اسلام اور استحصال!

اسلام اور استحصال!
اسلام اور استحصال!

  

”ظالم جاگیرداروں اور بے رحم سرمایہ داروں نے معاشرے کو یرغمال بنا رکھا ہے…… طبقاتی، معاشی اور تعلیمی نظام کے ذریعے یہ لوگ عام آدمی کا استحصال کر رہے ہیں“۔گزشتہ دِنوں امیرجماعت اسلامی جناب سراج الحق صاحب نے پارٹی کے مرکزی و صوبائی سیکرٹریز اطلاعات کے اجلاس میں ان انقلابی خیالات کا اظہار کیا۔پہلی بات تو یہ ہے کہ انہوں نے سچ بالکل سچ کہا،جاگیرداروں کا مزاج ابتدا سے ہی فرعونانہ ہے،اور سرمایہ دارں کا یامانانہ! درحقیقت ان کے منہ انسان کا خون لگا ہوا ہے۔یہ جنگلی درندوں سے بھی زیادہ بے حس، وحشی اور قاتل ٹھہرے، جو اِن کے برعکس احتیاج کے بغیر کسی کا گوشت کھاتے نہ لہو پیتے ہیں۔

دوسری بات مگر یہ ہے کہ جناب سینیٹر سراج الحق نے روایتی انداز میں الفاظ کا کاروبار کیا،جماعت اسلامی کے دستور، منشور حکمت اور منصوبہ بندی میں اس زہر کا سرے سے تریاق موجود نہیں۔ 1970ء میں پاکستان پیپلزپارٹی نے الیکشن جیتا تو ایک عقیدت مند صحافی، جو بقید ِ حیات اور ہنوز بڑا نام رکھتے ہیں، نے سید مودودیؒ سے کہا تھا، لازم ہے کہ ہم بھی لوگوں کی معاشی آہوں اور اقتصادی کراہوں کو زیر بحث لایا اور روٹی کپڑا مکان کو موضوعِ گفتگو بنایا کریں۔ مولانا مرحوم نے فرمایا: ”مَیں معدے سے نہیں سوچ سکتا“۔

مذہبی جماعتوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ طبقاتی کشمکش اور عوام کے مسائل و وسائل پر سنجیدگی سے بات نہیں کرتیں۔انہوں نے معاشرتی اُونچ نیچ کو دین فطرت کا لازمی حصہ سمجھ لیا ہوا ہے۔ان کی جب بھی زبان کھلتی یا قلم اٹھتا ہے تو چاہتے نہ چاہتے ہوئے جاگیرداری و سرمایہ داری کے تحفظ میں، دراصل انہوں نے دین کو ملوکیت کی آنکھ سے دیکھا ہے، جس میں جاگیریں اور سرمایہ صرف جائز نہیں، بلکہ لازم ہیں۔اغلباً جماعت اسلامی کی اٹھان کافی سے زیادہ جاندار تھی۔افسوس مگر یہ ہے کہ فروعی مسائل میں اُلجھ کر رہ گئی۔انہوں نے مادیات کو ضروریاتِ زندگی کے طور پر کبھی نہیں لیا۔جب ان کے چند اوپر والے ذمہ داران چین میں ہیں تو گویا ملک کا فرد فرد آرام سے ہے“۔ خدا کے صالح بندوں نے“ عوام کو باشعور، تعلیم یافتہ اور آزاد سمجھ رکھا ہے۔واقعی لوگ آزاد ہیں؟ اگر یہ فی الواقع آزاد ہیں تو پھر غلام کون ہیں؟؟ غلامی میں آزادیئ فکر اور حق ِ رائے دہی کیا؟

مجھے کہنے دیجئے کہ جملہ مذہبی جماعتوں کا تفہیم دین محدود بالکل محدود ہے۔ یہ اپنی تمام تر توانائیاں مخصوص فکری تعبیرات پر لگاتی چلے آئی ہے۔ اعتقادات، اخلاقیات، عبادات اور معاملات! اسلام کے حقیقی معاشی تصورات کو کوئی کبھی موضوعِ گفتگو نہیں بنایا گیا۔قرآن کا منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کے بارے میں کیا زوایہئ نگاہ ہے؟ سیدنا حضرت ابو ذر غفاری ؓ کا اس سے متعلق رویہ و عمل کیا تھا؟صدیوں سے ایک طویل خاموشی ہے۔عہد ِ بادشاہت کے اعمال و عمال کو ہی اسلام سمجھ لیا گیا ہوا ہے، آہ! جو دین دُنیا کا منظر و نقشہ بدلنے آیا تھا، اپنے پیرو کاروں کی سادگی سے خود بدل کر رہ گیا۔واقعہ یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ ایک طویل ترین مدت سے اسلام کے نام پر غیر اسلامی روایات میں جکڑا ہوا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے اس بارے میں کچھ غلط نہیں کہا۔تاہم اُن سے یہ پوچھا جا سکتا ہے اور واشگاف الفاظ میں پوچھا جاناچاہئے کہ ان کی جماعت کے دستور و منشور میں اس کا حل کیا ہے؟کسی کے پاس کوئی عملی پروگرام نہیں۔ کوئی سیدنا حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز کی سنت پر عمل کرنے والا؟ سب نے ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد اپنے اپنے مفادات کے لئے بنا رکھی ہے، اور کسی کو نہیں معلوم کہ وہ جانے انجانے میں سامراج ہی کو مضبوط کرتے آ رہے ہیں۔کسی کو کب علم ہے کہ اسلامی نظام کے نفاذ کا مطلب کیا؟

مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کے پاس کوئی واضح فکر ہے نہ عمل! بس جماعت کا کوئی اسلامی نام اور ایک نعرہ! سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر آج زمامِ اقتدار ان کے ہاتھ میں آ جائے تو کیا ہو۔یہ بلی چوہے کا کھیل ہے۔ ایک ہزار برس تک اندھیرے میں ”جدوجہد“ کرتے رہیں تو کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔بالغرض ایوانِ حکومت میں ایک ہزار سال کے لئے آ جائیں تو بھی مقدر بے ثمری و بے مرادی!

مزید :

رائے -کالم -