کورونا ریلیف فنڈ اور ٹائیگر فورس کا قیام

کورونا ریلیف فنڈ اور ٹائیگر فورس کا قیام

  

وزیراعظم عمران خان نے کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کے قیام کا اعلان کیا ہے یہ فورس،فوج اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور لاک ڈاؤن والے علاقوں میں خوراک سمیت بنیادی ضرورت کی اشیا پہنچائے گی، کوئی بھی نوجوان اس فورس میں شامل ہو سکتا ہے، لوگوں میں کورونا وائرس کے حوالے سے شعور و آگاہی پیدا کرنا بھی اس فورس کی ذمے داریوں کا حصہ ہو گا، نوجوان ڈاکٹر، نرسیں، انجینئر،طلباء، ڈرائیور اور مکینک بھی فورس کا حصہ بن سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ہم اُنہیں بتائیں گے کہ کس طرح کام کرنا ہے،وزیراعظم نے کورونا ریلیف فنڈ کے قیام کا بھی اعلان کیا، بیرونِ ملک اور اندرونِ ملک سے اس فنڈ میں رقوم جمع کرائی جا سکتی ہیں، اس فنڈ میں عطیات دینے والوں کو ٹیکس میں چھوٹ ملے گی، بدھ کے روز(آج) سے یہ فنڈ کام شروع کر دے گا، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ بیس لاکھ افراد کو بارہ بارہ ہزار روپے دیئے جا رہے ہیں اس میں اضافہ بھی کیا جائے گا اور ریلیف فنڈ کے ذریعے بھی انہیں رقوم فراہم کی جائیں گی۔ فنڈ کا باقاعدہ آڈٹ ہو گا اور کوئی بھی اس کے بارے میں معلومات حاصل کر سکے گا۔ وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے ان اقدامات کا اعلان کیا۔

ٹائیگر فورس کے قیام کی باز گشت تو وزیراعظم کی تقریروں اور پریس کانفرنسوں میں اس سے پہلے بھی سننے میں آ رہی تھی،لیکن اس کا قیام اب عمل میں آیا ہے، چونکہ یہ ایک رضاکار فورس ہو گی،جس میں شمولیت کی بظاہر کوئی شرائط بھی سامنے نہیں آئیں،اِس لئے نہیں کہا جا سکتا کہ کون لوگ اس میں شامل ہوں گے۔وزیراعظم نے ڈاکٹروں اور نرسوں سے بھی اس فورس کا حصہ بننے کے لئے کہا ہے، جو پہلے ہی اپنے اپنے حصے کی شمعیں بڑی کامیابی سے جلا رہے ہیں اور مریضوں کی خدمت کرتے ہوئے کچھ ڈاکٹر اور نرسیں خود وائرس میں مبتلا ہو گئے ہیں۔گلگت کے ڈاکٹر اسامہ ریاض کو اس راہِ جہاد کے پہلے شہید کا اعزاز بھی مل چکا ہے،اب اگر وزیراعظم نے ڈاکٹروں اور نرسوں کو ٹائیگر ریلیف فورس کا حصہ بننے کے لئے کہا ہے تو معلوم نہیں اُن کے ذہن میں اس کی کیا جزیات ہیں، کیونکہ جو ڈاکٹر اور نرسیں پہلے ہی ہسپتالوں میں بارہ بارہ گھنٹے ڈیوٹی کر رہے ہیں اُن کے پاس مزید خدمت کے لئے وقت کہاں ہو گا۔ البتہ ڈرائیوروں اور مکینکوں کی شمولیت کی بات سمجھ میں آتی ہے، جو ٹائیگر فورس میں مل کر ضرورت مندوں کو کھانا وغیرہ پہنچانے والی گاڑیاں ڈرائیو کریں گے اور مکینک ان گاڑیوں کو درست حالت میں رکھنے میں معاونت کریں گے۔ہفتے دس دن کے اندر اس رضا کار فورس کا ڈھانچہ کھڑا ہو گا تو پتہ چلے گا کہ اس مقصد کے لئے کون کون سے طبقات میدان میں آئے ہیں۔ویسے شمولیت کی بنیادی شرط تو نوجوان ہونا بتائی گئی ہے۔ ظاہر ہے متحرک نوجوان ہی ایسی رضا کارانہ خدمات انجام دے سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے کورونا ریلیف فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے،جس کے متعلق انہوں نے خاص طور پر کہا کہ اس فنڈ کا آڈٹ ہو گا، آڈٹ تو ہر سرکاری رقم کا ہوتا ہے جو تھوڑی ہو یا زیادہ، آڈٹ کا ایک لگا بندھا نظام ہمارے ہاں موجود ہے اور ہمارے مالیاتی اور مالی نظام میں جو خرابیاں یا کوتاہیاں موجود ہیں آڈٹ بھی ان سے بچا ہوا نہیں ہے،اِس لئے ضرورت اِس امر کی ہو گی کہ ریلیف فنڈ کو زیادہ شفاف طریقے سے خرچ کیا جائے، چونکہ بنیادی طور پر یہ فنڈ غریبوں کے نام پر اور غریبوں ہی کے لئے بنایا گیا ہے اِس لئے اس بات کا اہتمام ضروری ہے کہ غریبوں کا نام محض برائے وزنِ بیت ہی نہ لیا جائے،بلکہ جو فنڈ بھی جمع ہوں وہ حقیقی معنوں میں غریبوں تک پہنچیں اور ان کی ضروریات بروقت پوری ہوں۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں ریلیف کی اشیا کی خورد برد کی بڑی پختہ روایت موجود ہے اور بڑے بڑے لوگ بھی اس سلسلے میں ملوث پائے جاتے ہیں، زیادہ دور نہیں جاتے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں گریڈ بیس اور اکیس کے افسروں کی بیگمات نے بھی رقوم وصول کیں،حالانکہ اُن محترم خواتین کے گھروں میں کسی شے کی کوئی کمی نہ تھی، ہزار دو ہزار روپے ماہوار اگر وہ وصول نہ بھی کرتیں تو اُنہیں کوئی فرق نہیں پڑنا تھا،لیکن ان خواتین نے سیر چشمی کا مظاہرہ نہیں کیا،سیلابوں اور دوسری قدرتی آفات میں جو عطیات جمع ہوتے ہیں ان کی رقوم بھی مستحقین تک نہ پہنچنے کی شکایات منظر عام پرآتی رہی ہیں، اِس لئے بہتر یہی ہے کہ ٹائیگر ریلیف فورس کے نام اور کام پر ایسا کوئی دھبہ نہ لگنے دیا جائے اور اشیا کی تقسیم کا ایسا سسٹم وضع کر لیا جائے، جس پر مخالفین بھی انگلیاں نہ اُٹھا سکیں۔ قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف نے اِس سلسلے میں پارلیمانی نگران کمیٹی کی تجویز دی ہے اس پر غور کرنے میں کوئی حرج نہیں،لیکن حکومت کے حلقوں میں شاید اس تجویز کو زیادہ پذیرائی نہ ملے۔ وزراء اور معاونین تو پہلے ہی اِس پر طرح طرح کا ردعمل دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔

وزیراعظم نے احساس پروگرام کے تحت غریبوں کو جو نقد رقوم ادا کرنے کے لئے اعلان کر رکھا ہے معلوم نہیں اس کی ادائیگی شروع ہو چکی ہے یا ابھی فہرستیں وغیرہ ہی بن رہی ہیں۔پنجاب میں لاک ڈاؤن ایک ہفتے سے زیادہ ہو گیا ہے اِس دوران جو لوگ متاثر ہوئے ہیں ان کی تعداد کتنی ہے اور انہیں کس نوعیت کی مدد مل چکی ہے یا ملنے والی ہے اس کی تفصیلات بھی سامنے آ جائیں تو ریلیف کے کام کو مربوط کرنے میں مدد ملے گی۔ابھی تک تو یہ بھی اچھی طرح سے اندازہ نہیں ہوا کہ کتنے لوگ کس حد تک متاثر ہوئے ہیں۔بعض تنظیمیں راشن وغیرہ کے نام پر چھوٹے چھوٹے شاپنگ بیگ لوگوں میں تقسیم کرنے کی تصویریں اخبارات میں چھپوا رہی ہیں،لیکن شاید یہ نہیں سوچا گیا کہ یہ راشن کتنے دن تک چل سکتا ہے،لگتا ہے بعض تنظیموں کے منتظمین اپنی حاضری لگوانے کو ہی عوام کی خدمات سمجھ بیٹھے ہیں۔البتہ بہت سی رفاہی تنظیمیں صلے اور ستائش کی تمنا سے بالا تر ہو کر ریلیف کا قابل ِ قدر کام کر رہی ہیں۔اب ٹائیگر فورس میدان میں آئے گی تو پتہ چلے گا اِس سے یہ کام کتنا بہتر ہوتا ہے اور اس میں کتنی تیزی آتی ہے۔ اب وقت ضائع کئے بغیر عملی کام کا آغاز کیا جائے،زبانی جمع خرچ بہت ہو چکا۔

مزید :

رائے -اداریہ -