ولی اللہ ڈاکٹرسیدعبدالحمید گیلانی نوناری کی اسلامی خدمات اور عرس مبارک

ولی اللہ ڈاکٹرسیدعبدالحمید گیلانی نوناری کی اسلامی خدمات اور عرس مبارک
ولی اللہ ڈاکٹرسیدعبدالحمید گیلانی نوناری کی اسلامی خدمات اور عرس مبارک

  

سید عبدالحمید گیلانی کے والد سید محمد رمضان شاہ ہندوستان میں تحصیلدار کے عہدہ پر فائز تھے اور ولی کامل تھے۔ سید رمضان شاہ کا خاندان جیٹھوال میں بہت مشہور تھا، کیونکہ ان کے خاندان مذہبی روایات اور مذہبی ماحول خالصاً ہونے کے سبب خاندان میں ددھیال تمام افراد کے قد بہت لمبے تھے اور مذہبی لگاؤ کے سبب تمام خاندان کے افراد تقویٰ اور پرہیز گاری کے سبب علاقہ بھر میں نمایاں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ پاکستان کی تحریک میں ان کے بزرگوں نے نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

سید عبدالحمید گیلانی کے والد سید رمضان شاہ کے بے شمار مریدین تھے۔ جواب بھی ساہیوال، فیصل آباد، پاکپتن اور دیگر علاقوں میں موجود ہیں۔ سید رمضان شاہ کا مزار منیگڑی (ساہیوال) میں اب بھی ہے۔

سید عبدالحمید گیلانی نے انتہائی سادہ زندگی بسر کی۔ اور ساری زندگی لالچ نہیں کیا اور دولت کی ہوس نہیں کی۔ فقیری اور درویشی میں زندگی کے ایام گزارے۔

ان کے چچا سید محمد یوسف کا واقعہ بہت مشہور ہے کہ 1974ء میں انہیں دفن کرکے مقامی قبرستان نونار میں آئے تو اسی شام کو نونار کے جنوبی علاقہ میں مستریوں کا محلہ ہے، جہاں مولانا محمد یوسف اکثر لالٹین لیکر رات کے وقت جاتے تھے کہ اچانک رات کے 9 بجے انہوں نے نونارمیں مستریوں کے محلہ میں ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اچانک وہ شخص دیکھ کر حیران رہ گیا کہ مردہ شخص جسے آج ہی دفن کیا ہاتھ میں لالٹین لے کر کھڑا ہے اور باقاعدہ مولانا محمد یوسف شاہ نے اس شخص سے ہاتھ ملایا اور خیریت دریافت کی اور پھر اچانک غائب ہوگئے۔

اسی طرح سید عبدالحمید گیلانی نوناری اتنے باعمل شخص اور تقویٰ و پرہیز گار تھے کہ شکر گڑھ کے علاقہ لیسرکلاں میں ملازمت کے دوران ان کے عمل سے متاثر ہوکر کئی ہندو خاندانوں نے اسلام قبول کیا جو آج بھی اسلام کے دائرہ میں غیر ہندوؤں سے مسلمان ہونے والے خاندان اس علاقہ میں مقیم ہیں۔

چار سال سید عبدالحمید گیلانی اس علاقہ میں رہے اور گردونواح کے دیہاتوں کے شخص شاہ صاحب کو حضور پاک اور اللہ کی پیاری باتیں سننے کیلئے لیجاتے تھے اور ساری ساری رات علاقہ کے لوگ عشق و محبت کی باتیں حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتے رہتے تھے۔ دیہاتوں سے بیمار بچے اور خواتین ان کے پاس آتے تو آپ اللہ اللہ کر دیتے تو وہ صحت یاب ہوجاتے تھے۔

قوالی کے بے حد شوقین تھے اور قوالی میں ان پر وجد طاری ہوجاتا تھا۔ صوفیاء کرام اور اچھے لوگوں کی صحبت میں بیٹھتے تھے۔ ڈاکٹر سید عبدالحمید گیلانی نوناری صبر، تصوف، تقویٰ اور توکل کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ ملنساری، خوش اخلاقی اور رشد و ہدایت سے وہ لوگوں میں علم و تصوف کی شمعیں روشن کرتے رہتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام نامی سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو جاری ہو جاتے اور رقت طاری ہوجاتی۔

حضرت سلطان باہو کے مزار پر جاتے تو رو پڑتے اور حضرت داتا علی ہجویری کے مزار پربھی آنکھوں میں آنسوؤں کا سلسلہ جاری ہوجاتا۔ ڈاکٹر سید عبدالحمید گیلانی نوناری کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ انہوں نے مادیت کی بجائے روحانیت کی پرستش کی اور نفسیاتی خواہشات کے خاتمہ کے لئے عمل طریقت سے کام لیا۔ کسی کو بھی پوری زندگی میں دکھ اور تکلیف نہیں دی۔ ان کی کتاب ’’نبی اور تصوف’’ بھی بے حد مقبول ہوئی۔

جس میں طریقت، شریعت، بقاء جیسے تصوف کے اہم موضوعات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ اس کتاب کی ترتیب و تدوین ان کے بیٹے سید عارف نوناری نے ان کی زندگی میں ہی کر دی تھی۔

سید عبدالحمید گیلانی عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘ درویش اور صوفی آدمی تھے۔ حضرت اویس قرنی کو اپنا آئیڈیل تصور کرتے تھے۔ دیکھا جائے تو سید عبدالحمید گیلانی کی زندگی بھی ایک سربستہ راز تھا۔ دنیاوی زندگی میں ان کی شخصیت کے بیشتر درویشانہ عناصر چھپے رہے۔ ان کے وصال کے بعد ان کی زندگی کے ایسے حقائق سامنے آئے جس سے سلوک و تصوف کی کئی جہتیں نمایاں ہوئیں۔

شاہ صاحب عام زندگی میں تکلفات نہیں کرتے تھے اور مکمل عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیثیت سے ان کی زندگی کے کئی پہلوؤں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔

ان کے چچا مولانا یوسف شاہ بھی ولی کامل تھے۔ ایک دفعہ لوگوں نے التجا کی کہ مولانا صاحب بارش نہیں ہورہی بارش کے لئے دعا کریں تو آپ لوگوں کو اکٹھا کرکے ایک میدان میں لے گئے۔

دھوپ بہت تیز تھی، آپ نے دعا کی تو دعا کے دس منٹ بعد ہی بادلوں کی گھٹائیں چھا گئیں اور بارش شروع ہوگئی۔ اسی طرح سید عبدالحمید گیلانی نوناری کے بھی بے شمار واقعات ہیں، جن سے ان کے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ولی ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔

سید عبدالحمید گیلانی یکم اپریل 2003ء کو وفات پاگئے ان کا مزار عبداللہ غازی بمقام نونار نارووال کے مزار کے قریب واقع ہے اور ہر سال یکم اپریل کو عرس مبارک کے موقع پر پاکستان بھر سے ہزاروں مریدین شرکت کرتے ہیں۔

سید عبدالحمید گیلانی نوناری نے چار بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ ان میں ڈاکٹر سید امین گیلانی’ سید عارف گیلانی نوناری ڈاکٹر سید عبدالمجید گیلانی اور پروفیسر سید عبدالوحید شامل ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -