کرونا، جغرافیہ اور مشیّتِ ایزدی

کرونا، جغرافیہ اور مشیّتِ ایزدی
کرونا، جغرافیہ اور مشیّتِ ایزدی

  

علم و حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ انسان اپنے ملک کی تاریخ تو بدل سکتا ہے لیکن جغرافیہ تبدیل نہیں کر سکتا۔ یعنی جو خطہ ء ارض جہاں ہے، وہیں رہے گا۔ اس کے ہمسائے بدلتے رہتے ہیں، رقبہ اور آبادی اور آب و ہوا تبدیل ہو سکتی ہے لیکن اس کی لوکیشن نہیں بدلی جا سکتی۔ ہمارے برصغیر کا ایک بڑا حصہ کبھی اشوک کے زیرِنگیں تھا، کبھی اورنگ زیب کے اور کبھی برطانیہ کے۔ اب اس کے کئی ٹکڑے ہو چکے ہیں۔ انڈیا، پاکستان، نیپال، بھوٹان، سکم،بنگلہ دیش، سری لنکا اور برما (اب میانمر) کبھی برطانیہ عظمیٰ کے تسلط میں تھے لیکن یہ برطانیہ عظمیٰ بھی آج کہنے کو آزاد ہے لیکن نہ تو ”عظمیٰ“ ہے اور نہ ہی آزاد ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اب عظمیٰ سے صغریٰ اور آزاد سے غلام ہو چکا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے،1945ء کے بعد برطانیہ اور امریکہ کی حیثیت بندہ و آقا کی ہو چکی ہے۔ برطانیہ اور امریکہ کی تاریخ بدلتی رہی ہے لیکن جغرافیائی ماحول ازل سے ابد تک وہی ہے، اس کو بدلا نہیں جا سکتا کہ یہی مشیّتِ ایزدی ہے۔

خود امریکہ پر نظر ڈالیں …… اس کی دریافت 1492ء میں ہوئی۔ وہ دور مسلمانوں کے کرۂ ارض پر حکمرانی کے ادوار میں ایک عہد آفریں دور تھا۔ برصغیر، مشرقِ وسطیٰ انڈونیشیا اور روس کے جنوب میں وسط ایشیائی ریاستیں مسلمانوں کے کنٹرول میں تھیں۔ یورپ میں سپین اور مالٹا میں اگرچہ صلیبی جنگیں برپا تھیں لیکن پھر بھی اشبیلیہ اور غرناطہ پر مسلمانوں ہی کا قبضہ تھا۔ الحمرا کے محل اور مسجد قرطبہ اسی مسلم دور کی یادگاریں ہیں۔ آج کی پاکستانی نسلِ نو نے جب حال ہی میں غرناطہ کی مسجدوں اور بلند میناروں سے اذانوں کی وائرل ویڈیوز دیکھی اور سنی ہوں گی تو ان کو یہ بتانے والے ایسے لوگ کم کم ہی ہوں گے جو 500سال بعد ان اندلسی مساجد میں اذانوں کی اہمیت (Significance) کا احوال اپنے بچوں کو سنا سکیں گے اور حضرت اقبال کے ان اشعار کی تاریخی تشریح کر سکیں گے جو ان کی ایک شاہکار نظم مسجدِ قرطبہ کا حصہ ہیں:

اے حرمِ قرطبہ! عشق سے تیرا وجود

عشق سراپا دوام، جس میں نہیں رفت و بود

تیرے در و بام پہ وادیٰ ایمن کا نور

تیرا منارِ بلند، جلوہ گہِ جبرئیل

مٹ نہیں سکتا کبھی مردِ مسلماں کہ ہے

اس کی اذانوں سے فاش سّرِ کلیم و خلیل

مردِ سپاہی ہے وہ، اس کی زرہ ’لا الہ‘

سایہء شمشیر میں اس کی پناہ ’لاالہ‘

خود امریکہ کا بھی جغرافیہ دیکھ لیں …… اس کے مشرقی اور مغربی ساحلوں پر بحراوقیانوس اور بحرالکاہل کی ہزاروں میل طویل و فراخ آبی گزرگاہیں ہیں جن کو عبور کرکے دنیا کا کوئی بحری جہاز یا آبدوز نیویارک اور لاس اینجلس کے نزدیک بھی نہیں پھٹک سکتی۔ اس کے شمال میں کینیڈا ہے جو امریکہ کا ایک طفیلی ملک ہے۔اس کے جنوب میں میکسیکو اور امریکہ کے درمیان سرحد کو ٹرمپ نے ایک عظیم اور ہیبت ناک دیوار کھڑی کرکے بند کر دیا ہے۔ امریکی ایڈمنسٹریشن اور پینٹاگون کو زعم تھا کہ امریکہ کا کوئی دشمن کسی بھی بحری یا برّی راستے سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا رخ نہیں کر سکتا۔ لیکن ہم نے ابھی چند ہفتے پہلے سپین کی مساجد میں بھی اذانوں کی گونج سنی اور امریکہ کے طول و عرض میں بھی صلواۃ و درود کی محفلوں کی وڈیوز اور آڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ یہ اس وقت ہوا جب سپین میں خدا کے حکم سے ایک ذرۂ ناچیز نے ایک ایک دن میں سینکڑوں ہزاروں اندلسی عیسائیوں کو وہ دن دکھایا کہ کسی گورے اندلسی کو اپنے ہی ملک میں دفن کے لئے دو گز زمین بھی نہ مل سکی…… یہ مشیتِ ایزدی کا معجزہ نہیں تو اور کیا ہے؟……

اور امریکہ جس کا کچھ ذکر اوپر ہوا اپنے ایشیائی اور افریقی ”مقبوضات“ سے اپنے ٹروپس واپس منگوانے کے لئے بے تاب ہے۔ میں کل امریکہ کے ایک معروف روزنامہ ”آرمی ٹائمز“ میں لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) ڈینیل ڈیوس (Daniel Davis) کا ایک آرٹیکل دیکھ رہا تھا۔ کرنل صاحب 21برس امریکن آرمی میں ملازمت کرنے کے بعد 2015ء میں ریٹائر ہوئے۔وہ لکھتے ہیں: ”افغانستان میں سینئر ترین امریکی کمانڈر، جنرل آسٹن ملّر (Austin Miller) ہے جس نے چند روز پہلے اعلان کیا ہے کہ افغانستان سے امریکی ٹروپس کے انخلاء میں شائد چند روز کی تاخیر ہو جائے۔ اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ کابل و قندھار میں جو امریکن سولجر موجود ہیں، ان میں کرونا وائرس کی ’باقیات‘ موجود ہو سکتی ہیں۔ یہ ایسا وائرس ہے کہ بظاہر اس کا ٹیسٹ Negative بھی آئے تو پھر بھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ اس سولجر میں کرونا کی باقیات موجود نہیں۔ خدشہ ہے کہ وہ مین لینڈ امریکہ میں آ کر ان دوسرے امریکیوں کو بھی مبتلائے عذاب کر دے گا جو بظاہر فی الحال کرونا سے بچے ہوئے ہیں۔ امریکہ میں کرونا وائرس کی ہلاکتوں کی تعداد 2600ہو چکی ہے جبکہ افغانستان میں 19،20 سالہ جنگ میں مارے جانے والے امریکی افسروں اور جوانوں کی کل تعداد 2350تھی!……“

آگے چل کر کرنل ڈینیل ڈیوس لکھتا ہے: ”جنرل ملّر کی رائے صائب معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اس کرونا وائرس نے بعض دوسری صداقتوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔مثلاً اگر امریکہ، افغانستان، عراق اور شام میں اپنے سولجرز کا ناحق خون نہ بہاتا اور اپنے مالی وسائل، امریکی عوام کی فلاح و بہبود پر صرف کرتا اور اس قسم کے وائرسوں کی تحقیقات پر امریکی سائنس دانوں کی خدمات سے استفادہ کرتا تو اس کو یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔ امریکہ نے افغانستان سے فوجیوں کی واپسی میں دو ہفتوں کی تاخیر کر دی ہے۔ لیکن ٹرمپ کو اپنے اس عزم پر قائم رہنا چاہیے کہ کابل سے امریکی افواج کا انخلاء زیادہ دیر تک ملتوی نہ کیا جائے۔آنے والے مہینوں میں امریکہ کی اقتصادی حالت مزید بگڑے گی۔ امریکہ پر اس وقت 24ٹریلین (24000بلین) ڈالر کا قرضہ ہے۔ اس قرض پر سود کی شرح امریکی معیشت کے لئے ناقابلِ تلافی ہوگی۔ آج ہمارے 6000فوجی افریقہ میں تعینات ہیں، 5000عراق میں ہیں اور سینکڑوں شام میں صف بند ہیں۔ گزشتہ دو عشروں کے دوران ہم نے دیکھ لیا ہے کہ ہماری جنگوں نے ہماری سلامتی کو مضبوط نہیں، کمزور کیا ہے۔ آج کل کرونا کی وباء نے امریکی فوجیوں کو اپنے ملک میں کرونا سے لڑنے کی آپشن پر مجبور کر دیا ہے۔ ہماری 22ریاستوں نے نیشنل گارڈز کو کرونا سے ”لڑنے“ کے لئے طلب کر لیا ہے۔ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں ٹروپس کی یہ ”طلبیاں“بڑھنے کا اندیشہ نوشتہ ء دیوار معلوم ہو رہا ہے۔ چنانچہ غیر ملکوں میں ہر ماہ اربوں ڈالر خرچ کرنا اور اپنے ملک سے غفلت برتنا ہماری سلامتی کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے…… اور اس خطرے کا سدباب کرنے کے لئے ہمیں سمندر پار اپنے فوجیوں کو ان ممالک سے واپس بلا لینا چاہیے جن کا ذکر میں نے اوپر کی سطور میں کیا ہے“۔

کرنل ڈینیل کا یہ اقتباس طویل ہو گیا لیکن میں نے یہ حوالہ اس لئے قارئین کی خدمت میں پیش کیا ہے کہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں انڈیا کو بھی مقبوضہ جموں اور کشمیر سے اپنے فوجیوں کو واپس بلوا کر ان کو کرونا کی تباہ کاریوں کے مداوے کی مساعی میں ڈیپلائے کرنا پڑے گا…… امریکہ کی طرح انڈیا کا مشرقی ساحل جس پر کول کتہ اور چنائی کی مشہور بندرگاہیں اور اس کا مغربی ساحل جس پر ممبئی اور کوچی کی بندرگاہیں ہیں ان کو سیل کیا جا سکتا ہے، لیکن انڈیا کے شمال مشرق میں بنگلہ دیش کی زمینی سرحد کو بند نہیں کیا جا سکتا۔ مزید برآں اس حقیقت کا اعتراف بھی انڈیا کو کرنا چاہیے کہ اگرچہ مودی نے پچھلے دنوں ملک بھر میں 21روز کا لاک ڈاؤن نافذ کر دیا تھا۔ لیکن اب ان کو اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہے اور وہ ان کروڑوں لوگوں سے معافی مانگ رہے ہیں جو اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے کرونا سے زیادہ بھوک کے عذاب کا شکار ہیں۔ اور اگر انڈیا اپنی بحری اور بری سرحدات کو بند بھی کر دے تو فضائی حدود کو کس طرح بند کرے گا؟…… یہ بھی تو انڈیا کی جغرافیائی مجبوری ہے…… انڈیا میں آج بھی یورپ اور خلیجی ریاستوں سے فضائی ٹریفک کی تعداد 80,000 افراد روزانہ ہے…… اور ان یورپی ممالک میں کرونا کی وباء پھیلی ہوئی ہے۔ یہ غیر ملکی انڈین شہری دھڑا دھڑ اپنے دیش کا رخ کررہے ہیں اور اپنے ساتھ کرونا وائرس بھی ساتھ لائیں گے۔ ان کی ایک کثیر تعداد ملک کے طول و عرض کے شہری، قصباتی اور دیہاتی علاقوں کے رہنے والی ہے۔ یہ ”مسافر“ جب وطن واپس آ رہے ہیں تو کرونا وائرس سے لدے پھندے ہیں …… انشاء اللہ…… اس کی مزید تفصیل بعد میں!…… ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -