”میری ماں نے میرے ارمانوں کا خون کردیا تھا“ عہد ساز شاعر احمد فراز کی زندگی کا وہ المناک پہلو جس نے انہیں تاحیات افسردہ کئے رکھا ،یہ کسی لڑکی سے عشق کا معاملہ نہیں تھا بلکہ ........

”میری ماں نے میرے ارمانوں کا خون کردیا تھا“ عہد ساز شاعر احمد فراز کی زندگی ...
”میری ماں نے میرے ارمانوں کا خون کردیا تھا“ عہد ساز شاعر احمد فراز کی زندگی کا وہ المناک پہلو جس نے انہیں تاحیات افسردہ کئے رکھا ،یہ کسی لڑکی سے عشق کا معاملہ نہیں تھا بلکہ ........

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(ایس چودھری)عہد ساز شاعر احمد فرازاپنے شعروں کی طرح عام زندگی میں بھی بے باک انسان تھے لیکن والدہ کی محبت ان کے سارے جذبوں پر غالب رہتی تھی۔انہوں نے والدہ کی خواہش کے آگے اپنی زندگی کا وہ سب سے بڑا خواب بھی چکنا چور کردیا تھا جو وہ بچپن میں دیکھا کرتے تھے۔احمد فراز نے ایک بار پی ٹی وی کو ایک انٹرویو کے دوران بتایا تھا کہ انہیں پائلٹ بننے کا شوق تھا۔ایک بار انہوں نے پائلٹ کو اسکی وردی میں دیکھا تو ان کے من میں اسکی وجاہت بس گئی اور انہوں نے پائلٹ بننے کا عہد کرلیا ۔فرسٹ ائیر میں انہوں نے جی ڈی پائلٹ کے لئے اپلائی کیا تو انہوں نے پہلے تمام مراحل طے کرلئے ۔اس دوران ان کے دوسرے بھائی فوج میں چلے گئے تو ان کی والدہ کو اس کا بڑا دکھ ہوا کہ ایک بیٹا فوج میں چلا گیا ہے اور دوسرا بھی پائلٹ بننے جارہا ہے تو وہ اداس و پریشان ہوگئیں۔ان کے دل میں خوف پیدا ہوگیا ۔

جب احمد فراز کو ائر فورس کی طرف سے سلیکشن کا لیٹر آیا تو انکی والدہ نے وہ لیٹر وصول کرکے پھاڑ دیا ۔بعد میں انہوں نے احمد فراز کو بتایا تو وہ بے حد رنجیدہ ہوئے ،انہیں اس کا بہت دکھ ہوا کہ ماں نے ان کے ارمانوں کا خون کردیا ہے۔احمد فراز نے اپنی زندگی کے اس مرحلہ کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا ” ماں تو ماں ہوتی ہے ،وہ جس انداز میں سوچتی ہے اس میں بچے کا بھلا ہوتا ہے۔بچے اسکے مطابق نہیں سوچ سکتے ۔میں آج بھی اس درد کو محسوس کرتا ہوں کہ میری ماں نے مجھے پائلٹ بننے سے روک کر زیادتی کی اور یہ میری زندگی کا المناک پہلو تھا جو میں نے دل پر لئے رکھا۔لیکن ماں کی سوچ بھی ٹھیک تھی۔میں نے اس کا احترام کیا ۔آنے والے وقت میں دیکھا کہ وہ تمام دوست جو میرے کلاس فیلو تھے میرے ساتھ پائلٹ بننے جارہے تھے ان میں سے بیشتر کی اموات کریش میں ہوگئیں ۔یہ قدرت کی حکمت تھی کہ مجھے شاعر بننا تھا اس لئے پائلٹ نہ بن سکا لیکن اس دکھ کو میں برسوں تک دل سے نکال نہیں سکا“

مزید : ادب وثقافت