وبا ء میں نماز کے احکام

وبا ء میں نماز کے احکام
وبا ء میں نماز کے احکام

  

نماز دین اسلام کے پانچ اراکین میں سے ایسا بنیادی رکن ہے کہ جو کسی بھی حالت میں معاف نہیں لیکن اس کو ادا کرنے کے حوالے سے رخصت موجود ہے۔اگر آپ سفر میں ہیں تو چار کی جگہ دو فرض ادا کریں اللہ آپ کو چار فرض کے برابر اجر دے گا۔ اسی طرح حالت جنگ میں بھی نماز کی ادائیگی کا حکم موجود ہے اور اللہ کے نبی ﷺ نے مختلف مواقع پر جنگ کے دوران اس کو ادا کر کے ہمیں یہ سبق سکھایا ہے کہ جنگ میں نماز کو کیسے ادا کرنا ہے۔اسی طرح بیماری کی حالت میں بھی اللہ کے نبی ﷺ نے طریقہ بتایا ہے کہ کیسے نماز ادا کرنی ہے۔آج کل پوری دنیا میں کورونا نے انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے تو ایسے میں پاکستان سمیت مختلف ممالک میں وقتی طورپر مسجدوں میں نماز کی ادائیگی سے منع کر دیا گیا ہے تا کہ یہ موذی مرض پھیل نہ سکے اور نمازی حضرات بھی اللہ کی سب سے بڑی نعمت صحت سے مستفید ہو سکیں۔ یہاں پر بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ مسجدوں سے روکنا بہت بڑا گناہ ہے

جبکہ مسجدوں سے منع نہیں کیا جا رہا صرف با جماعت نماز کی ادائیگی سے منع کیا گیا ہے جبکہ نماز سے تو بہر صورت منع نہیں کیا گیا وہ کوئی بھی مسلمان جب نماز کا وقت ہو جائے تو اپنے گھر میں اکیلے میں ادا کر کے با جماعت نماز کا اجر پا سکتا ہے اور اس حوالے سے تمام مسالک کا متفقہ فتوی ہے کورونا کی وجہ سے جو نماز گھر میں ادا کی جائے گی وہ با جماعت نماز ہی متصور ہو گی۔ دوسرا ہم اگر تاریخی اور اسلامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ بلکہ گزشتہ انبیاعلیہ السلام کے ادوار میں لوگ گھروں میں نماز ادا کرتے رہے ہیں۔ جیسا کہ حضرت موسی ؑ کے دور میں جب فرعون نے مسجدوں (مسجدیں حضرت یوسف کے دور سے بننا شروع ہو گئی تھی) کے باہر اپنی پولیس کھڑی کردی اور ایک خوف کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی تو اس حولے سے قران پاک میں سورہ یونس کی آیت نمبر 87 میں اللہ پاک فرماتے ہیں ”ہم نے موسیٰ ؑ اور اس کے بھائی ہارون کی طرف وحی کی کہ تم اپنی قوم کیلئے مصر میں جو ان کے گھر ہیں ان کو ٹھکانا بنا لو جمع ہونے کیلئے ان میں سے بعض گھروں کا رخ قبلہ کی طرف کر لو وہاں نماز پڑھ لیا کرو“۔

اسی طرح اگر ہم دور اسلام کی بات کریں تو گزشتہ کالم میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے کیسے بیماریوں سے بچنے کے طریقے بتائے تا کہ انسان یہ گمان نہ کرے کہ یہ بیماری اسے انسان نے لگا دی جبکہ مسبب الاسباب تو اللہ پاک کی ذات ہے۔اللہ تعالی قران پاک میں فرماتے ہیں کہ اگر میں کسی کو نفع دینا چاہوں تو دنیا کی ساری طاقتیں مل کر بھی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتیں اور اگر میں کسی کو نقصان پہنچانا چاہوں تو دنیا کی ساری طاقتیں مل کر بھی اسے نفع نہیں پہنچا سکتیں۔کہنے کا مقصد ہے کہ بیماری ہو یا تندرستی یہ سب اللہ ہی کی وجہ سے ہے اور اللہ کے سوا کوئی مشکل کشا نہیں ہے۔بات ہو رہی تھی وبا کے دوران نماز کی ادائیگی کے حوالے سے تو جیسا کہ دوسرے خلیفہ حضرت عمر ؓ کے دور خلافت کے دوران شام میں وبا پھوٹی تو اس وبا کی وجہ سے اس وقت اسلامی لشکر جو شام میں اس وقت کی سپر پاور رومیوں سے نبرد آزما تھا، وہ بھی اس وبا کی لپیٹ میں آ گیا۔حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ؓ جنہیں اللہ کے نبیﷺ نے امین امت کا لقب دیا وہ طاعون کا شکار ہو گئے۔ان کے بعد جلیل القدر صحابی معاذ بن جبل ؓ نے لشکر کی کمان سنبھالی اور یہ وہ معاذ بن جبل ؓ ہیں جنہیں اللہ کے نبی ﷺ نے اپنی زندگی میں یمن کا حاکم بنا کر بھیجا اور وہ پہلے ایسے صحابی اور حاکم ہیں جنہیں اللہ کے نبی ﷺ نے کسی ملک کا مدینہ سے باہر حاکم بنا کر بھیجا۔وہ بھی طاعون کا شکار ہو گئے۔ان کے بعد حضرت عمربن عاصؓ نے شام کی گورنری سنبھالی تو حضرت عمربن عا صؓ کو اللہ نے سمجھ عطاء کردی کہ حل ڈھونڈیں،دین اسلام میں رہ کر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا یہ مسلمان کا شیوہ ہے۔

حضرت عمر بن عاصؓ نے حکم فرما دیا کہ سب لوگ ایک دوسرے سے الگ الگ ہو جائیں اور پہاڑوں پر بکھر جاؤتو لوگوں نے اپنے گھروں، مسجدوں کو خالی چھوڑ دیا اور جب تک طاعون کی وبا ختم نہیں ہوئی تو سب لوگ الگ الگ رہے اور تنہائی میں نماز ادا کرتے رہے۔ جب خلیفۃ المسلمین حضرت عمر ؓ کو اس تدبیر کا پتہ چلا آپ نے نہ صرف اسے پسند کیا بلکہ اس کی تائید بھی فرمائی۔ان واقعات کو تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کرونا ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہو جاتا ہے احتیاطی تدابیر وقتی طور پر مساجد بند کرنے کا فیصلہ شرعی اصولوں کے منافی نہیں ہے۔اسی طرح حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم سفر میں تھے تو ایک آدمی کے سر پر پتھر لگنے سے وہ زخمی ہوگیا اس پرغسل واجب ہو گیا۔ تو اس آدمی نے کہا مجھے رخصت ہے میں غسل نہ کروں تیمم کرکے نماز پڑھ لوں تو لوگوں نے کہا تمہیں غسل ہی کرنا ہوگا تو اس نے غسل کیا وہ فوت ہو گیا تو جب ہم رسول اکرمﷺ کی خدمت میں آئے تو آپ ﷺ کو اس سارے واقعہ سے آگاہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا جن لوگوں نے یہ مسئلہ اس کو سنایا اس کو غسل کرنا پڑا وہ فوت ہو گیا وہ فوت نہیں ہوا ان لوگوں نے اس کو قتل کیا ہے۔ اگر ہم شرعی نقطہ نظر سے دیکھیں تو متعدد احادیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ شدید بارش یا تیز آندھی طوفان کی وجہ سے لوگوں کو اپنے گھروں میں نماز کا حکم دیا جاسکتا ہے۔

ایک مرتبہ مفسر قرآن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن خطبہ سنایا اور بارش وکیچڑ کی وجہ سے موذن کو یہ حکم دیا کہ اذان میں آج حی علی الصلاۃ کی جگہ یوں پکار دوالصلاۃ فی الرجال کہ نماز اپنی قیام گاہوں پرہی ادا کر لو۔اس وقت ہمارا ملک بھی کرونا جیسی موذی بیماری کی لپیٹ میں ہے جس کا علاج فی الوقت نا ممکن ہے صرف احتیاط اور سوشل ڈسٹنس یا سماجی رابطوں میں فاصلہ رکھنا ہی اس کا علاج ہے توان حالات میں اپنے گھروں میں با جماعت نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ جو دین مسلمانوں کو کیچڑ سے بچانے کیلئے گھر میں نماز کا حکم دے رہا ہے ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ دین وبا کی صورت میں لوگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالے۔ویسے بھی ہمارا دین اسلام انسانیت کے اصولوں کے عین مطابق ہے اور اسلام نے تو اپنے جانوروں تک کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع کیا ہے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ دین اسلام انسانوں کی زندگی کا دشمن بن جائے۔گھر میں نماز ادا کرنا عین دین اسلام ہے اصولوں کے مطابق ہے بس اللہ رب العزت سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ اس موذی مرض سے مسلمانوں سمیت پوری انسانیت کو نجات دے۔آمین

مزید :

رائے -کالم -