پاکستان میں کرونا وائرس چین سے مختلف، زیادہ خطرہ نہیں: ڈاکٹر عطاء الرحمن

  پاکستان میں کرونا وائرس چین سے مختلف، زیادہ خطرہ نہیں: ڈاکٹر عطاء الرحمن

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عطاء الرحمن نے کہا ہے کہ عالمی وبا کرونا وائرس پر پاکستان میں ہونے والی تحقیق میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ڈاکٹر عطاء الرحمن نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کرونا وائرس میں پائے جانے والے کروموسومز چین سے مختلف نکلے ہیں۔ ان کروموسومز کی شدت چینی وائرس میں موجود کروموسومز جتنی خطرناک نہیں ہے۔ تحقیق جمیل الرحمن سینٹر فار جینومکس ریسرچ کراچی میں کی گئی ہے جبکہ یہ سینٹر کراچی یونیورسٹی کے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈبیالوجیکل سینٹر کاحصہ ہے۔ ڈاکٹر عطاء الرحمن نے کہا کہ دوا کی تیاری میں اربوں ڈالر اور کئی سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی کمیٹی پہلے سے موجود دوائیوں اور ان کا کرونا پر اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ کمیٹی کا اجلاس اسی ہفتے بلایا گیا ہے۔یاد رہے کہ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کرونا وائرس کے حوالے سے اہم سوالات کے جوابات کے لیے معروف سائنسدان ڈاکٹر عطاء الرحمن کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ڈاکٹر عطاء الرحمن کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی ہے جو کرونا ویکسین اور اس سے متعلق دیگر امور پر ریسرچ کرے گی اور عالمی سطح پر ریسرچ اداروں کی معاونت بھی حاصل کرے گی۔

ڈاکٹرعطاء الرحمن

مزید :

صفحہ آخر -