کورونا ٹائیگر فورس کا قیام وزیراعظم کا احسن اقدام

کورونا ٹائیگر فورس کا قیام وزیراعظم کا احسن اقدام
کورونا ٹائیگر فورس کا قیام وزیراعظم کا احسن اقدام

  

وزیراعظم عمران خان نے اگلے روز دو ارب ڈالرز کے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے جو کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے مستحقین میں تقسیم کیا جائے گا جو ایک بروقت عمل ہے کہ ملک میں لاک ڈاؤن کے باعث غریب، مزدور اور دیہاڑی دار بری طرح متاثر ہورہے تھے اور ان کے لئے گھرکا چولہا جلانے کے لئے یہ ضروری تھا کہ حکومت آگے بڑھے اور ان کی مدد کرے۔ اس ابتلاء اور مشکل وقت میں وزیراعظم عمران خان کا یہ عمل انتہائی مستحسن اور قابل ِ تعریف ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ بھی قدم بڑھائیں اور اس کار خیر میں حکومت کا ساتھ دیں، تاہم ہماری وزیر اعظم سے گزارش ہے کہ وہ اس رقم کی تقسیم کار کا ایک ایسا فول پروف انتظام کریں کہ یہ مستحق افراد کے ہاتھوں میں ہی پہنچے نہ کہ غلط لوگ اس سے استفادہ کریں۔ کورونا کی وبا نے جس تیزی کے ساتھ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اس نے ایک انتہائی تشویشناک صورت حال اختیار کر لی ہے، جو اس بات کی متقاضی ہے کہ اس سلسلے میں انفرادی اور اجتماعی طور پر نہ صرف غور و فکر کی ضرورت ہے،بلکہ اس حوالے سے ضروری اقدامات اور احتیاطی تدابیرکی اہمیت اور بڑھ گئی ہے،جو ہم جیسے ترقی پذیر ملک اور معاشرے کے لئے انتہائی ضروری ہے افراد کے مجموعے کو ہی معاشرہ کہتے ہیں اور جب بھی کسی معاشرے کو ایسے کڑے اور مشکل وقت سے گزرنا پڑے،جس سے اجتماعی طور پر متاثر ہونے کے خدشات و خطرات لاحق ہوں تو اس سے نبرد آزما ہونے کے لئے انفرادی عمل کی اہمیت کے ساتھ ساتھ اجتماعی کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

الحمد للہ! ہم ایک مسلم ملک کے شہری ہیں اور اسلام نے آج سے ایک ہزار چار سو اکتالیس برس پہلے ہر مسلمان کو اس کے انفرادی اور اجتماعی فرائض اور حقوق سے کما حقہ آگاہ کر دیا تھا جواپنی ابتداء سے آج تک نہ صرف یہ کہ قابل عمل ہیں اور ناصرف مسلمانوں،بلکہ بنی نوع انسان کے لئے بھی فائدہ مند ہیں جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو اسلام ہمیں دینی،معاشرتی اور سماجی تعلیم کا درس دیتا ہے۔علاوہ ازیں ہماری منبع رشد و ہدایات مقدس کتاب قرآن مجید۔ فرمودات رسول کریمؐ اوراحکامات اسلامی پر عمل کرنا ہماری انفرادی اور قومی ذمہ داری ہے،جو ہمیں انسان سے محبت اور مشکل وقت میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔اسلام میں مساجد کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے اگر آج کی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کا مساجد کے ساتھ تقابلی جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ دور جدید کی اسمبلیاں مساجد کی ہی مرہون منت ہیں، جنہیں دیکھ کر یہ وجود میں لائی یا بنائی گئیں۔ ہماری گلی کی مسجدیں ان گلیوں کی اسمبلیاں تھیں،جہاں ان کے مسائل حل کئے جاتے تھے اور یہ آج کے بلدیاتی نظام کا بھی پیش خیمہ تھیں اسی طرح محلے کی مسجدیں،جہاں نماز جمعہ ادا کی جاتی تھی وہ اس علاقے کی اسمبلی تھی اور عید کی نمازوں کے لئے عید گاہ میں ہونے والا اجتماع شہر کی اسمبلی ہوتی تھی اور سالانہ منعقدہ ہونے والا حج کا اجتماع مسلم ا مہ کی اسمبلی ہوتی تھی یہ بھی حج ہی کا اجتماع تھا، جس میں رسول کریمؐ نے دین مکمل ہونے کا اعلان فرمایا تھا۔ حج کے اجتماع میں عالم اسلام کے مسائل پر گفت و شنید کی جاتی تھی۔ آج کی جمہوری اسمبلیاں، پارلیمنٹ اور یہاں تک کہ اقوام متحدہ بھی ان شعائر اسلامی کی تقلید ہے بعینہ بلدیاتی نظام کو لے لیں یہ بھی تو گلی محلے کے مسائل کے حل کے لئے ہی تشکیل پذیر ہوا تو یہ بھی تقلید اسلام ہے۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مختلف حیلوں، بہانوں سے جاگیر داروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں کی اقلیت کو عام آدمی کی اکثریت پر مسلط کرنے کے لئے اسلام کے وسیع معاشرتی اور سماجی نظام کی جگہ محدود نظام دے کر ہمیں اسلام کی متعین کردہ منور راہوں سے دور کردیاگیا جو مسلمانوں کے زوال کے اسباب ہیں۔

وطن ِ عزیز میں تعلیم کی شرح جو ہونی چاہئے تھی وہ نہیں ہے، جس کے باعث ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ کرونا کی وبا کے حوالے سے احتیاطی تدابیر سے نابلد ہے، جو اس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے اس کا موثر حل یہ ہے کہ اب ہمیں اسلامی شعائر کا اعادہ کرنا ہوگا اور مساجد کو استعمال کرنا ہوگا۔ انہیں سماجی اور معاشرتی فلاح کا مرکز بنانا ہوگا۔ حکومت وقت کو چاہئے کہ وہ تمام مساجد کے آئمہ کرام اور خطیبوں کی تربیت کر کے اُنہیں اس امر کا پابند بنائے کہ وہ کرونا کی وباء سے تحفظ کے لئے ہر اذان کے ساتھ احتیاطی تدابیر کا لاؤڈ سپیکر پر اعلان کریں اور ساتھ ہی اس امر کا بھی اعلان کریں کہ ہر صاحب استطاعت اپنے ارد گرد رہائش پذیر غریب۔مزدور اور ضرورت مندوں کا خیال رکھے اور خورونوش کی اشیاء ان کو احساس ندامت دلائے بغیر ان تک پہنچائیں، جبکہ حکومت کو چاہئے کہ وہ بجلی، پانی اور گیس کے بلوں میں خاطر خواہ کمی کرے۔ وزارتِ مذہبی امور اور محکمہ اوقاف کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ معاشرتی اور سماجی اصلاح کی اسلامی اصولوں کو اس موذی وبا کے خاتمے کے بعد بھی ہر اذان کے ساتھ دھرانے کا اہتمام کرے تاکہ معاشرے کی تربیت ہو سکے اس کے ساتھ ہی محکمہ بلدیات کو ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ ہر محلے میں محلہ کے چیدہ چیدہ لوگوں کی کمیٹی بنائے اوراس محلہ کے ضرورت مندوں کی فہرست بنائی جائے اور محکمہ سماجی بہبود، زکوٰۃ و عشر اور بیت المال سے ان کی مالی استطاعت کی جائے کہ یہ تمام محکمہ جات بنائے ہی اس مقصد کے لئے گئے ہیں وزیراعظم پاکستان اپنے حالیہ ریلیف پیکیج میں نوجوانوں پر مشتمل کورونا ریلیف ٹائیگرفورس بنانے کا بھی اعلان کیا ہے اس فورس کی افادیت اور اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، مگر اس فورس کی تشکیل،ترتیب اور تربیت میں دو ایک ماہ درکار ہوں گے، جس کے ہم موجودہ ہنگامی حالات میں متحمل نہیں ہو سکتے تو ہمارا وزیراعظم کو مشورہ ہے کہ جب تک ٹائیگر فورس تیار ہو ہمیں چاہئے کہ ہم محکمہ تعلیم اور اوپر ذکر کئے گئے محکموں کے علاوہ وفاقی اور صوبائی ملازمین جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں میں بیٹھے ہیں ان میں چالیس سال سے کم عمر کے افراد کو گھروں سے بلا کر ان سے ریلیف کا کام لیا جائے جو یقینا ملک و قوم کے لئے فائدہ مند ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -