خیبر پختون خوا میں امن کا داعی تھیٹر

خیبر پختون خوا میں امن کا داعی تھیٹر
خیبر پختون خوا میں امن کا داعی تھیٹر

  



فاٹا میں امن آج پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کا مسئلہ اور بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔لیکن اس کا علاج گولی کی بجائے تھیٹر میں موجود ہے جس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تھیٹر نے یورپ میں نسلی امتیاز کو ختم کردیا تھا ،فاٹا میں بھی ذہن بدلنے کی ضرورت ہے۔سوچ انسان کو بناتی اور بگاڑتی ہے اور اسکا اظہار تھیٹر بڑا اچھا کرسکتا ہے۔تفریح اور فکری آبیاری کا بہتر کام تھیٹر نہ کررہا ہوتا تو پشتو زبان میں پہلاتھیٹر یو یتیم(ایک یتیم) 1924ء میں خدائی خدمت گار تحریک کے طرف سے ضلع چارسدہ کے اتمان زئی کے علاقے میں نہ ہوتا۔ اس تھیٹر نے خدائی خدمت گار تحریک کو ترقی دی تھی۔ 

27مارچ کو پوری دنیا میں تھیٹر یا سٹیج ڈرمے کا عالمی دن منایا جاتاہے جس کا بنیادی مقصدعوام اور حکومتی اداروں کی توجہ اس طرف دلانا ہوتی ہے کہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لئے تھیٹرانتہائی اہم ہے۔ٹی وی،ریڈیو اور سٹیج کے سینئر اداکار اور ڈائریکٹرپروفیسرقاضی محمد خامس کا کہنا ہے کہ برصغیرپاک وہند میں لوگوں کو تفریح اور معلومات پہنچا نے کے لئے پہلے تھیٹر نے ہی کام شروع کیا تھا اور اس کے بعدریڈیو اور ٹی وی نے اپناکام شروع کیا۔ انھوں نے کہا کہ سٹیج نے ہی فلم اور ڈراموں کے بڑے نام پیدا کئے۔لہذا پشاور میں ایسے تھیٹر کیضرورت ہے جو معاشرے میں اعتدال پیدا کرسکے۔

پشاور میں ایک غیرسرکاری ادارے کی طرف سے تھیٹر کے حوالے سے دو روزہ ورکشاپ کا انعقادکیا گیا تھا جن میں پشاور یونیورسٹی اور فاٹا سے نوجوانوں نے تربیت مکمل کی۔ولیدیوسفزئی پشاور یونیورسٹی سے فارسی آدب میں ماسٹرکررہے ہیں اورتربیت کے دوران وہ محتصر دورانیہ کے سٹیج ڈرامے میں ایک قبائیلی نوجوان کا کردار اد اکررہے ہیں جس کی بہن بیمار ہے اور اپنے علاقے میں طبی سہولیا ت نہ ہونے کی وجہ سے شہرکولے جاتے ہوئے راستے میں دم توڑدیتی ہے۔ ولید کا کہنا ہے کہ یہ میرے لئے ایک مشکل کام تھا کہ میں لوگوں کے سامنے آکر اپنے فن کا مظاہرہ کروں لیکن سکرپٹ نے مجھے اتنامتاثر کیا کہ اس تکلیف کامیں نے حقیقت میں احساس کرلیا۔ انھوں نے کہا کہ صوبے میں سٹیج ڈراموں کے حوالے سے بہت کم کام ہورہاہے جس کی وجہ بہت بڑاسرمایہ ضائع ہورہا ہے

۔

ٹی وی، ریڈیو اور سٹیج ڈرموں کے مصنف نورالبشر نو ید کا کہا ہے کہ سٹیج ڈرامے کا براہ راست ردعمل ہوتا ہے یعنی جب فنکار کو اچھا سکرپٹ ملے اور اچھے طریقے سے اْس کو سامنے لائے تو ناظرین پر اْس کا براہ راست اثر ہو تاہے لیکن اگر اس میں کوئی کمی آجائے توبھی لوگ اْس وقت فنکار کوجواب دیتاہے۔انھوں نے مزید کہا کہ دنیا میں تھیٹر کی تاریخ کافی پرانی ہے لیکن یہاں اگر ہم دیکھ لے تو خدائی خدمتگار تحریک نے پشتونوں میں آزادی اور اپنے حقوق کے لئے آواز بلندکرنے میں سٹیج ڈرامو ں کی مدد لی اور جو کردار سٹیج ڈراموں نے ادا کیا تھاوہ جلسے اور جلوس نے نہیں کیا۔

عائشہ آفریدی جو کہ زرعی یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں دو روزہ تھیٹر کی تربیت مکمل کرکے کہتی ہے کہ پہلی بار زندگی میں سٹیج پر ادکاری کی جو کہ ایک بہت اچھا تجربہ رہا۔انھوں نے کہا کہ اْس نے ایک بیمار قبائیلی خاتون کا کردارادا جو کہ صحت کی کم سہولیات کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتی ہے۔ عائشہ نے کہا کہ سٹیج ڈراموں کے زریعہ ہم اپنے معاشرے میں خواتین کے مسائل اجاگر کرسکتے ہیں اور اس کے ذریعہ مردوں کے ذہنوں میں آسانی کے ساتھ تبدیلی لاسکتے ہیں۔

قاضی محمد خامس نے کہاکہ صوبے میں خراب امن وامان کے صورتحال کی وجہ سے سٹیج ڈراموں میں بڑی حد تک کمی آئی جس کی وجہ سے نہ صرف ثقافتی سرگرمیوں پر اثرپڑا ہے بلکہ فنکاروں کے معاشی مسائل بھی کافی بڑھ گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب بھی سٹیج ڈراموں کے ناظرین میں کوئی کمی نہیں ہے صرف محکمہ ثقافت کی طرف سے اس سلسلے میں عملی اقدمات کی ضرورت ہیں۔

حکومتی سطح پر تھیٹر کی بحالی کے کیا اقدمات ہورہے ہیں؟ اس کا جواب تلاش کرنے کے لئے بار بار محکمہ ثقافت کے اہلکاروں سے رابطے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔

نورالبشر نو ید کے مطابق خیبر پختونخوا ہ میں جو مسائل موجود ہے اس میں ہم سیٹج ڈراموں کے زریعے کافی بہتری لاسکتے ہیں اور اس کے ساتھ نئے باصلاحیت لوگ بھی سامنے آئینگے کیونکہ وقت کے ساتھ پختون خوا ہ میں ڈرامے اور معیاری کام کم ہوتا جارہاہیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ