فوڈ سیفٹی ٹیموں کامختلف شہروں میں آپریشن،163پوائنٹس کو نوٹس

  فوڈ سیفٹی ٹیموں کامختلف شہروں میں آپریشن،163پوائنٹس کو نوٹس

  

ملتان (سٹاف رپورٹر) فوڈ سیفٹی ٹیموں نے ملتان، بہاولپور اور ڈی جی خان ڈویڑن کے مختلف اضلاع میں کاروائیاں کرتے ہوئے 170 فوڈ پوائنٹس کو وزٹ کیاجبکہ 163 پوائنٹس کو بہتری کے لیے اصلاحی نوٹسز جاری کیے۔جنوبی پنجاب میں مختلف فوڈ پوائنٹس کی چیکنگ کے دوران تھرمل گنز کی مدد سے شاپس میں موجود دوکانداروں اور دیگرورکرز کی سکریننگ کی گئی، لیہ (بقیہ نمبر42صفحہ7پر)

میں واقع کریانہ سٹور کو کھلے ملاوٹی مصالحہ جات کی فروخت پر 05 سو روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈاتھارٹی عرفان نواز میمن کا کہنا تھا کہ قوت مدافعت کو بڑھانے میں خالص خوراک کو عوام تک پہنچانا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ وبائی صورتحال میں انسانی زندگی کم سے کم متاثر ہو.مزید تفصیلات کے مطابق جنوبی پنجاب میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے 170 فوڈ پوائنٹس کی چیکنگ کی جس میں سے 163 شاپس کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے جس میں کاروناوائرس سے بچاؤ کیلئے کتابچے بھی تقسیم کیے گئے۔کروناوائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کیلئے ورکرز کی تھرمل گنز کے ذریعے سکریننگ کی گئی،ماسک، حفاظتی لباس اور سینیٹائزر کے استعمال کو یقینی بنانے کیلئے ہدایات جاری کر دی گئی۔معمولی نقائص جس میں کھلے ملاوٹی مصالحہ جات کی فروخت پر 14 کریانہ اینڈ جنرل سٹور، رینسڈ آئل کے استعمال پر 03 ریسٹورنٹ، زائدالمیعاد دالیں فروخت کرنے پر 03 کریانہ سٹور، سلاٹرنگ کونز نہ ہونے پر 02 برائلر شاپس اور صاف پانی نہ ہونے پر 02 واٹر فلٹریشن پلانٹس کو اصلاح کیلئے وارننگ نوٹسز بھی جاری کیے گئے۔اسی طرح لیہ میں کھلے مصالحہ جات فروخت کرنے پر کریانہ سٹور کو 500 روپے جرمانہ عائدکیا اور 200 گرام ایکسپائر کھلے مصالحے موقع پر تلف کیے۔ اسی طرح ملتان ڈویڑن میں 54 فوڈ پوائنٹس کو چیک کیا گیا اور بہتری نوٹسز جاری کیے گئے۔ بہاولپور ڈویڑن میں کاروائیوں کے دوران 60 دوکانوں کو وزٹ کیا جبکہ 55 شاپس،ڈی جی خان ڈویڑن میں 56 شاپس وزٹ اور 54 کو معمولی نقائص پر بہتری نوٹسز جاری کیے.ساتھ ہی وباء سے بچنے کیلئے خاص ہدایاتی بروچرز بھی تقسیم کیے گئے۔ فوڈ سیفٹی ٹیموں نے چیکنگ کے دوران ماسک اور حفاظتی لباس پہن رکھے تھے۔مختلف نقائص اور حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ وباء سے آگاہی کیلئے دوکانداروں کی رہنمائی کی گئی۔

نوٹس

مزید :

ملتان صفحہ آخر -