کرونا سے مزید 3افراد جاں بحق، رائیونڈ تبلیغی مرکز قرنطینہ قرار، کابینہ نے کرونا ریلیف فنڈز کیلئے 200ارب روپے کا پیکیج کی باضابطہ منظوری دیدی، اشیائے خورونوش کی ہر گز قلت نہیں ہونی چاہئے:وزیراعظم عمران خان

        کرونا سے مزید 3افراد جاں بحق، رائیونڈ تبلیغی مرکز قرنطینہ قرار، ...

  

اسلام آباد/لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،جنرل رپورٹر)سندھ میں 2 اور خیبرپختونخوا میں مزید ایک شخص کرونا وائرس سے انتقال کرگیا، مہلک وائرس سے پاکستان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 26 ہوگئی،پاکستان بھر سے کرونا کے مزید 238کیس سامنے آنے پر متاثرہ افراد کی تعداد 2001 تک جاپہنچی۔منگل کو دو ہلاکتیں سندھ جبکہ ایک خیبر پختونخوا میں ہوئی۔ صوبہ سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کراچی میں مہلک وائرس سے مزید 2 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں 74 اور 70 سالہ شہری کرونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے، 74 سالہ شہری دمے اور شوگر کا مریض تھا جس کا 26 مارچ کو ٹیسٹ کیا گیا تھا جو مثبت آیا تھا۔ شہر میں دوسری ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والا کراچی کا 70 سالہ رہائشی بھی مختلف بیماریوں میں مبتلا تھا جس میں انتقال کے بعد ٹیسٹ رپورٹ میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔ خیبرپختونخوا میں بھی ایک شخص جاں بحق ہوا جس کی تصدیق صوبائی حکومت کے فوکل پرسن نے کی۔فوکل پرسن کے مطابق ایک ہفتے قبل انتقال کر جانے والے شخص کی رپورٹ گزشتہ روز موصول ہوئی جس میں کرونا کی تصدیق ہوئی۔پنجاب میں 678،سندھ میں 676،خیبرپختونخوا253،گلگت بلتستان178،بلوچستان154،اسلام آباد58اورآزادکشمیر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد6ہوگئی۔دوسری جانب کرونا وائرس کے بڑھتے خدشات کے پیش نظر رائیونڈ سٹی کو مکمل لاک ڈاؤن جبکہ رائے ونڈ تبلیغی مرکز کو قرنطینہ قرار دے دیا گیا ہے۔رائیونڈ سٹی میں موجود تمام جنرل سٹورز اور دکانیں بند کروا دی گئیں۔ اسسٹنٹ کمشنر عدنان رشید کے مطابق یہ ایکشن وائرس بڑھنے کے خدشات کے پیش نظر لیا گیا ہے۔ رائیونڈ میں ابتدائی طور پر 3 روز تک مکمل لاک ڈاؤن رہے گا۔محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رائیونڈ میں کیسز سامنے آنے پر حکومت کی جانب سے کابینہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں فیصلہ لیا گیا۔

ہلاکتیں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ریلیف پیکیج کی منظوری دے دی گئی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ملک میں آٹے سمیت اشیاء خورونوش کی قلت نہیں ہونی چاہیے اور قیمتوں پر بھی نظر رکھی جائے۔کابینہ اجلاس میں کورونا وائرس کے باعث ملک کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا گیا جبکہ کابینہ کو بریفنگ بھی دی گئی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ملک میں آٹے سمیت اشیاء خورونوش کی قلت نہیں ہونی چاہیے اور قیمتوں پر بھی نظر رکھی جائے۔وزیرِ اعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ ملک کے تمام صوبوں سے کرونا سے متاثرہ مریضوں، ہسپتالوں میں سہولیات، ٹیسٹنگ کٹس، وینٹی لیٹرز کی دستیابی وغیرہ سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل مزید منظم کیا جائے اور اس سلسلے میں کورآڈینیشن کو مزید مستحکم بنایا جائے،ضلعی انتظامیہ، سیاسی قیادت اور رضا کاروں کے مربوط نیٹ ورک کے قیام کا مقصد ملک کے طول و عرض میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے، ریلیف کی فراہمی مکمل میرٹ پر یقینی بنائی جائے گی اور اس ضمن میں کسی قسم کی تفریق یا امتیازی سلوک کی شکایت برداشت نہیں جائے گی۔ذرائع کے مطابق وزیر مراد سعید اور فیصل واوڈا نے کہا کہ کرونا کے حوالے سے وزیراعظم کے بر وقت اقدامات کو نمایاں انداز میں پیش نہیں کیا جا سکا۔ وزیراعظم نے ایکسپورٹرز کا مال روکے جانے کی اطلاعات کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ گڈزٹرانسپورٹ سمیت ایکسپورٹرز کا مال نہیں روکا جانا چاہئے، متعلقہ وزرات اور حکام معاملے کودیکھیں۔کابینہ ارکان نے ٹرانسپورٹرز کے لئے مخصوص ڈھابہ ہوٹلز کھولے جانے کی بھی تجویز دی۔بعدازاں حماد اظہر اور ڈاکٹر ظفر مرزا کے ہمراہ میڈیا بریفنگ کے دوران اسد عمر نے کہا کہ کرونا کا مسئلہ وفاقی حکومت یا کسی خاص صوبائی حکومت کا مسئلہ نہیں، یہ کسی ایک ملک کا بھی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے تو تمام فیصلے مل کر اور مربوط طریقے سے کرنے کے لیے قومی رابطہ کمیٹی قائم کی گئی تھی جس کے 5اجلاس ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومی رابطہ کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ آپریشنل سطح پر تعاون بڑھانے کے لیے آپس میں ہم آہنگی کو بہتر کیا جائے تاکہ کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے مربوط طریقے سے کام کیا جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے نیشنل کمانڈ سینٹر قائم کیا گیا ہے جس میں منعقدہ اجلاس میں وفاق کے ساتھ صوبوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے، سینٹر کا مقصد صوبوں کی آواز وفاق تک پہنچانا اور وفاق کے فیصلوں پر صوبوں کے ذریعے عمل درآمد کرانا ہے، اس میں عسکری ادارے بھی شامل ہیں اور لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان کو سینٹر کے آپریشنز کا سربراہ بنایا گیا ہے۔اسد عمر نے کہا کہ 'موجودہ صورتحال میں عالمی قیادت کو جو فیصلے کرنے ہیں وہ یہ کیسے توازن پیدا کیا جائے، ایک طرف آپ کو بیماری کو پھیلنے سے روکنا ہے اور دوسرا یہ اس سے کہیں ایسی صورتحال نہ پیدا ہو کہ لوگوں پر معاشی دباؤ بڑھے اور معاشرے میں بھوک اور افلاس پھیل جائے۔انہوں نے کہا کہ کابینہ میں اس پر بھی ہوئی کہ وہ شہری جو کورونا وائرس کا شکار ہوجاتے ہیں ہم نے وہ ماحول نہیں بنانا جس سے وہ معاشرے کے مجرم لگیں، یہ اخلاقی طور پر غلط بات ہے دوسرا اس سے یہ خطرہ بھی پیدا ہورہا ہے کہ لوگ پھر بتائیں گے نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مختلف صوبوں نے مختلف نوعیت کی بندشیں لگائی ہیں، قومی رابطہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں بات چیت کے ذریعے کوشش کریں گے اس حوالے سے ایک مربوط اعلان ہو اور امید ہے کہ واضح حکمت عملی کا اعلان کردیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت بڑھانا بھی ضروری ہے، 13مارچ کو ہمارے پاس 30ہزار لوگوں کے ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت موجود تھی وہ صلاحیت کل بڑھ کر 2 لاکھ 80 ہوجائے گی اور امید ہے کہ 15 اپریل تک ہمارے پاس 9 لاکھ ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت ہوگی۔وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر نے وفاقی کابینہ کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 'چند روز قبل حکومت نے معاشی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا تھا، گزشتہ روز اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پیکیج کی منظوری دی تھی، آج کابینہ نے بھی اس پیکیج کی منظوری دے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پیکیج میں دیہاڑی دار مزدوروں کے 200 ارب روپے رکھے گئے ہیں، صنعتوں کے قرضوں کے سود کی ادائیگیوں کے لیے 6 ماہ کی تاخیر کے انتظامات کیے گئے ہیں، مستحق افراد کی تعداد بڑھانے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں، یوٹیلیٹی اسٹورز کے لیے 50 ارب روپے رکھے گئے ہیں، گندم کی خریداری کے لیے ریکارڈ 280 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی اور بجلی و گیس کے بلوں کی ادائیگی میں تاخیر کے لیے بندوبست کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آج کل لاک ڈان کی صورتحال میں ہے، اس معاشی ریلیف پیکیج کے ذریعے ہم نے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہماری روز مرہ کی اشیا کی پیداوار اور ترسیل کو یقینی بنایا جائے۔اس موقع پر معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ 'چند ہسپتالوں میں جس طرح کرونا کے مریضوں سے برتا ؤکیا جارہا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جارہا ہے جیسے وہ مجرم ہوں، اس کا نقصان یہ ہوگا کہ لوگ خوفزہ ہوجائیں گے اور سامنے نہیں آئیں گے۔ظفر مرزا نے ایک بار پھر شہریوں پر زور دیا کہ وہ سماجی فاصلے سے متعلق ہدایات پر عمل کریں تاکہ ملک میں وائرس کے پھیلا ؤکو محدود کیا جاسکے۔علاوہ ازیں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈٰیا کو بریفنگ میں معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اپوزیشن لیڈر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کرونا وائرس کی آڑ میں گند کھیل شروع کر دیا۔فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ قومی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والے عوام دوست نہیں ہو سکتے۔ پوزیشن لیڈر اپنے آپ کوزندہ رکھنے کے لیے تنقید کرتے ہیں۔ وہ اپنی کرونا زدہ سوچ سے اجتناب کریں۔ان کا کہنا تھا کہ عوام گندے سیاسی کھیل کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اپوزیشن لیڈر کا منفی رویہ ہماری کوششوں کو کمزور کر رہا ہے۔ شہباز شریف اپنے آپ کو قرنطینہ کریں، مثبت تجاویز دیں تو عمل کریں گے۔ بغض، عناد اور ہٹ دھرمی کی عینک اتار کر حقائق بیان کریں۔ وہ پنجاب میں دودھ کی نہریں نہیں چھوڑ کر گئے تھے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کو مشورہ دیا کہ وہ کورونا ریلیف فنڈ میں اپنے اثاثوں سے کچھ رقم عطیہ کرکے عوام دوست ہونے کا ثبوت دیں۔معاون خصوصی نے کہاکہ ملک اس وقت ایمرجنسی کی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ہم نے حق داروں تک ان کا حق پہنچانا ہے۔۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں چاروں صوبوں میں گڈزٹرانسپورٹ کھولنے کا فیصلہ ہوا۔ سندھ میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے گڈزٹرانسپورٹ کومسائل کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نے رینجرز کو سندھ میں گڈز ٹرانسپورٹ کے مسائل کو حل کرنے کی خصوصی ہدایت کی۔

کابینہ/بریفنگ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) کرونا وائرس دنیا کے تمام ممالک تک پہنچ گیا، متاثرین کی تعداد 8لاکھ37ہزار سے بڑھ گئی، 41 ہزار سے زائد انسان لقمہ اجل بن گئے۔تفصیلات کے مطابق 24 گھنٹوں میں اٹلی میں مزید 837 شہریوں کی اموات ہوگئیں، تعداد 12ہزار 428 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرین کی تعداد 1 لاکھ5ہزار سے بڑھ گئی۔سپین میں مزید 553 افراد موت کے منہ میں چلے گئے، مرنے والوں کی تعداد 8ہزار 269 ہوگئی، فرانس میں ایک دن میں مزید 499 شہریوں کی اموات ہوئیں، مرنے والوں کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے بڑھ گئی،،ساڑھے سات ہزار نئے مریض سامنے کے بعد فرانس میں متاثرین کی تعداد52ہزار128 تک پہنچ گئی۔امریکا میں مزید 290 اموات ہوئیں، کل تعداد چین کی اموات سے بڑھ گئی، امریکا میں 24 گھنٹوں میں مزید 290 افراد وبا کا نشانہ بنے جبکہ 12ہزار 730 نئے کیسز سامنے ا?ئے، امریکا میں متاثرین 1لاکھ76 ہزار سے تجاوز کرگئی جبکہ ہلاک ہونے والوں کی ٹوٹل تعداد 3501 ہو گئی ہے۔بلجیم میں کورونا وائرس نے 192 شہریوں کی زندگیوں کا چراغ گل کردیا،ہالینڈ میں 175 مریض ہلاک ہوئے، ایران میں مزید 141،ترکی میں 46، انڈونشیا میں 14، عراق میں 4، سعودی عرب میں 2 جبکہ متحدہ عرب امارات میں مزید ایک مریض جاں بحق ہوگیا۔بھارت میں 31 مارچ کی شام تک کیسز کی مجموعی تعداد 1251 سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 32 تک جا پہنچی ہے۔روس میں کرونا وائرس کے ایک ہی دن میں نئے 500 کیسز سامنے آنے کے بعد دارالحکومت ماسکو سمیت کئی علاقوں میں لوگوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندی عائد کردی گئی جبکہ وبا سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلانے والے افراد کے لیے سزا بھی متعین کردی گئی۔روس میں 31 مارچ تک کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 2337 تک جا پہنچی جبکہ وہاں 17 ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔منگل کو فلپائن میں مزید 10افراد وائرس سے ہلاک ہوئے جس سے ملک میں مرنے والوں کی تعداد 88ہوگئی ہے۔اس کے علاوہ مزید 538افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس سے متاثرہ افراد کی تعداد 2ہزار 84ہو گئی ہے۔تھائی لینڈ میں بھی مزید 127کیسز کا اضافہ ہوا ہے جس سے ملک میں مجموعی متاثرہ افراد کی تعداد ایک ہزار 651 ہو گئی ہے جبکہ اب تک 10افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔جرمنی میں بھی کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے اب تک ملک بھر میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 67ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ملک میں 24گھنٹے کے دوران مزید 128افراد کی اموات کے نتیجے میں مجموعی طور پر 682افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ نیویارک میں میتوں کی منتقلی کیلئے کنٹینرز کا استعمال جاری ہے۔دوسری جانب 5 منٹ میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرنے والی امریکی کمپنی کی کٹ پیش کر دی۔

کرونا ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -