پاک بھارت اور سلیکون ویلی

پاک بھارت اور سلیکون ویلی
پاک بھارت اور سلیکون ویلی

  

یوم پاکستان کی تقریب اس دفعہ امریکہ کی معروف زمانہ سلیکون ویلی میں بچوں کے ساتھ ٹی وی پر دیکھی۔ پاکستان میں بھی ہم ٹی وی پر ہی دیکھتے تھے لیکن اس دفعہ جوش و خروش کچھ زیادہ تھا۔ اس لئے بھی کہ تقریب نہ صرف ہندوستان سے کشیدگی کے ماحول میں ہو رہی تھی بلکہ اس میں ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد بطور مہمان خصوصی شرکت کر رہے تھے۔

سعودی عرب کے فوجی دستے اور ترکی و چین کے لڑاکا طیاروں کی شرکت کی خبریں بھی تھیں دیکھنے بیٹھے تو آذر بائیجان کے وزیر دفاع اور فوجی دستے اور بحرین کے نیشنل گارڈز کے سربراہ کو موجود پاکر خون اور بھی بڑھ گیا۔ آخر میں ملائیشیا، سری لنکا اور برونائی کے چھاتہ بردار بھی اترتے نظر آئے تو بات سمجھ میں آ گئی کہ یہ سارا اہتمام نریندر مودی کی اس دھمکی کا جواب ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم پاکستان کو دنیا میں اکیلا کر دیں گے۔ اس کا جواب تو اگرچہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی پہلے ہی اپنی قرار داد میں دے چکی تھی جس میں کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے ہندوستان کو دہشت گرد ملک قرار دیا گیا تھا لیکن 23مارچ کی فوجی طاقت کے مظاہرے میں دوست ممالک کی شرکت نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔

فوجی دستوں کے مارچ پاسٹ اور طیاروں کے مسحور کن کرتبوں سمیت تقریب شروع سے آخر تک اعلیٰ معیار کی حامل تھی سوائے نشریاتی انتظام کے جو منحمل میں ٹاٹ کا پیوند لگ رہا تھا۔ ایک زمانے میں اس شعبے کا معیار بہت اعلیٰ رہا ہے اور لئیق احمد کا نام اس سلسلے میں مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، بلکہ جنگ کے دنوں میں تو ابلاغ کے شعبے نے ایسی شاندار مثالیں قائم کی تھیں کہ نصف صدی پرانے قومی نغمے آج بھی کانوں میں گونجتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ شکیل احمد اور انور بہزاد کے خبریں پڑھنے کے انداز سمیت ابلاغ قومی دفاع کا ایک مورچہ تھا جس کے ذریعے پوری قوم خود کو مسلح افواج کے شانہ بشانہ جنگ میں شریک محسوس کرتی تھی۔

یہ کہنا اگرچہ کچھ مبالغہ آمیز لگے گا کہ ابلاغ کے اس پہلو پر اتنی ہی توجہ دی جانی چاہئے جتنی میزائلوں کی تیاری کو دی جاتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعے میزائلوں سے پہلے ان کی ہیبت دشمن تک پہنچ کر اس کے حوصلے پست کر سکتی ہے چنانچہ اسے بھی ٹھیک ٹھیک نشانے لگانے کے لئے اعلیٰ ترین معیار کا حامل ہونا چاہئے۔ میزائلوں کی نمائش جو پریڈ کے آخری مرحلے میں ہوئی انتہائی مرعوب کن تھی۔ یہ میزائل ہندوستان میں کلکتہ تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کی نمائش میں ہندوستان کے لئے یہ پیغام پوشیدہ تھا کہ وہ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے سو بار سوچ لے کہ اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے دوستوں کو جمع کر کے طاقت کے اس مظاہرے کا محرک بلاشبہ ہندوستان کے وزیراعظم کا وہ جارحانہ رویہ تھا جس کا مظاہرہ انہوں نے چند ہفتے قبل کیا تھا۔ چنانچہ حالات کے اس بہاؤ میں ان کی جانب سے یوم پاکستان پر وزیراعظم عمران خان کے نام خیر سگالی کا پیغام ناقابل یقین سا لگا لیکن جب یقین آ گیا تو اچھا لگا کہ اس سے کشیدگی کا ماحول ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کوئی چھوٹی موٹی بات نہیں۔ اس کے فوری اثرات دونوں ملکوں کی سرحدوں سے آگے بھی کتنی دور تک جاتے ہیں اس کا فوری اندازہ ان سینکڑوں پروازوں کے منسوخ ہونے یا لمبا راستہ اختیار کرنے سے لگایا جا سکتا ہے جو پاکستان کے اوپر سے گزر کر یا پاکستان اور ہندوستان کے ہوائی اڈوں پر دوسرے ملکوں سے آتی جاتی ہیں۔

اس کشیدگی کے نتیجے میں جہاں ہزاروں مسافر مختلف ملکوں کے ائیر پورٹوں پر پھنس کر رہ گئے۔ وہاں ان ملکوں کی ہوائی کمپنیوں کو بھی کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ تجارتی سطح پر ہونے والے نقصانات اس کے علاوہ ہیں۔

پاک بھارت تعلقات میں اونچ نیچ کے اثرات امریکہ میں مقیم پاکستانیوں پر بھی پڑتے ہیں جن کا زندگی کے مختلف شعبوں خاص طور پر ڈیجیٹل کی وسیع و عریض دنیا میں ہندوستان نژاد امریکیوں سے واسطہ رہتا ہے۔عام طور پر ان کے درمیان تعلقات اچھے ہی رہتے ہیں لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا ماحول ایک فاصلہ پیدا کر دیتا ہے،جو کشیدگی طویل ہونے کی صورت میں پاکستانی نژاد امریکیوں کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت پہلے سے امریکہ آمد کے سبب بھارتی نژاد امریکیوں کی تعداد نہ صرف یہ کہ کئی گنا زیادہ ہے،بلکہ وہ تعلیم، طب اور دیگر شعبوں میں آگے آگے ہیں اور ڈیجیٹل بزنس میں تو چھائے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں سب سے زیادہ مشکل بھارتی نژاد مسلمانوں کو پیش آتی ہے جن کا ہم مذہب ہونے کی بنا پر مسجدوں وغیرہ میں پاکستانی نژاد امریکیوں سے زیادہ میل جول رہتا ہے لیکن پاک بھارت کشیدگی کے دوران وہ ہندوستان کا شہری ہونے کی بنا پر خود کو دشمن کی صف میں پاتے ہیں۔ ہندوستان نژاد مسلمانوں کی اپنے ملک سے وفا داری نہ صرف اخلاقی تقاضا ہے بلکہ قائد اعظمؒ نے بھی بمبئی چھوڑتے وقت یہی تاکید کی تھی اس موقع پر مسلم لیگ انڈیا کے صدر کی جانب سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان کے شہری کی حیثیت سے انہیں ہندوستان کا وفادار رہنا چاہئے۔ تاکید کرتے وقت ان کے ذہن میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کا خاکہ امریکہ اور کینیڈا جیسا تھا جن کے درمیان آمد و رفت میں کوئی روک ٹوک نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ملک میں ٹیلیفون کال بھی لوکل کال ہی شمار ہوتی ہے۔یہ دونوں ممالک بھی برطانیہ اور فرانس کی نو آبادیاں رہے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک نے پرامن بقائے باہمی کا فارمولا تلاش کر لیا جس میں ٹیپ کا بند شاید یہ ہے امریکہ کی آبادی بھی اگرچہ کینیڈا سے دس گنا زیادہ ہے لیکن وہ سپر پاور ہونے کے باوجود کینیڈا پر کوئی دھونس نہیں جماتا۔

مزید :

رائے -کالم -