امداد میں رسوا نہ کریں!

امداد میں رسوا نہ کریں!
امداد میں رسوا نہ کریں!

  

ترکی میں سڑک کنارے شہریوں نے امدادی سامان کے تھیلے رکھ دیئے ہیں، جو بھی ضرورت مند ہے وہ وہاں سے سامان لے جا سکتا ہے نہ کسی کو یہ پتہ ہے کہ کس نے سامان رکھا اور نہ ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون ضرورت مند لے گیا ہے۔ ہمارے ہاں نمود و نمائش ایک عجب رسم چل نکلی ہے۔ امداد دینے والے اسی وقت تک تھیلہ یا پیکٹ نہیں پکڑاتے جب تک تصویر نہ کھینچوا لیں۔ آپ اب تک اس حوالے سے سامنے آنے والی تصویریں دیکھ لیں، کسی ایک تصویر میں بھی اگر امداد لینے والا آپ کو مسکراتا یا خوش نظر آیا ہو تو مجھے بتائیں۔ سب مجبوری و مظلومیت کی تصویر بنے کھڑے ہوتے ہیں۔ انہیں مجبوراً تصوری کھنچوانی پڑتی ہے۔ تصویر نہ کھنچوائیں تو امداد نہیں ملتی۔ کئی تصویریں تو ایسی دیکھنے کو ملتی ہیں کہ جنہیں دیکھ کر دل پر چھریاں سی چل جاتی ہیں مثلا ایک آٹے کا چھوٹا سا تھیلہ دس آدمی کسی غریب عورت کو دے رہے ہوں گے۔ ایک تصوری تو ایسی بھی نظر سے گزری کہ ایک سو روپے کا نوٹ پانچ آدمی مل کر ایک بوڑھے ضعیف آدمی کو کیمرے کی طرف نظریں جمائے دے رہے ہیں۔ تصویر دیکھنے والے کو تو شرم آتی ہے، کھنچوانے والے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت غریبوں، بے روز گاروں اور غریبوں کی مدد کرنا انتہائی ضروری بھی ہے اور سب سے بڑی نیکی بھی لیکن اس کا اندازہ ایسا ہونا چاہئے کہ کسی کی عزت نفس بھی متاثر نہ ہو اور امداد بھی ہو جائے۔

ابھی تھوڑی دیر پہلے مجھے کینڈا میں مقیم بڑے بھائی محمد فاروق خاں کا فون آیا۔ وہ پھٹ پڑے کہ پاکستان میں یہ کیا ہو رہا ہے۔

یہ لوگوں کو قطاروں میں کھڑا کر کے بھیک دینے کی طرح امداد کیوں دی جا رہی ہے پھر وہ عوامی نمائندوں پر برس پڑے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایم این ایز اور ایم پی ایز کہاں مر گئے ہیں؟ یہ کون سے بلوں میں گھسے ہوئے ہیں؟ کیا ان کا یہ فرض نہیں کہ اس دور ابتلا میں سامنے آئیں اور اپنے حلقے کے مستحقین میں امدادی اشیاء تقسیم کریں۔ سب اپنے محلات میں سکڑ کر بیٹھ گئے ہیں اور انہوں نے خلقِ خدا کو آزمائش کی اس گھڑی میں بے یارو مدد گار چھوڑ دیا ہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان مدینہ کی ریاست کا تذکرہ کرتے نہیں تھکتے، اگر فلاحی ریاست دیکھنی ہے تو کینیڈا کی ریاست دیکھیں جہاں حکومت نے عام آدمی کو کرونا اثرات سے بچانے کے لئے تاریخ ساز اقدامات کئے ہیں ان کا یہ کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان ٹائیگر فورس بنانے جا رہے ہیں، پہلے انہیں اپنے ارکانِ اسمبلی کو تو کانوں سے پکڑ کر عوام میں بھیجنا چاہئے یہ لوگ کروڑوں روپے انتخابی مہم میں لگا دیتے ہیں اور پھر پانچ سال تک کروڑوں روپے کے فنڈز وصول کرتے ہیں، اس مشکل وقت میں یہ باہر کیوں نہیں آتے اور اپنے جمع شدہ اربوں روپے میں سے چند کروڑ اپنے حلقے کے عوام پر خرچ کیوں نہیں کرتے، انہوں نے شہباز شریف پر بھی سخت تنقید کی، جو لندن سے واپس آ کر صرف ویڈیو کال سے کام چلا رہے ہیں انہوں نے اس حلقے میں بھی کسی امدادی سرگرمی کا اعلان نہیں کیا، جہاں سے وہ ایم این اے منتخب ہوئے ہیں حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں، اگرچہ نیب کی حراست میں ہیں، تاہم ان کے حلقے میں بھی امدادی سامان تقسیم ہونا چاہئے، یہ کام وہ اپنی جماعت سے لے سکتے ہیں۔

بھائی صاحب کی باتیں تو بڑی ٹھیک تھیں، لیکن وہ در حقیقت صورتحال کو دیکھ کر جذباتی ہو رہے تھے۔ انہوں نے کہا سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ پر بھی کڑی تنقید کی، جنہوں نے ہوم ورک کئے بنا کر مکمل لاک ڈاؤن کر دیا تاکہ واہ واہ ہو جائے انہوں نے کہا سندھ حکومت کی طرف سے جو امدادی سامان دیا گیا ہے، اسے دیکھ کر شرم آتی ہے، ایک کلو چاول اور آدھا کلو گھی پر مشتمل امداد کی سندھ کے غریب لوگ ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال رہے ہیں، جو پوری دنیا میں دیکھی جا رہی ہیں کراچی میں لوگ راشن نہ ملنے پر مشتعل ہو رہے ہیں اور یہی صورت حال رہی تو خون خرابہ ہوگا۔ جو باتیں فاروق صاحب کر رہے تھے، وہ یہاں بھی ہو رہی ہیں صاف نظر آ رہا ہے کہ ہمارا متمول طبقہ جس میں عوامی نمائندے اور بڑے صنعت کار و تاجر شامل ہیں، اس صورتِ حال سے بالکل لاپروا نظر آتا ہے۔ گویا کہ اس نے ساری ذمہ داری حکومتوں پر ڈال دی ہے کہ وہ انہیں بھی دیں اور لوگوں کی امداد بھی کریں۔ پنجاب حکومت نے اسی صورت حال میں ایک اچھا فیصلہ کیا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر غریبوں کو فوری امداد پہنچانے کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ حتیٰ کہ ایس ایم ایس کے ذریعے بھی اپنی معلومات بھیج کر غریب آدمی 4 ہزار روپے ماہانہ امداد حاصل کر سکے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ چار ہزار روپے کافی ہوں گے۔ بالکل نہیں، اس مہنگائی کے دور میں تو ان پیسوں سے آٹا بھی پورا نہیں ہو سکے گا۔ کروڑوں افراد کی روٹی دال کا بندوبست کرنے کے لئے معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ حکومت پاکستان اور حکومتِ سندھ نے امدادی اکاؤنٹس قائم کر دیئے ہیں۔ پیسہ اکٹھا کرنے کی ایک منظم دوڑ تو نظر آ رہی ہے لیکن عوام کو ریلیف پہنچانے کی منظم کوششیں ناپید ہیں اس کرونا وائرس نے صرف غریبوں کے لئے ہی مشکلات پیدا نہیں کیں، بلکہ وہ سفید پوش طبقہ بھی جو محنت کر کے اپنی زندگی گزار رہا تھا اس سے شدید متاثر ہوا ہے۔ اس طبقے کی مشکلات اس لئے دہری ہیں کہ یہ اس حالت میں کسی کے سامنے دست سوال بھی دراز نہیں کر سکتا۔ اس کی تو خاموشی اور راز داری سے امداد ہونی چاہئے۔ مگر یہاں تو ہر امداد دینے والا کیمرہ ساتھ لے کر چلتا ہے۔ کئی عورتیں منہ چھپا کے امداد لیتی نظر آتی ہیں لیکن امداد دینے والے کو ان پر رحم نہیں آتا۔ وہ ان کے چھپے ہوئے چہروں کے باوجود تصویر ضرور بنواتے ہیں۔ یہ کیسی وبا کرونا وبا کے ساتھ پھوٹ پڑی ہے، اس وبا نے تو معاشرے کو بالکل ہی ننگا کر دیا ہے۔ چند ہزار روپے کے امدادی پیکٹ بنا کر ہم چل نکلتے ہیں اپنے شکار کی تلاش میں، اسے رسوا کرنے اور اپنی جھوٹی شان بڑھانے کے لئے ہمیں تو درس دیا گیا تھا کہ نیکی کر دریا میں ڈال، اب تو اس وقت تک امداد کی تقسیم شروع نہیں ہوتی جب تک کیمرہ مین نہیں آ جاتا۔

تاہم کچھ اچھے لوگ اور ادارے بھی موجود ہیں کل ہی ایک دوست بتا رہے تھے کہ شہر کے ایک غریب علاقے میں جب لوگ صحیح سو کر اٹھے تو انہوں نے دیکھا کہ ہر گھر کے دروازے پر آئے، دالوں اور چینی پر مشتمل تھیلے پڑے تھے۔ ان پر کسی کا نام تھا اور نہ ہی کسی نے ان سے تصویر کھینچوانے کی فرمائش کی تھی۔ یہ ہے اصل طریقہ امداد کا، اگر آپ امداد کو بھی اپنی جھوٹی امارت دکھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور یہ پیغام دیتے ہیں کہ آپ غریبوں کے ان داتا ہیں، تو آپ سے بڑا کوئی جاہل اور ظالم نہیں امداد کے بارے میں تو کہا گیا ہے کہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو اس کا علم نہ ہو۔ کاش ہم یہ بات سمجھ جائیں، کاش اپنی نیکی کو جھوٹی شان و شوکت بڑھانے کے لئے برباد نہ کریں، کاش دوسروں کی مجبوری اور غربت کو چھپائیں نہ کہ سر عام رسوا کریں۔ کاش اے کاش!

مزید :

رائے -کالم -