افسران کی تقرریاں مسلسل اس قانون کے منافی عمل میں لائی جارہی ہیں، صرف چھوٹے رینک کے معاملات کیلئے پولیس آرڈر نافذ ہے جبکہ آئی جی، سی سی پی او، سی پی او اور ڈی پی او جیسے اہم عہدوں کی تقرریوں کیلئے صوابدیدی اختیارت استعمال کئے جارہے ہیں۔ اس قانون کے تحت ان اعلیٰ افسران کا انتخاب نیشنل پبلک سیفٹی کمیشن، صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن اور ضلعی سیفٹی پبلک کمیشن کے ذریعے عمل میں لایا جانا تھا۔ آئی جی پنجاب کی تقرری نیشنل کمیشن کے ذریعے ہونا تھی۔ وفاقی وزیر داخلہ کی سربراہی میں بننے والے اس کمیشن میں تیرہ افراد شامل ہیں۔ تین اپوزیشن اور تین حکمران جماعت کے اراکین قومی اسمبلی کا انتخاب اسپیکر قومی اسمبلی نے کرنا تھا جبکہ چھ دیگر غیر سیاسی اور آزاد اراکین کا انتخاب چیف جسٹس آف پاکستان کے ذمے تھا۔ اسی طرح صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن کی تشکیل میں چیف جسٹس لاہو ر ہائیکورٹ اور اسپیکر پنجاب اسمبلی کے ذریعے اسی فارمولے کے تحت ہونا تھی۔ لیکن یہ سب صرف قانون کا حصہ ہے اور اس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ پولیس کے اعلیٰ افسران کی تعیناتی جب تک صوابدیدی اختیارات کے ذریعے عمل میں لائی جائے گی، پولیس غیر سیاسی نہیں ہوسکے گی۔ اگلے سال الیکشن بھی سر پر ہیں، ایسے میں صوبے بھر میں غیر سیاسی پولیس جمہوریت اور جمہور دونوں کیلئے انتہائی اہم ہے۔ اسی نقطے پر مبنی ایک کیس اب لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔ مقدمے کی سماعت خود چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کر رہے ہیں۔ درخواست گزار کی جانب سے مدعے میں دوسرا نقطہ ان اعلیٰ افسران کے ٹینور کے حوالے سے ہے۔ یعنی پولیس آرڈر کے مطابق افسران کی کسی عہدے پر تعیناتی کی میعاد تین سال ہونا تھی اور انہیں ہٹانے کیلئے صوبائی حکومت کومتعلقہ کمیشنز کی اجازت لینا لازم تھا۔ لیکن ظاہر ہے اس پر بھی عمل درآمد نہ ہوسکا۔ اسی طرح پنجاب کے تمام چھتیس اضلاع میں تفتیش کے لئے علیحدہ برانچز کا قیام بھی تاحال عمل میں نہیں لا یا جاسکا۔ صوبے بھر کے صرف تین اضلاع میں یہ تفتیشی برانچزجزوی طور پر کام کر رہی ہیں۔ کل ہوئی سماعت میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے تسلیم کیا کہ پولیس آرڈ ر دو ہزار دو پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ لہٰذا لاہور ہائیکورٹ نے سرکار سے جواب طلب کیا ہے کہ بتایا جائے پندرہ برس بیت گئے کیونکر اس قانون کو نافذ نہیں کیا جا سکا یاد رہے کہ اس قانون کی ایک سو اٹھاسی شقوں میں سے لگ بھگ ایک سو پچیس پر سرے سے عمل نہیں ہوا۔ اس مقدمے میں درخواست گزار کے وکیل ممتاز قانون دان سعد رسول کا کہنا تھا کہ دس اپریل کو آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا ریٹائر ہو رہے ہیں، نئے آئی جی کی تعیناتی نیشنل پبلک سیفٹی کمیشن کے قیام سے مشروط کی جائے۔ جس پر ایڈووکیٹ جنرل شکیل الرحمان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر آئی جی کی تعینانی میں تاخیر مناسب نہیں، دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے کہا کہ نئے آئی جی کا مستقبل اس کیس سے جڑا ہے۔ عدالت نے معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر اور سابق ایڈووکیٹ جنرل خواجہ حارث کو اس کیس میں عدالتی معاون مقرر کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سرکار اگلی پیشی میں کیا وضاحت پیش کرتی ہے۔ اگر پنجاب سرکار سندھ اور بلوچستان کی طرح پولیس آرڈر دو ہزاد دو کو منسوخ کرتے ہوئے اٹھا رہ سو اکسٹھ کا فرسودہ سسٹم رائج کرتی ہے تو یقیناًاس کی تعبیر یہی ہو گی کہ نہیں جناب۔۔!الیکشن کے ہنگام ہم پولیس کو غیر سیاسی اور خود مختار بنانا ہی نہیں چاہتے۔ بصورت دیگر بسم اللہ کیجئے۔۔ شہباز سپیڈ کی کچھ جھلک پولیس نظام پر بھی ہوجائے روکا کس نے ؟

مزید :

کالم -