ہلکی پُھلکی باتیں

ہلکی پُھلکی باتیں
 ہلکی پُھلکی باتیں

  

کرونا نے حرکت کو محدود کردیا ہے، اس لئے کرونا کی آفت زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔ حرکت محدود نہ ہوتی تو ایسی بدحواسی نہ چھاتی!

حرکت کوزندگی اس لئے کہا جاتا ہے کہ حرکت انسان کو تھکاتی ہے اور اسے آرام کی قدر آتی ہے۔ اب جبکہ آرام ہی آرام ہے تو بھی لگتا ہے کہ ایک آرام ہی ہے جو کہ نہیں ہے!

ہمارے ایک پٹھان دوست کا اصرار ہے کہ حکومت ٹرانسپورٹ کھول دے باقی چاہے ساری دنیا بند کردے کیونکہ اس کا ٹرانسپورٹ کا بزنس ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ رینٹ اے کار کی ایک بڑی کمپنی کا گزشتہ 35برسوں سے مالک و مختار ہے مگر ان دنوں کہتا پایا جاتا ہے کہ وہ ایک ٹرک خرید کر ڈرائیوری کرے گا کیونکہ حکومت نے ٹرکوں کی آمدورفت پر پابندی نہیں لگائی ہے!...بیچارہ حضرت انسان بلکہ بیچارہ پٹھان!

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

خدا کا شکر ہے کہ انسان نے اس قدر ترقی کرلی ہے کہ آج کرونا کے شکار مریضوں کا علاج ہو رہا ہے۔ وگرنہ وہ وقت بھی تھا جب کوڑھ کے مریضوں کو آبادی سے دور گڑھا کھود کر پھینک دیا جاتا تھا اور کوئی ان کا پرسان حال نہ ہوتا تھا، بلکہ ایسا کرنے والے کا پوری کی پوری آبادی سوشل بائیکاٹ کردیا کرتی تھی!

وفاقی حکومت کرونا کو روکنے کے لئے اس لئے کچھ نہیں کر رہی ہے ابھی کرونا پھیلا نہیں ہے، حالانکہ جب کرونا پھیلے گا تو حکومت کچھ بھی کرنے کے قابل نہ رہے گی، اسی لئے عمران خان چاہتے ہیں کہ جب تک کرونا نہیں پھیلتا تب تک عوام حکومت پر نہ رہیں بلکہ اپنی روزی روٹی خود کمائیں!

وفاقی حکومت کی کاروائیوں سے لگتا ہے کہ عمران خان اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عوام کب تک گھروں میں بیٹھ کر کچھ نہ کئے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں۔ اگر لوگ بغیر کام کاج کے گھروں میں زندہ رہنے کا گر سیکھ گئے تو ایک ہماری حکومت ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی حکومتوں کے وارے نیارے ہو جائیں گے کیونکہ دنیا میں اکثر حکومتیں تو پہلے ہی کچھ نہیں کرتی ہیں اور خالی عوام کے ٹیکسوں پر عیش کرتی ہیں۔اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوگا کہ نظام ہستی حکومتوں کے دم سے نہیں بلکہ کسی اور طاقت کے سہارے چل رہا ہے۔ ایک چھوٹے سے شیر خوار بچے کی ہی مثال لے لیجئے جو خالی شیرِ مادر پر پل جاتا ہے، اس کو دال روٹی کی ضرورت ہوتی ہے نہ برگر کی، پھل فروٹ چاہئے ہوتا ہے نہ آلو گوشت!

امریکی ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ لوگ ایک طرح کی زندگی سے اس قدر تنگ آسکتے ہیں کہ دنیا میں خود کشیوں کا رجحان بڑھ سکتا ہے، جن کے روزگار کی بندش ہو رہی ہے ان کے لئے یہ صورت حال عذاب بنتی چلی جائے گی اور اس عالم میں مضبوط اعصاب ہی محفوظ اعصاب ثابت ہوں گے۔

آج سے چالیس پچاس سال پیشتر جب زندگی میں حرکت اس قدر بے قابو نہ ہوئی تھی تب ہر گھر کے آنگن میں صبح و شام گپیں لگاکرتی تھیں، گھر کا سربراہ حقہ لے کر صحن میں بیٹھ جایا کرتا تھا اور کیا بیوی کیا بچے ہر کوئی گپیں ہانکا کرتا تھا لیکن پھر گزشتہ بیس پچیس برسوں سے وہ رجحان ختم ہوگیا تھا کیونکہ گھر کا سربراہ پیسہ بنانے کی مشین بن گیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ پچھلے ڈیڑھ دو ہفتوں سے پچاس سال پہلے کا پاکستان پلٹ آیا ہے، گھروں کے مرد اور عورتیں ستر اسی فیصد وقت اکٹھے گزار رہے ہیں، ایک دوسرے کے معاملات میں دلچسپی لے رہے ہیں، عین ممکن ہے کہ اس سے معاشرتی مسائل میں کمی آجائے کیونکہ ایک دوسرے کے معاملات میں دلچسپی باہمی مشاورت کی راہ ہموار کرتی ہے، لوگ ایک دوسرے کو سننا شروع کردیتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کی ماننا شروع کردیں گے۔ وگرنہ تو گھریلو عورتیں اس انتظار میں رہتی تھیں کہ کب گھر کے مرد گھر سے جائیں اور وہ اپنی مرضی سے گھر کو چلائیں۔ دوسری جانب مرد حضرات نے بھی باہر کے اس قدر جھنجھٹ پالے ہوتے کہ ان کے پاس گھریلو معاملات کے لئے وقت ہی نہ تھا۔ اس لئے ہو سکتا ہے اس زحمت سے رحمت نمودار ہو جائے اور معاشرہ سکھ کا سانس لینا شروع کردے جو نفسا نفسی اور ماروماری کی آماجگاہ بنا ہوا تھا!

مزید :

رائے -کالم -