ڈبک ڈبک ڈبک

ڈبک ڈبک ڈبک
ڈبک ڈبک ڈبک

  

اتنے تو غریبوں کے محلے میں بکنے والے سستے خربوزے پھیکے نہیں ہوتے جتنے اپنے واجد ضیاء جرح میں پھیکے پڑ رہے ہیں۔ بھیا اگر رائی کا پہاڑ بنایا ہے تو اب اس پر چڑھ کر بھی دکھاؤ۔

فی الحال تو ایسا ہی لگ رہا ہے کہ واجد ضیاء خان صاحب سے متاثر ہیں اور یو ٹرن لینے میں انڈیکیٹر دینے کی زحمت بھی گوارا نہیں کر رہے ہیں۔

یہ جو احتساب احتساب ہے پاکستان میں پہلی بار تو کھیلا نہیں جا رہا ایوب خان کے ایبڈو سے لیکر آج تک اس احتساب نے مارا کم اور گھسیٹا زیادہ اور آخر میں رولنے والا اپنے کپڑے جھاڑتا ہوا سیدھا ایوان صدر پہنچ جاتا ہے۔ آپ آصف زرداری کی مثال لے سکتے ہیں۔ ممتحن نے نقل مارنے والے سنتا سنگھ کو اٹھا کر دوسری جگہ بٹھا دیا۔

اپنے سنتا سنگھ نے سوال کے جواب میں لکھا جواب کی مزید تفصیلات باجی شبانہ دے پیپر توں لے لو۔ شاہ رخ خان تو صرف ڈائیلاگ مارتا ہے لیکن پاکستان میں ہمارے ڈانوں کو پکڑنا مشکل نہیں ناممکن ہے۔

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامت کرو ہو

یہ کرامات کی دھرتی ہے، یہاں جو جتنا بڑا پاپی ہے، وہ اتنا بڑا سیاسی پاپی چولو ہے۔ بھائی میرے صاحب امیر ہو جائیں ان کی لاٹری نکل آئے تنخواہ بڑھ جائے کوئی کک بیک مل جائے تو اس کا اکاؤنٹ گھر کاروبار بڑا ہوتا ہے۔

اس کے ملازموں کا نہیں انہیں اسی تنخواہ پر کام کرنا ہوتا ہے۔ ہاں اگر ترقی معکوس زیادہ ہو جائے تو صاحب لوگ بہتر ملازم تلاش کر لیتے ہیں۔ یہ بات بیس کروڑ غلاموں نوکروں اور ملازموں کو سمجھنی چاہئے ان کے باثر صاحبان کی ترقی کا مطلب ان کی تنخواہ بڑھنا نہیں۔ میرا بابا رحمتے چاہے جتنی مرضی بڑے پن کا مظاہرہ کرے لیکن سچ یہی ہے ان کے دربار میں وزیر اعظم بھی فریادی ہے۔

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

اب آپ خود بتائیں جس دھرتی پر وزیر اعظم انصاف کے لئے فریاد بن کر انصاف کا ٹل کھڑکاتا پھرتا ہو۔ وہاں ان بیس کروڑ کیڑے مکوڑوں کی کیا اوقات۔

ان بیس کروڑ سیمی انسانوں کی فریاد کون سنے کہاں جا کر وہ انصاف کا ٹل کھڑکھائیں، نظام اور ادارے اس وقت اقتدار پہ قبضے کی سونامی کا شکار ہیں، کسی کی ٹانگ کسی کے دستار کسی کا ہاتھ کسی کے گریبان پر، ملک نہ ہوا غریب کا چھوٹا کمرہ ہوا جہاں ایک ہی کمبل اوڑھ کر سونے والوں میں کسی کا خواب کسی کو اور کسی کے خراٹے کسی کو آ رہے ہوتے ہیں، صاحب بولے باجی دیکھیں آپ کا بچہ دوسروں کے ساتھ ملکر میرے کپڑوں پر کیچڑ پھینک رہا ہے۔ خاتون بولیں بھیا ووٹ کے تقدس کی طرح میرے بچے کا بھی احترام کرو۔ وہ ان گندے بچوں میں شامل نہیں، وہ کیچڑ نہیں پھینک رہا وہ تو آپ کی ٹوپی کو نالی میں ڈوبے دے رہا ہے۔

اب ان گندے بچوں کو کون سمجھائے جس معاشرے میں ایلیٹ کلاس کے نمائندے گفتگو میں حسب مراتب خیال نہ رکھتے ہوئے ایک دوسرے کی ٹوپیاں نالیوں میں پھینک رہے ہوں۔ نظام نہ ہوا جنجال پورہ ہو گیا۔ عوام مر رہے ہیں خودکشیاں کر رہے ہیں بے روزگاری عروج پر ہے۔

مہنگائی چڑیل کی طرح چاروں طرف کھی کھی کھی کرتی پھر رہی ہے بجلی کا کرنٹ ٹھنڈا اور اس کا بل زیادہ جھٹکے دار ہو وہاں غریب عوام کے مسیحا اس بات پر جنگ کر رہے ہیں کہ میں کم چور اور سامنے والا بڑا ڈاکو ہے۔

بچہ غصے میں بولا آپ لوگوں کا سلوک دیکھ کر لگتا ہے آپ نے مجھے پیدا نہیں کیا بلکہ گود لیا ہے۔ ماں بولی بیٹا پیدا ہی کیا ہے گود لیا ہوتا تو تجھ سے بہتر بچہ منتخب کرتے۔ افسوس یہ لیڈر شپ ہم نے خود پیدا کی ہے۔

ہم غلام ابن غلاموں کو راہنما نہیں دیوتا چاہئے ہوتے ہیں کالی دیوی گنیش جی مہاراج ہنومان، کاش درجنوں صدور وزرائے اعظم چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرز پیدا کی جگہ ہم نے کسی ایک حقیقی راہنما کو گود لیا ہوتا۔

ہمارے پیارے راج دلارے اکھیوں کے تارے بلاول زرداری درست کہتے ہیں نون لیگ اور پی ٹی آئی نام نہاد پارٹیاں ہیں۔ اصل تے خالص صرف پیپلزپارٹی ہے۔ سیاسی جماعتیں نہ ہوئیں بابے دی قلفیاں ہو گئیں پتہ ہی نہیں چلتا کونسی دکان اصل قلفی والی ہے۔ بلاول کو تو خوش ہونا چاہئے کہ وہ دو جماعتوں کے سربراہ ہیں۔ پی ٹی آئی سے پیپلزپارٹی کے بھگوڑوں کو نکال دیں تو صرف عمران خان بچتے ہیں۔

بنیا سنگھ نے اپنی محبوبہ کو ایس ایم ایس کیا۔ جلدی سے کچھ لطیفے بھیجو۔ دھنو رانی بولی ابھی میں پوجا کر رہی ہوں۔ سنتا سنگھ بولا یہی اس طرح کے ایک دو اور لطیفے بھیج دو۔

بلاول صاحب سنجیدگی کے ماحول میں ایسے معصوم لطیفہ گو ہیں کہ بس۔ اچھا ہوتا وہ بتا دیتے کہ موجودہ پیپلزپارٹی کون سی والی ہے۔ بھٹو شہید بی بی شہید یا زرداری غازی والی۔ بلے وی بلے بلاول بیٹے تیری جرأت کو سلام۔

لوجی ہم تو خوش تھے کہ ہمارے قائد انقلاب میاں نوازشریف لوڈشیڈنگ کا جن پوری طرح ڈبے میں بند کر گئے ہیں لیکن ابھی تو گرمیاں شروع نہیں ہوئیں اور یہ جن خود گرمی سے گھبرا کے چاروں پاسے کیکلی ڈالتا پھر رہا ہے۔

اب عوام کیا کرے گڑ کھا کر مر جائے چینی سے تو شوگر ہو جاتی ہے۔ کلاس میں ٹیچر نے سنتا سنگھ سے پوچھا یہ ٹائی ٹینک کیسے ڈوبا، سنتا بولا ڈبک ڈبک ڈبک کر کے۔ توانائی کاٹائی ٹینک بھی ڈبک ڈبک کر رہا ہے۔

اللہ خیر کرے میاں صاحب کے جانے کے بعد وزیر اعظم عباسی کے ساتھ ہر معاملے میں امریکی ائیرپورٹ والی ہو رہی ہے۔ معیشت کمبوڈیا کے برابر آ گئی پٹرول اور ڈالر چھپڑ پھاڑ کر آسمانوں کے ساتھ جپھے ڈال رہا ہے۔

اب لوڈشیڈنگ بھی۔ ایمانداری کی بات ہے عباسی صاحب ڈیشنگ ہیں گریس فل ہیں کاش وہ عمران خان زرداری سے لڑائی کے بجائے اپنا مختصر وقت عوام کی فلاح پر لگا لیتے۔ کاش وہ بیانات کی چاند ماری کی جگہ عوام کے ریلیف پر توجہ دیتے تو انہیں بابے رحمتے سے یہ نہ کہنا پڑنا کہ پلیز مینوں کم کرن دیو۔

پولیس نے چھاپہ مارا دروازہ پیٹتے ہوئے انسپکٹر بولا دروازہ کھولو بات کرنی ہے۔ اندر سے چور بولا میں مصروف ہوں تسی آپس وچ گل کرلو۔ اب بتائیں 20کروڑ عوام لیڈروں سے بات کرنا چاہتے ہیں وہ سنتے نہیں اور یہ آپس میں بات کرنے کو تیار نہیں۔ ایسی صورتحال میں وہی ہو گا جو آج ہو رہا ہے اس میں چور کا کیا قصور۔

مزید : رائے /کالم