2ٹریلین ڈالر کا امریکی معیشت بحالی پیکیج

2ٹریلین ڈالر کا امریکی معیشت بحالی پیکیج
2ٹریلین ڈالر کا امریکی معیشت بحالی پیکیج

  

چین بلا شبہ ایک عظیم طاقت ہے۔ چین معاشی، معاشرتی، سیاسی اور سفارتی لحاظ سے ایک عظیم الشان ریاست بن چکی ہے اس نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو BRI))کے ذریعے دنیا کے تین بر اعظموں بشمول ایشیا، یورپ اور افریقہ تک رسائی حاصل کرکے عالمی تجارت پر اپنی گرفت ثابت کر دی ہے۔ 5-G ٹیکنالوجی کے اجراء کے ذریعے اس نے فنی تخلیقی شعبے میں بھی اپنی برتری ثابت کر دی ہے۔ سفید انسان، جو اس وقت عالمی منظر پر، عالمی تہذیبی، تمدنی، معاشی، سیاسی اور سفارتی منظر پر ایک عرصے سے چھایا ہو ا ہے، چین کی اس برتری کو آسانی سے نہیں جا نے دے گا۔ اس وقت امریکہ، سفید انسان کی برتری کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہے۔ وہ ایک عرصے سے چین کی برتری کے خلاف معاملات کو ہوا دے رہا ہے، کبھی تبت کے دلائی لامہ کو شہ دے کر، کبھی تائیوان کے معاملات میں مداخلت کر کے اور کبھی ہانگ کانگ میں بے چینی پیدا کرکے چین کے تعمیر و ترقی اور عظمت کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے کی مسلسل کا وشیں کر رہا ہے، لیکن چینی قوم اپنی قیادت کی بالغ نظری اور اتحاد و یکجہتی کے با عث اپنے اہداف کے حصول میں یکسوئی کے ساتھ کمر بستہ رہی ہے دسمبر2019ء میں کورونا وائرس کے حملے نے چینی قوم کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا تھا۔

چینی معیشت کا دھڑن تختہ ہونے جارہا تھا کہ چینی قوم نے 100 دنوں کے اندر اندر اس عفریت پر قابو پاکر اپنی ثابت قدمی پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ چینی عوام نے اس بلا کا رخ موڑ دیا ہے۔ چین میں معاملات عمومی صورتحال کی طرف لوٹ رہے ہیں چینی قوم ایک بار پھر اپنے طے کردہ اہداف کے حصول کے لئے کمر بستہ ہو چکی ہے۔ عظمت اور عالمی برتری کے حصول کا سفر جو دسمبر 2019ء میں رکنے لگا تھا، اب ایک بار پھر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ شروع ہوچکا ہے۔ چین نے ایک بار پھر دنیا پر اپنی برتری، اپنی عظمت ثابت کر دی ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے جو سردست عالمی چودھری ہے۔ بھی عالمی معیشت کی بحالی کے لئے اقدامات شروع کر دئے ہیں۔ امریکی معیشت، بین الاقوامی معیشت کے انجن کی حیثیت رکھتی ہے دنیا کی سرمائے کی منڈی ہو یا تیل اور سونے کی منڈیاں، اسلحے کی مارکیٹ ہو یا کا ٹن ٹیکسٹا ئل کی دنیا، ہر جگہ امریکہ نمایاں نظر آتا ہے۔ آئی ایم ایف ہو یا ورلڈ بنک اور دیگر زری ادارے سب امریکی سرمائے کے مرھونِ منت نظر آتے ہیں۔

امریکی معشیت میں کسی قسم کا زیرو زبر، عالمی معاشی اعشاریوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کورونا وبا کے باعث جہاں چین کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور پھر 200کے قریب ممالک اسی وبا کی زد میں آئے تو اقتصادی معاملات میں گڑبڑ کے اثرات نظر آنے لگے امریکہ بھی اس وبا کی زد میں آنے والے ممالک میں شامل ہے، بلکہ امریکہ کا شمار ان ممالک میں ہورہا ہے۔ جہاں یہ وائرس شدت سے حملہ آور ہوا ہے۔ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں نمبرون کی پوزیشن پر ہے۔ اس وقت (بروز اتوار) دنیا میں 691,867افراد اس وبا ء کا شکار ہو چکے ہیں، جبکہ 32,988جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ امریکہ میں 1,30,478 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 2314ہلاکتیں رپورٹ ہوگئی ہیں۔ 70فی صد امریکہ لاک ڈاؤن کی زد میں ہے معاشی سرگرمیاں صفر ہو چکی ہیں۔ اس کے باوجود امریکہ نے اپنی معاشی و معاشرتی سر گرمیوں کو نئی زندگی دینے کی کاوشوں کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے لئے 2000ارب ڈالر کے بحالی پیکیج کی منظوری دے دی ہے عموماً ایسے بل کی تیاری اور منظوری میں ہفتے نہیں مہینے لگتے ہیں لیکن امریکی پارلیمانی نمائندوں اور رہنماؤں نے اس بل کی تیاری اور منظوری دنوں میں مکمل کر کے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنی عالمی برتری برقرار رکھنے اور ”امریکہ نمبرون“کے لئے یکسو ہیں اس بل کے مطابق 3400ڈالر کے چیک لاکھوں نہیں کروڑوں امریکی خاندانوں میں تقسیم کئے جائیں گے۔ بل میں درج تفصیلات کے مطابق امریکہ میں ایک اوسط خاندان 4افراد پر مشتمل تصور کیا جاتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنزکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں بل کی منظوری کے لئے انہیں ”اکٹھاہونے اور امریکہ پہلے سمجھنے“ پر مبارکباد دیتا ہوں۔

چین کی عالمی معاشی وسعت اور تجارتی برتری کے باوجود امریکہ عالمی معیشت اور سیاست میں فیصلہ کن کردار کا حامل ملک ہے۔ اس لئے اس نے کرونا وائرس کے حملے کے بعد بھی اپنی اس حیثیت کو بر قرار رکھنے کی کاوشیں شروع کر دی ہیں۔ 2ٹریلین ڈالر کازیر بحث معاشی پیکیج اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اسی روز امریکی صدر نے ایک اور حکم نا مے پر دستخط کئے، جس کے مطابق پینٹاگون کو اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ ریٹائرڈ نیشنل گارڈ اور فوجیوں کو کورونا کے خلاف لڑنے کے لئے فعال ڈیوٹی کے لئے طلب کرلے یہ ریٹائرڈ فوجی اور گارڈ ز پہلے سے کورونا کے خلاف لڑنے والے امریکی فوجیوں کے شانہ بشانہ فرائض سر انجام دیں گے۔ امریکہ میں فوج طلب کی جا چکی ہے اور وہ کورونا سے نمٹنے کے لئے فرنٹ لائن پر مصروف ِ عمل ہے۔ امریکی صدر نے ڈیفنس پرو ڈکشن ایکٹ کے تحت آٹوانڈسٹری کے دیو جنرل موٹرز کو پابند کیا ہے کہ وہ اس مرض کے لئے انتہائی ضروری مشین، وینٹی لیٹر کی پیداوار، شروع کرے، تاکہ امریکی ہسپتالوں کو درکار اس مشین کی ضرورت پوری ہو سکے۔2 کھرب ڈالر کے پیکیج میں سے 100ارب ڈالر میڈیکل اداروں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے مختص کئے گئے ہیں، تاکہ وہ فوری ضرورت کے آلات و اشیاء خرید سکیں۔ 500 ارب ڈالر بڑی کا رپوریشنوں اور 377ارب ڈالر چھوٹے کاروباروں کی بحالی کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ مارچ کے دوسرے عشرے کے اختتام تک امریکہ میں 33لاکھ شہری اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں یہ ریکارڈ بے روزگاری ہے، جبکہ روزانہ کی اجرت کی بنیاد پر کام کرنے والوں کا شمار اس کے علاوہ ہے۔

2000ارب ڈالر کے پیکیج سے نہ صرف ضرورتمندوں کی فوری امداد ممکن ہوگی، بلکہ شدید سرد مہری کا شکار معیشت میں گرمی پیدا کیجائے گی۔ نقدیت کے اتنے بڑے انجکشن سے ڈو بتی ہوئی معیشت کو نہ صرف سہارا ملے گا، بلکہ اس میں زندگی کی لہر دوڑے گی کاروبار شروع ہوں گے۔ پیداواری عمل میں تیزی آئے گی۔ اشیاء و خدمات کی طلب میں اضافہ، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے گا۔ اس طرح ضارب کے عمل سے کئی گنا زیادہ دولت پیدا ہوگی۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کا خاصا ہے کہ جب اس میں سرد بازاری یعنی معاشی سرگرمی میں گراوٹ پیدا ہوتی ہے تو وہ گراوٹ ایک خاص حد تک، یعنی پستی کی ایک حد تک جا کر، بحالی و بلندی کی طرف جانا شروع ہوجاتی ہے۔ امریکی حکومت نے سرد مہری کی اس لہر کو سرخ لائن تک گرنے سے پہلے ہی اٹھانے کے اقدامات کرنے شروع کر دئیے ہیں۔ 2000ارب ڈالر کا پیکیج امریکی معیشت میں نئی زندگی دوڑادے گا۔رواں صدی کی پہلی دہائی میں باراک اوباما کے دورِ حکمرانی میں بھی، جب بینکنگ سیکٹر میں بحران کے باعث معاشی سر گرمیوں میں گراوٹ پیدا ہونے لگی تھی تو امریکی حکومت نے 800 ارب ڈالر کے پیکیج کے ذریعے معیشت کو سنبھالا دینے کی کوشش کی تھی اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوئی تھی۔ ٹرمپ حکومت نے ایک بار پھر ایسا کیا ہے اپنی معیشت کو بچانے کے لئے، عالمی معیشت میں اپنا نام اور مقام برقرار رکھنے کے لئے 2000ارب ڈالر کا پیکیج کوئی بڑی قیمت نہیں ہے امریکہ اپنی تاریخ میں ایسا کئی بار پہلے بھی کر چکا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -